رموز بے خودی

آسمان با ما سر پیکار داشت

آسمان با ما سر پیکار داشت

در بغل یک فتنه ی تاتار داشت

ترجمہ

آسمان ہم سے برسرِ پیکار تھا، اور اس نے اپنی آغوش میں ایک تاتاری فتنہ پال رکھا تھا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں مسلمانوں کی تاریخ کے ایک ہولناک دور کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب تاتاری یا منگولی یلغار نے عالمِ اسلام کو شدید صدمہ پہنچایا۔ مگر اقبال کا مقصد صرف تاریخی نوحہ نہیں۔ وہ اس واقعے کو ملت کے امتحان، تقدیر کے تصادم اور تہذیبی بحران کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ “آسمان” سے مراد یہاں زمانہ، گردشِ ایام اور وہ تقدیری ماحول ہے جس نے امت کے مقابل ایک شدید فتنہ کھڑا کر دیا۔ شعر کے مطابق:

آسمان سے مراد:

فارسی و اردو شاعری میں “آسمان” اکثر زمانے، تقدیر، گردشِ حالات اور بیرونی جبر کی علامت ہوتا ہے۔ اقبال جب کہتے ہیں کہ آسمان ہم سے پیکار میں تھا تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ امت پر ایسے حالات آئے جن میں خارجی قوتیں، زمانی گردش اور شدید آزمائش ایک ساتھ جمع ہو گئیں۔ گویا یہ محض ایک حادثہ نہ تھا بلکہ ایک ایسا مرحلہ تھا جس میں پوری تہذیب کو اپنی بنیادوں کے ساتھ آزمایا گیا۔

یہ تعبیر امت کے دکھ کو کائناتی وسعت دیتی ہے۔ یعنی جو کچھ پیش آیا وہ معمولی رکاوٹ نہ تھی بلکہ ایک ایسا تصادم تھا جس میں آفاقی شدت محسوس ہوتی تھی۔

فتنۂ تاتار:

تاتاری فتنہ صرف ایک قوم کی عسکری یلغار نہ تھی بلکہ علم، تہذیب، شہر، نظام اور نفسیات پر حملہ بھی تھا۔ اس نے مسلمانوں کے سیاسی ڈھانچے کو توڑا، شہروں کو ویران کیا، اور ایک عظیم تہذیبی جھٹکا دیا۔ اقبال اسے “فتنہ” کہتے ہیں، کیونکہ یہ صرف بیرونی حملہ نہیں بلکہ انتشار، خوف، تباہی اور باطنی ہلاکت کا مجموعہ تھا۔

فتنے کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف جسمانی نقصان نہیں کرتا بلکہ یقین، اعتماد، توازن اور اجتماعی شعور کو بھی ہلا دیتا ہے۔ اقبال یہی دکھانا چاہتے ہیں کہ امت کی تاریخ میں ایسے زخم آئے ہیں جنہوں نے اس کے پورے وجود کو چیلنج کیا۔

آغوش میں فتنے کا ہونا:

“در بغل” کی تعبیر بہت معنی خیز ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانہ خود اس فتنے کو اپنے سینے میں پال رہا تھا، گویا امتحان اچانک کہیں سے نہیں ٹپکا بلکہ ایک طویل پس منظر رکھتا تھا۔ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بعض اوقات تاریخ کے بڑے بحران بتدریج تیار ہوتے ہیں، اور پھر ایک دن پوری شدت سے ظاہر ہوتے ہیں۔

اس زاویے سے شعر امت کو تنبیہ بھی کرتا ہے کہ فتنے محض حملہ آور کے آنے سے نہیں بنتے؛ ان کی تیاری تاریخ کے باطن میں ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے غفلت، اندرونی کمزوری اور خارجی حالات کے باہمی ربط کو سمجھنا ضروری ہے۔

نوحہ نہیں، بیداری:

اقبال تاریخ کے زخم کو یاد ضرور کرتے ہیں مگر صرف رونے کے لیے نہیں۔ ان کے ہاں ماضی کے سانحات کا ذکر ایک بیداری پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت یہ سمجھے کہ آزمائش اس کی تاریخ کا حصہ رہی ہے، اور اس کی بقا محض آسانیوں سے نہیں بنی۔

اسی لیے اس شعر کے اندر ایک خاموش سوال بھی ہے: جب آسمان پیکار پر اتر آئے اور فتنہ اپنے پورے جبر کے ساتھ سامنے آئے تو امت کی اصل قوت کیا ہوتی ہے؟ اقبال کا جواب پچھلے اشعار میں آ چکا ہے: توحید، ذکر، صداقت اور ابراہیمی اصل۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی امت مختلف نوع کے فتنوں سے دوچار ہے: فکری انتشار، تہذیبی بے سمتی، سیاسی ظلم، اخلاقی کمزوری اور داخلی ٹوٹ پھوٹ۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ بڑے فتنے آسمان سے اچانک نہیں گرتے؛ ان کے اسباب جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں صرف ردعمل نہیں بلکہ دور اندیشی، داخلی اصلاح اور روحانی استحکام کی ضرورت ہے۔

اگر ہم تاریخ کو صرف غم کے طور پر پڑھیں گے تو کمزور ہوں گے، مگر اگر اسے تنبیہ اور بیداری کے طور پر پڑھیں گے تو اس سے قوت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

مثال

جیسے ایک عمارت اچانک گرنے سے پہلے اندر سے دراڑیں پالتی رہتی ہے اور باہر کا طوفان پھر اس کمزوری کو ظاہر کر دیتا ہے، ویسے ہی بڑے تہذیبی فتنے بھی اندرونی و بیرونی اسباب کے جمع ہونے سے امت پر ٹوٹتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں تاتاری فتنہ کو امت کے خلاف زمانے کی شدید آزمائش کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں تاریخ کے زخم کا احساس بھی دلاتا ہے اور یہ سبق بھی دیتا ہے کہ فتنے گہرے اسباب سے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے بقا کے لیے باطنی استحکام اور مسلسل بیداری ضروری ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button