تار ما از زخمه اش لرزان هنوز
تار ما از زخمه اش لرزان هنوز
تازه از تکبیر او ایمان هنوز
ترجمہ
ہمارا تار آج بھی اس کے مضراب سے لرز رہا ہے، اور ہمارا ایمان آج بھی اس کی تکبیر سے تازہ ہے۔
تشریح
اقبال اس شعر میں حسینیت کی زندہ تاثیر کو موسیقی اور تکبیر کے دو نہایت خوب صورت استعاروں میں بیان کرتے ہیں۔ امام حسین کا اثر ماضی میں بند نہیں ہو گیا؛ ان کی ضرب آج بھی امت کے تاروں کو حرکت دے رہی ہے، اور ان کی تکبیر آج بھی ایمان کو نئی تازگی بخش رہی ہے۔ یوں کربلا ایک جاری روحانی کمپن بن جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:
تار کا لرزنا:
تار جب زخمہ کھاتا ہے تو اس میں نغمہ پیدا ہوتا ہے۔ اقبال امت کو ایک ساز کے تار کی طرح دیکھتے ہیں، اور حسین کے عمل کو مضراب کی طرح۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کربلا نے امت کے اندر ایسی جنبش پیدا کی جو صرف ایک لمحے کی نہ تھی؛ اس کی لرزش اب تک جاری ہے۔ یہ لرزش بیداری کی ہے، غیرت کی ہے، یاد کی ہے، اور دل کی زندہ حساسیت کی ہے۔
جو امت اب بھی لرز سکتی ہے، وہ ابھی پوری طرح مردہ نہیں ہوئی۔
زخمه کی معنویت:
“زخمه” یہاں صرف چوٹ نہیں بلکہ وہ تحریک ہے جو ساکن چیز کو نغمہ بنا دیتی ہے۔ حسین کی شہادت امت پر ایسی ہی زخمہ ہے: درد بھی ہے، مگر درد کے اندر بیداری بھی؛ صدمہ بھی ہے، مگر صدمے کے اندر آواز بھی۔ اقبال اس سے بتاتے ہیں کہ بعض زخم زندگی کو بند نہیں کرتے، اسے جاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔
حسینی زخمہ خاموش امت کے اندر سے نغمہِ حق پیدا کرتی ہے۔
تکبیر سے تازگیِ ایمان:
تکبیر محض لفظی نعرہ نہیں، خدا کی بڑائی کو ہر باطل بڑائی پر مقدم کرنے کا اعلان ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ حسین کی تکبیر سے ایمان آج تک تازہ ہے۔ یعنی ان کے “اللہ اکبر” نے امت کو بار بار یاد دلایا کہ کوئی سلطنت، کوئی جبر، کوئی خوف، خدا سے بڑا نہیں۔
یہی تکبیر ایمان کو رسمی حالت سے نکال کر زندہ طاقت بناتی ہے۔
حسینیت کی دائمی تاثیر:
یہ شعر واضح کرتا ہے کہ کربلا صرف “یاد” کا واقعہ نہیں بلکہ “تاثیر” کا واقعہ ہے۔ اگر اس کی تکبیر ایمان کو آج بھی تازہ کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حسینیت زمانے کے فاصلے سے کمزور نہیں ہوتی۔ وہ نسلوں کے بیچ ایک زندہ روحانی کرنٹ کی طرح چلتی ہے۔
اسی لیے اقبال کے ہاں کربلا ایک زندہ نغمہ ہے، نہ کہ صرف ماضی کی خبر۔
آج کے لیے سبق:
آج جب ایمان رسمی، تھکا ہوا یا محض شناختی سطح تک محدود ہو جائے تو اقبال ہمیں حسین کی تکبیر کی طرف لوٹاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم حسین کا ذکر کرتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا ان کی تکبیر ہمارے ایمان کو واقعی تازہ، جرأت مند اور حق شناس بناتی ہے؟
اسلامی حریت اسی وقت تازہ رہتی ہے جب حسینی زخمہ ہمارے دل کے تار کو اب بھی حرکت دے رہی ہو۔
مثال
کبھی کوئی ایک سچا واقعہ، ایک شہادت، یا ایک حق گوئی نسلوں تک لوگوں کے ضمیر کو ہلاتی رہتی ہے۔ لوگ اس سے بار بار حوصلہ، سچائی اور تازگی لیتے ہیں؛ یہی زندہ زخمہ ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امام حسین کا اثر آج تک امت کے دل کے تار کو لرزا رہا ہے، اور ان کی تکبیر ایمان کو تازہ رکھے ہوئے ہے۔ کربلا اس طرح دائمی بیداری اور روحانی تازگی کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔
