رموز بے خودی

جوهر ما با مقامی بسته نیست

جوهر ما با مقامی بسته نیست

باده ی تندش بجامی بسته نیست

ترجمہ

ہماری اصل حقیقت کسی ایک مقام سے بندھی ہوئی نہیں، اور اس کی تیز تاثیر رکھنے والی شراب بھی کسی ایک جام میں محدود نہیں رہتی۔

تشریح

اقبال اس شعر میں ملتِ محمدیہ کی باطنی حقیقت کو جغرافیہ، نسل، علاقے اور جامد تہذیبی حدود سے بلند کر کے بیان کرتے ہیں۔ “جوہر” سے مراد وہ اصل روح، وہ مرکزی حقیقت، اور وہ ایمانی ماہیت ہے جس سے ایک زندہ امت بنتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ جوہر کسی ایک مقام سے بندھا نہیں۔ اسی طرح اس امت کے باطن میں جو عشق، حرکت، حرارت اور بیداری کی “باده” ہے، وہ بھی کسی ایک جام، یعنی کسی ایک تاریخی قالب یا ثقافتی ظرف میں قید نہیں ہوتی۔ شعر کے مطابق:

جوہر کی معنویت:

جوہر وہ چیز ہے جو کسی شے کی اصل پہچان بنتی ہے۔ انسان ہو یا امت، اس کی اصل صرف اس کا ظاہری ڈھانچا نہیں بلکہ اس کی باطنی حقیقت ہے۔ اقبال کے نزدیک ملتِ اسلامیہ کا جوہر توحید، رسالت، بندگی، حریت، اخلاقی ذمہ داری اور خدا سے زندہ تعلق ہے۔ چونکہ یہ عناصر مٹی، زبان، سلطنت یا نسل سے بڑے ہیں، اس لیے ان کا مرکز بھی کسی خاص سرزمین میں بند نہیں ہو سکتا۔

امت کی اصل اگر وحی سے بنی ہے تو اس کی نسبت زمین سے پہلے آسمان سے ہے۔

مقام سے آزادی:

“مقام” یہاں صرف جغرافیائی جگہ نہیں بلکہ وہ ہر محدود شناخت بھی ہے جس میں انسان اپنے آپ کو قید کر لیتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو کسی ایک خطے، لسانی غرور یا علاقائی برتری تک محدود نہ کرے۔ یہ نہیں کہ وطن یا تہذیب کی قدر ختم ہو جائے، بلکہ یہ کہ ان سب کی حیثیت اصل کے تابع رہے۔ جب مقام اصل بن جاتا ہے تو امت بٹ جاتی ہے؛ جب جوہر اصل رہتا ہے تو امت پھیلتی ہے۔

یعنی مسلم کی پہچان اس کے نقشے سے کم اور اس کے مرکزِ وفا سے زیادہ ہوتی ہے۔

باده ی تند:

اقبال نے “باده” کا استعارہ بارہا عشق، شوق، سوز، وجدان اور روحانی سرمستی کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہاں “باده ی تند” اس تیز تاثیر رکھنے والی ایمانی قوت کا نام ہے جو انسان کو ساکن نہیں رہنے دیتی۔ یہ وہ طاقت ہے جو قوم کو خواب سے جگاتی، غلامی سے نکالتی، اور رسم پرستی سے آگے بڑھاتی ہے۔ اقبال کہہ رہے ہیں کہ یہ باده کسی ایک جام میں بند نہیں ہوتی، یعنی یہ روحانی قوت ایک ہی تہذیبی سانچے کی محتاج نہیں۔

اسلامی روح جہاں بھی سچے طور پر جاگے، وہیں یہ باده اپنا اثر دکھاتی ہے۔

جام کی حد:

جام سے مراد ظرف ہے، اور ظرف ہمیشہ کسی نہ کسی حد کا حامل ہوتا ہے۔ زبان، ثقافت، سلطنت، رسم، فقہی روایت، یا تاریخی عادت سب کسی نہ کسی درجے میں جام ہیں۔ اقبال ان کی نفی نہیں کرتے، مگر بتاتے ہیں کہ اگر امت اپنی روح کو جام ہی سمجھ بیٹھے تو اصل چیز کھو دے گی۔ باده جام کے لیے نہیں، جام باده کے لیے ہوتا ہے۔ جب ظرف اصل پر غالب آ جائے تو روح خشک ہونے لگتی ہے۔

اس لیے زندہ امت اپنے سانچوں کو بدل سکتی ہے، مگر اپنی روح نہیں کھوتی۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور اکثر اپنی قومی، نسلی یا سیاسی شناختوں میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ امت کی مرکزی روح اوجھل ہونے لگتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اسلامی خودی کا سرچشمہ کسی خاص خطے کی فوقیت نہیں بلکہ وہ وحی پر مبنی جوہر ہے جو ہر جگہ زندہ ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اس جوہر سے جڑ جائیں تو مختلف ماحول امت کو کمزور نہیں کریں گے؛ بلکہ وہ اس کے اظہار کے مختلف میدان بن جائیں گے۔

ملت کی وحدت اسی وقت باقی رہتی ہے جب اس کی باده جاموں سے بڑی رہے۔

مثال

جیسے ایک درخت کی زندگی صرف ایک گملے میں مقید نہیں ہوتی؛ اسے جہاں مناسب زمین ملے وہیں جڑ پکڑ سکتا ہے، اسی طرح اگر امت کی اصل روح زندہ ہو تو وہ مختلف ملکوں اور تہذیبوں میں رہ کر بھی اپنی ایک ہی حقیقت برقرار رکھتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک ملتِ اسلامیہ کی اصل حقیقت کسی ایک مقام، نسل یا تہذیبی ظرف میں محدود نہیں۔ اس کی روحانی شراب ہر جام سے بڑی ہے، اس لیے اس کی حیات آفاقی اور اس کی نسبت غیر مقامی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button