قوم عیسی بر کلیسا پازده
قوم عیسی بر کلیسا پازده
نقد آئین چلیپا وازده
ترجمہ
عیسیٰ کی امت نے کلیسا کو ٹھوکر مار دی، اور صلیبی دین کے سرمائے کو چھوڑ دیا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں مغربی دنیا کے اس مرحلے کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں مسیحی قومیں خود کلیسا سے دور ہو گئیں اور اس آئین کے اصل سرمائے کو ترک کرنے لگیں جس کے سائے میں وہ صدیوں تک جیتی رہی تھیں۔ پچھلے شعر میں اسقف کی درماندگی تھی، اب اس درماندگی کا نتیجہ سامنے ہے: پیروکار خود چرچ سے بے تعلق ہو گئے۔ یہ محض ادارہ جاتی بغاوت نہیں بلکہ ایک بڑے روحانی انقطاع کی علامت ہے۔ شعر کے مطابق:
قومِ عیسی:
یہاں مراد وہ یورپی معاشرے ہیں جو تاریخی طور پر مسیحی روایت سے وابستہ تھے۔ اقبال ان کی اجتماعی حرکت کو دیکھ رہے ہیں، نہ کہ ہر فرد کی ذاتی حالت کو۔ ان کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ ایک پوری تہذیب اپنے مذہبی مرکز سے دور ہو گئی اور اس نے اپنے روحانی ورثے کو اجتماعی زندگی کی اصل قوت نہ رہنے دیا۔
جب پوری قوم اپنے مرکز سے ہٹنے لگے تو بحران صرف عقیدے کا نہیں، تہذیب کا بھی ہوتا ہے۔
بر کلیسا پازده:
کلیسا کو ٹھوکر مارنا ایک سخت تعبیر ہے۔ اس سے مراد محض تنقید نہیں بلکہ بے اعتنائی، انکار اور دوری ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ چرچ اپنی روحانی قیادت کھو بیٹھا تھا، اس لیے اس کے ماننے والوں نے بھی اسے اپنی اجتماعی نجات اور رہنمائی کا مرکز ماننا چھوڑ دیا۔ یوں مذہب اپنے محافظوں کے ہاتھ سے نہیں، اپنے ہی ماننے والوں کی بے رغبتی سے کمزور ہوا۔
مرکز جب دلوں میں نہ رہے تو عمارتیں باقی رہ کر بھی خلا کو نہیں بھر سکتیں۔
نقد آئین:
“نقد” سے مراد اصل سرمایہ، فوری متاع اور ہاتھ کی دولت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دین کی اصل متاع چھوڑ دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک مذہب صرف رسوم کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک سرمایہ تھا جو روح، اخلاق، معنی اور اجتماعی توازن عطا کر سکتا تھا۔ اسے چھوڑ دینے کے بعد انسان بظاہر آزاد تو ہو جاتا ہے، مگر اندر سے غریب بھی ہو جاتا ہے۔
بعض سرمائے دیر سے پہچانے جاتے ہیں، اور کھونے کے بعد ان کی قیمت زیادہ سمجھ آتی ہے۔
آئینِ چلیپا:
چلیپا یعنی صلیب، مسیحی مذہبی روایت کی مرکزی علامت ہے۔ آئینِ چلیپا کو چھوڑنے سے مراد یہ ہے کہ صلیبی دین کا گہرا روحانی و اخلاقی نظام اجتماعی شعور میں اپنی سابقہ مرکزیت برقرار نہ رکھ سکا۔ اقبال اس واقعے کو محض ایک مذہب کی داخلی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ اس بڑے تہذیبی خلا کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے بعد قومیّت، سیاست اور مادّیت کو میدان میسر آیا۔
جب اعلیٰ علامتوں کا رشتہ دل سے ٹوٹ جائے تو ان کی جگہ جلد کوئی دنیاوی مرکز لے لیتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
یہ شعر ہر اس معاشرے کے لیے تنبیہ ہے جو اپنے روحانی سرمائے کو محض بوجھ سمجھنے لگے۔ اگر قومیں اپنے مذہبی اور اخلاقی مرکز سے رشتہ توڑ دیں تو ابتدا میں انہیں آزادی محسوس ہو سکتی ہے، مگر بعد میں وہ کسی نہ کسی اور معبود کے غلام بن جاتی ہیں: کبھی ریاست، کبھی بازار، کبھی طاقت، کبھی نفس۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل سوال صرف ترک کا نہیں، اس کے بعد آنے والے خالی پن کا بھی ہے۔
اسلامی خودی اپنے سرمائے کو ترک کر کے نہیں، اسے زندہ اور معنی خیز رکھ کر زمانے کا مقابلہ کرتی ہے۔
مثال
اگر کوئی قوم اپنے مذہبی و اخلاقی ورثے کو پرانا کہہ کر چھوڑ دے، مگر اس کے بعد اس کی جگہ صرف صارفیت، سیاسی جوش یا قومی غرور لے لے، تو بظاہر اس نے ایک بوجھ اتارا ہوتا ہے مگر حقیقت میں اپنا سرمایہ گنوا دیا ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق مغربی مسیحی اقوام نے کلیسا سے دور ہو کر اپنے مذہبی سرمایے کو چھوڑ دیا۔ یہی خلا بعد میں قومیّت اور دوسری دنیاوی طاقتوں کے لیے میدان ہموار کرنے والا بنا۔