مدعایش سلطنت بودی اگر
مدعایش سلطنت بودی اگر
خود نکردی با چنین سامان سفر
ترجمہ
اگر اس کا مقصد سلطنت حاصل کرنا ہوتا، تو وہ ایسے سامان کے ساتھ ہرگز سفر نہ کرتا۔
تشریح
یہ شعر امام حسین کے قیام کے مقصد پر لگنے والے سب سے بڑے شبہے کو صاف کرتا ہے۔ اقبال یہاں نہایت سادہ مگر فیصلہ کن دلیل دیتے ہیں: اگر مقصد دنیاوی سلطنت، اقتدار یا حکومت ہوتا تو سفر کی نوعیت، تیاری، رفاقت، انداز اور راستہ کچھ اور ہوتا۔ کربلا کا سفر خود گواہی دے رہا ہے کہ یہ سیاسی مہم جوئی نہیں تھی، بلکہ اصولی، دینی اور قربانی آمیز قیام تھا۔ شعر کے مطابق:
مدعاے سلطنت:
اقبال پہلے اعتراض کا نام لیتے ہیں: کہیں یہ سب سلطنت کے لیے تو نہ تھا؟ یہ سوال تاریخ میں بارہا اٹھا ہے۔ مگر وہ فوراً بتا دیتے ہیں کہ حسینی قیام کو دنیاوی اقتدار کے پیمانے سے پڑھنا بنیادی غلطی ہے۔ سلطنت چاہنے والا شخص قوت، سازوسامان، زمانہ شناسی، پشت پناہی اور محفوظ اتحاد کے بغیر نہیں نکلتا۔
حسینیت کے سفر میں اس دنیاوی اقتدار کی منطق نہیں ملتی۔
با چنین سامان سفر:
“ایسے سامان” سے مراد وہ صورتِ حال ہے جس میں امام حسین نکلے: محدود رفقا، اہلِ خانہ کی معیت، واضح خطرہ، عسکری قلت، اور دنیاوی فتح کی کمزور امکانات۔ یہ سامان کسی سلطنت پسند مہم کا سامان نہیں۔ اقبال اسی ظاہری ترتیب کو حجت بناتے ہیں کہ مقصد اگر اقتدار ہوتا تو تدبیر بالکل مختلف ہوتی۔
یہی قلتِ سامان دراصل مقصد کی طہارت کی دلیل بن جاتی ہے۔
قصد اور طریقے کا ربط:
انسان کے مقصد کو اس کے طریقے سے پہچانا جا سکتا ہے۔ جس کا ارادہ دنیا ہو وہ دنیاوی وسائل کے مطابق چلتا ہے؛ جس کا ارادہ حق ہو وہ حق کے تقاضے کے مطابق چلتا ہے، چاہے دنیاوی حساب کمزور پڑ جائے۔ اقبال کے نزدیک کربلا کا طریقۂ سفر ہی بتا رہا ہے کہ یہاں غلبہ نہیں، گواہی مقصود تھی؛ تخت نہیں، حق کی حفاظت مطلوب تھی۔
اس لیے حسینی سفر نتیجے سے پہلے اپنے اسلوب میں بھی مقدس ہے۔
کربلا کی شہادتی منطق:
اگر امام حسین کا مقصد سلطنت ہوتا تو ان کی شہادت سمجھ سے باہر ہوتی۔ مگر جب مقصد امت کو باطل کی بیعت سے بچانا، حق و باطل کے فرق کو روشن کرنا، اور حریتِ دینی کو زندہ رکھنا ہو تو پھر یہ سفر اپنی پوری ساخت میں معنی خیز ہو جاتا ہے۔ اقبال اسی منطق کو دو مصرعوں میں جمع کر دیتے ہیں۔
یہ سفر اقتدار کی حکمت نہیں، شہادت کی حکمت رکھتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی سچے اصولی قیاموں کو کئی بار دنیاوی سیاست کی نیت سے پڑھا جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ نیت کو صرف نعروں سے نہیں، پورے سفر کے انداز، وسائل، قربانی اور ترجیحات سے پرکھنا چاہیے۔ ہر مزاحمت اقتدار طلبی نہیں ہوتی، اور ہر قلتِ سامان ناکامی کی دلیل نہیں ہوتی۔
اسلامی حریت کے بعض سفر اپنی کامیابی مقصد کی پاکیزگی سے لیتے ہیں، وسائل کی فراوانی سے نہیں۔
مثال
اگر کوئی شخص سچ کے لیے ایسے حالات میں اٹھ کھڑا ہو جہاں فائدہ، غلبہ یا کرسی کا کوئی واضح امکان نہ ہو، تو اس کے قیام کو صرف اقتدار کی بھوک کہہ دینا اس کے مقصد کو سمجھے بغیر فیصلہ کرنا ہوگا۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ امام حسین کا قیام سلطنت کے لیے نہیں تھا، کیونکہ اس سفر کا سارا سامان، ترتیب اور انداز دنیاوی اقتدار کے طریقے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ سفر حق کی گواہی اور حریت کی حفاظت کے لیے تھا۔