تیغ بهر عزت دین است و بس
تیغ بهر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس
ترجمہ
اس کی تلوار صرف دین کی عزت کے لیے ہے، اور اس کا مقصد محض آئینِ حق کی حفاظت ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امام حسین کے اقدام کے محرک کو نہایت صاف لفظوں میں بیان کرتے ہیں۔ یہاں تلوار اقتدار طلبی، انتقام یا شخصی غلبے کا استعارہ نہیں؛ یہ دین کی عزت، حق کی حرمت، اور آئینِ الٰہی کی حفاظت کا آلہ ہے۔ اقبال اسی ایک شعر سے ان تمام تعبیرات کو رد کر دیتے ہیں جو حسینی قیام کو دنیاوی کشمکش سمجھنا چاہتی ہیں۔ شعر کے مطابق:
عزتِ دین:
اقبال کے نزدیک اصل مسئلہ فقط حکومت کا نہ تھا بلکہ دین کی عزت کا تھا۔ اگر دین کی ظاہری صورت باقی رہے مگر اس کی روح باطل اقتدار کے ہاتھ میں گروی ہو جائے تو عزت مجروح ہو جاتی ہے۔ امام حسین کا قیام اسی مجروح عزت کی پاسبانی تھا۔ دین کی عزت کا مطلب یہ ہے کہ حق کو جھوٹ کے ہاتھ فروخت نہ ہونے دیا جائے، اور نبوی امانت کو یزیدی مصلحت کے تحت مسخ نہ ہونے دیا جائے۔
اسی لیے حسینی تلوار دفاعِ دین ہے، نہ کہ دنیا طلبی کا ہتھیار۔
تیغ کی معنویت:
یہاں “تیغ” صرف عسکری قوت نہیں بلکہ فیصلہ، انکار، قیام اور جرأت کی علامت بھی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم یہ سمجھیں کہ بعض اوقات دین کی حرمت صرف وعظ سے نہیں بچتی؛ اسے عملی مزاحمت، قربانی اور خطرہ مول لینے والی قوت بھی چاہیے ہوتی ہے۔ جب استبداد دین کے نام پر قبضہ جمانے لگے تو تیغِ حق ہی عزتِ دین کو محفوظ رکھتی ہے۔
یہ تیغ جبر کے لیے نہیں، جبر کے خلاف اٹھتی ہے۔
حفظِ آئین:
“آئین” سے مراد وہ دینی و اخلاقی نظام ہے جو قرآن، سنت، حریت، عدل، شوریٰ اور بندگیِ حق سے مل کر بنتا ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ امام حسین کا مقصد کسی نئے نظام کی خود ساختہ بنیاد نہ تھی، بلکہ اسی اصل آئین کی حفاظت تھی جو نبوی امانت کے طور پر امت کے پاس تھا۔ گویا وہ بانی نہیں، پاسبان ہیں۔
یہ پاسبانی ہی حسینی عمل کو شرعی و تہذیبی جواز دیتی ہے۔
کربلا کی نیت کا معیار:
اگر اس قیام کے محرک کو سمجھنا ہو تو وسائل، تعداد، اندازِ سفر اور اہلِ بیت کی معیت کے ساتھ اس شعر کو بھی پڑھنا چاہیے۔ اقبال بار بار واضح کرتے ہیں کہ مقصد آئین کی حفاظت تھا۔ کربلا میں خون بہا، مگر آئین بچ گیا؛ اہلِ بیت نے مصیبت اٹھائی، مگر نبوی حرمت محفوظ رہی؛ سلطنت نہ ملی، مگر دین کی روح سلامت رہی۔
یہی نتیجہ حسینی مقصد کی سچائی پر مہر لگاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سے لوگ دین کا نام لیتے ہیں مگر ان کا عمل دین کی عزت کے بجائے اپنی عزت، اپنے گروہ یا اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سچا دینی اقدام وہی ہے جس کا مرکز “عزتِ دین” اور “حفظِ آئین” ہو، نہ کہ شخصی بڑائی۔
اسلامی حریت اسی وقت معتبر رہتی ہے جب اس کا مقصد اپنی فتح نہیں بلکہ دین کی حرمت ہو۔
مثال
اگر کوئی شخص حق کے لیے کھڑا ہو مگر اس کے فیصلے، زبان اور قربانی سے واضح ہو کہ وہ اپنی کرسی یا شہرت نہیں بلکہ اصول کی حفاظت چاہتا ہے، تو وہ اسی حسینی معیار کے قریب آتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امام حسین کی تیغ صرف عزتِ دین اور حفظِ آئین کے لیے تھی۔ اسی لیے کربلا کو اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ دین کی حرمت کی حفاظت کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
