مرگ فرد از خشکی رود حیات
مرگ فرد از خشکی رود حیات
مرگ قوم از ترک مقصود حیات
ترجمہ
فرد کی موت زندگی کی ندی خشک ہو جانے سے ہوتی ہے، اور قوم کی موت زندگی کے مقصد کو چھوڑ دینے سے ہوتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں موت کے دو الگ مفہوم بیان کرتے ہیں۔ فرد کی موت حیاتیاتی ہے: جب اس کے جسم میں حیات کا بہاؤ رک جاتا ہے تو وہ مر جاتا ہے۔ لیکن قوم کی موت محض جسمانی یا عددی نہیں ہوتی۔ قوم اس وقت مرتی ہے جب وہ اپنے “مقصود حیات” کو چھوڑ دیتی ہے، یعنی وہ مقصد جس کے لیے وہ دنیا میں ایک معنی رکھتی تھی، جس نے اس کے افراد کو ایک اخلاقی اور روحانی ربط میں باندھا تھا۔ اقبال کے نزدیک مقصد کا مر جانا قوم کی اصل موت ہے۔ شعر کے مطابق:
رودِ حیات کی خشکی:
فرد کے اندر حیات ایک بہتے ہوئے دریا کی مانند ہے۔ جب یہ بہاؤ جاری ہو تو جسم زندہ رہتا ہے، اور جب یہ خشک ہو جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے۔ اقبال اس مثال سے انسانی موت کی وہ سادہ حقیقت سامنے لاتے ہیں جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ فرد کی موت اندرونی حیاتی قوت کے رک جانے سے ہے۔
لیکن یہ مثال محض فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ اگلی سطر کے لیے تمہید بن جاتی ہے۔ جیسے فرد کی زندگی کسی بہاؤ پر قائم ہے، ویسے ہی قوم کی زندگی بھی ایک بہاؤ پر قائم ہے۔ مگر قوم کے اندر یہ بہاؤ مقصد، ایمان، اخلاق اور عمل کا ہوتا ہے۔
مقصودِ حیات کیا ہے:
“مقصود حیات” وہ اعلیٰ غایت ہے جو قوم کو محض زندہ نہیں رکھتی بلکہ معنی بخشتی ہے۔ ملتِ محمدیہ کے لیے یہ مقصد خدا کی بندگی، عدل کا قیام، خیر کی شہادت، اخلاق کی حفاظت، علم کی ترویج اور انسان کو اس کے رب سے جوڑنے کی خدمت ہے۔ اگر امت اس مقصد سے جڑی رہے تو کمزوری میں بھی زندہ ہے، اور اگر یہ مقصد چھوڑ دے تو طاقت میں بھی مردہ ہے۔
یہ مقصد محض نظری دعویٰ نہیں بلکہ اجتماعی سمت ہے۔ قوم کے ادارے، تعلیم، سیاست، معیشت اور ثقافت اگر اس مقصد سے کٹ جائیں تو قوم ظاہری حرکت کے باوجود اندر سے بکھر جاتی ہے۔
قوم کی موت کا اصل سبب:
اقبال اس شعر کے ذریعے یہ غلط فہمی توڑتے ہیں کہ قومیں صرف حملوں، فقر، کمزوری یا شکست سے مرتی ہیں۔ یہ سب بیرونی اسباب ضرور ہو سکتے ہیں، مگر اصل موت اس وقت آتی ہے جب قوم خود اپنے مقصد سے دست بردار ہو جائے۔ جب اسے اپنے ہونے کا سبب ہی یاد نہ رہے، جب اسے خیر کی ذمہ داری سے رغبت نہ رہے، جب اس کی غیرتِ ایمانی مدھم پڑ جائے، تب اس کے اندر موت اترتی ہے۔
اس لیے قومی احیا کا سوال صرف وسائل کے اضافے کا نہیں بلکہ مقصد کے احیا کا سوال ہے۔ مقصد مر جائے تو دولت بھی لاش اٹھاتی ہے، مقصد زندہ ہو تو فقر بھی قوت بن سکتا ہے۔
حرکت اور ہنگامہ کافی نہیں:
بعض اوقات قومیں بہت مصروف نظر آتی ہیں۔ جلسے، منصوبے، ادارے، بازار، میڈیا اور طاقت سب کچھ موجود ہوتا ہے، مگر اگر ان سب کے پیچھے کوئی بلند مقصد نہ ہو تو یہ حرکت اصل زندگی نہیں بنتی۔ اقبال یہاں باطن کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ زندگی صرف سرگرمی کا نام نہیں؛ صحیح مقصد کے ساتھ جڑی ہوئی سرگرمی کا نام ہے۔
اسی وجہ سے اقبال کے ہاں مقصد کی اصلاح، نیت کی درستی اور اجتماعی ضمیر کی بیداری سب سے اہم چیزیں ہیں۔ وہ قوم کو ظاہری ہجوم سے اٹھا کر باطنی مقصد کی طرف لاتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے لیے سب سے بڑا خطرہ شاید بیرونی دباؤ سے بھی پہلے مقصد کا دھندلا جانا ہے۔ اگر تعلیم صرف روزگار بن جائے، سیاست صرف اقتدار بن جائے، دین صرف نعرہ بن جائے اور زندگی صرف آسائش کی دوڑ بن جائے تو مقصودِ حیات آہستہ آہستہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ اقبال ہمیں اس موت سے خبردار کرتے ہیں۔
زندگی کی تجدید تب ہوگی جب ہم پھر سے یہ طے کریں کہ ہم کون ہیں، کس کی گواہی کے لیے کھڑے ہیں، اور ہمیں دنیا میں کیا خدمت انجام دینی ہے۔ یہی مقصد قوم کی ندی میں پانی واپس لاتا ہے۔
مثال
جیسے ایک ادارہ عمارت، ملازمین اور بجٹ رکھتے ہوئے بھی مردہ ہو سکتا ہے اگر اس کا اصل مشن ختم ہو جائے۔ لیکن اگر اس کا مقصد زندہ ہو تو محدود وسائل کے باوجود وہ اثر پیدا کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح قوم کی زندگی بھی اس کے مقصودِ حیات سے وابستہ ہے، نہ کہ صرف اس کی ظاہری چہل پہل سے۔
خلاصہ
اقبال فرماتے ہیں کہ فرد کی موت حیاتیاتی بہاؤ کے رکنے سے ہے، مگر قوم کی موت اپنے مقصدِ حیات کو چھوڑ دینے سے ہے۔ اس لیے قومی احیا کا مرکز مقصد کی بازیافت، اخلاقی سمت کی درستی اور اجتماعی مشن کی تجدید ہے۔ اگر مقصد زندہ ہو تو قوم زندہ ہے، اور اگر مقصد مر جائے تو ظاہری حرکت بھی حقیقی حیات نہیں رہتی۔
