گرچه مثل غنچه دلگیریم ما
گرچه مثل غنچه دلگیریم ما
گلستان میرد اگر میریم ما
ترجمہ
اگرچہ ہم غنچے کی طرح تنگ دلی اور دبی ہوئی حالت میں ہیں، لیکن اگر ہم مر جائیں تو پورا گلستان مر جاتا ہے۔
تشریح
یہ شعر پوری فصل کا ایک نہایت پُرمعنی اختتام معلوم ہوتا ہے۔ اقبال ایک طرف امت کی موجودہ کیفیت کو “مثلِ غنچہ دلگیر” کہتے ہیں، یعنی سمیٹی ہوئی، دباؤ میں، پوری طرح نہ کھلی ہوئی، اور شاید رنج و تنگی میں گرفتار۔ مگر دوسری طرف وہ اسی امت کے بارے میں ایسا عظیم دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر ہم مر جائیں تو گلستان مر جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر کمزور نظر آنے کے باوجود امتِ اسلامیہ دنیا کی اخلاقی و روحانی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ شعر کے مطابق:
غنچہ دلگیر:
غنچہ ابھی مکمل پھول نہیں بنا ہوتا۔ اس کے اندر رنگ، خوشبو اور وسعت کے امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں، مگر وہ ابھی بند ہوتا ہے۔ “دلگیر” کا لفظ اس بندش میں ایک غم، ایک تنگی اور ایک رکاوٹ کا پہلو شامل کرتا ہے۔ اقبال اس ترکیب سے امت کی اس حالت کی تصویر کھینچتے ہیں جہاں اس کے امکانات تو بہت ہیں، مگر وہ پوری طرح ظاہر نہیں ہو پا رہے۔
یعنی امت مردہ نہیں، مگر دبی ہوئی ہے؛ ختم نہیں، مگر پوری طرح کھلی نہیں؛ اس کے اندر بہار کی صلاحیت موجود ہے، مگر حالات نے اسے سکیڑ رکھا ہے۔
گلستان کی زندگی:
دوسری سطر میں اقبال اچانک زاویہ بدلتے ہیں اور امت کو پورے گلستان کی زندگی سے جوڑ دیتے ہیں۔ “گلستان” یہاں صرف مسلمان دنیا نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب، اخلاقی فضا اور معنوی زندگی کی علامت بن جاتا ہے۔ اگر امتِ اسلامیہ اپنی اصل ذمہ داری ترک کر دے، اپنی روحانی شہادت کھو دے، اور اپنی دعوتی قوت سے محروم ہو جائے تو دنیا کا باغ بھی بے روح ہو جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال ملت کو محض اپنے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے ایک ضروری قوت سمجھتے ہیں۔
کمزوری اور مرکزیت ایک ساتھ:
شعر کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں امت کی عاجزی اور اس کی عظمت دونوں جمع ہیں۔ ایک طرف وہ غنچے کی طرح بند ہے، دوسری طرف اس کی موت سے گلستان کی موت وابستہ ہے۔ اس سے اقبال کی وہ حکمت ظاہر ہوتی ہے جو نہ تو امت کو خود فریبی میں مبتلا ہونے دیتی ہے اور نہ مایوسی میں ڈوبنے دیتی ہے۔
وہ کہتے ہیں: اپنی موجودہ تنگی کو دیکھو، مگر اپنے حقیقی مقام کو بھی پہچانو۔ تمہاری کمزوری حقیقت ہے، لیکن تمہاری ناگزیر اہمیت بھی حقیقت ہے۔
شہادتِ حق کا منصب:
امت کے مرنے سے گلستان کا مر جانا دراصل اس کے شہادتِ حق کے منصب کی طرف اشارہ ہے۔ مسلمان اگر دنیا میں عدل، توحید، اخلاق، رحمت، اخوت اور بندگی کے اصول کو زندہ نہ رکھیں تو انسانیت محض مادیت، طاقت اور نفس پرستی کے بیابان میں بھٹک سکتی ہے۔ امت کا زندہ رہنا صرف اپنے وجود کی بقا نہیں بلکہ عالم میں خدا کی گواہی کا باقی رہنا ہے۔
اسی لیے اقبال امت سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی پژمردگی پر قناعت نہ کرے؛ اسے کھلنا ہے، مہکنا ہے، اور گلستان کی زندگی کا سبب بننا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان اپنی شکستہ حالت دیکھ کر یا تو احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا محض ماضی کے فخر میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ اقبال دونوں رویوں سے نکالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہاں، ہم غنچے کی طرح دبے ہوئے ہیں، مگر یہی آخر حقیقت نہیں۔ ہمارے اندر وہ پیغام موجود ہے جس کے بغیر انسانی گلستان کی معنوی بہار ادھوری رہتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ امت اپنے دل کے سوز، اپنے عشق، اپنی اذان، اور اپنی ابراہیمی نسبت کو پھر سے زندہ کرے۔ تب غنچہ کھلے گا اور گلستان بھی زندہ ہوگا۔
مثال
جیسے ایک باغ میں بعض اوقات مرکزی شاخ بظاہر کمزور دکھائی دیتی ہے، مگر اگر وہی سوکھ جائے تو پورے باغ کی ترتیب اور زندگی متاثر ہو جاتی ہے، ویسے ہی امت کی زندگی پورے عالم کی معنوی زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں امت کی موجودہ تنگ و دبی ہوئی حالت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی اس کی عالمی روحانی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ مسلمان اگر اپنی اصل ذمہ داری سے مر جائیں تو انسانیت کا گلستان بھی بے روح ہو جاتا ہے، اس لیے امت کو اپنی پوشیدہ بہار کو دوبارہ ظاہر کرنا ہوگا۔