رموز بے خودی

تا قیامت قطع استبداد کرد

تا قیامت قطع استبداد کرد

موج خون او چمن ایجاد کرد

ترجمہ

اس نے قیامت تک استبداد کی کمر توڑ دی، اور اس کے خون کی موج نے ایک گلستان پیدا کر دیا۔

تشریح

یہ شعر کربلا کے ابدی سیاسی اور روحانی اثر کو بیان کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک امام حسین کی شہادت صرف اپنے زمانے کے جبر کے خلاف احتجاج نہ تھی؛ اس نے استبداد کے خلاف ایک ایسی دائمی مثال قائم کر دی جو قیامت تک انسانوں کو جگاتی رہے گی۔ ان کے خون کی موج صرف ریت پر بہی نہیں، اس نے دلوں اور تاریخ میں ایک چمن اگایا۔ شعر کے مطابق:

قطع استبداد:

استبداد کا مطلب صرف ظالم حکمران نہیں بلکہ ایسا نظام، مزاج اور فضا ہے جس میں حق دب جائے، آزادی مسموم ہو، اور طاقت خود معیار بن جائے۔ اقبال کہتے ہیں کہ حسینیت نے اس استبداد کو جڑ سے کاٹنے والی مثال قائم کر دی۔ یزیدیت تاریخ میں آتی رہے گی، مگر اب اس کے مقابلے کے لیے حسینی میزان بھی ہمیشہ موجود ہے۔ یہی “قطع” ہے: ظلم کے لیے معنوی معافی کا دروازہ بند ہو جانا۔

اس کے بعد استبداد کبھی بے نقاب ہوئے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔

تا قیامت:

اقبال اثر کو وقتی نہیں مانتے۔ کربلا کا پیغام ایک دور، ایک قوم یا ایک سیاسی مرحلے تک محدود نہیں۔ “تا قیامت” یہ بتاتا ہے کہ حسینی شہادت تاریخ کے اندر ایک دائمی معیار بن گئی ہے۔ جب جب جبر اٹھے گا، حسینیت کا حوالہ انسانوں کے ضمیر میں بولے گا۔

یہی ابدیت کربلا کو واقعے سے بڑھا کر اصول بناتی ہے۔

موج خون:

خون کی موج ایک متحرک تصویر ہے۔ یہ جامد داغ نہیں بلکہ بہتی ہوئی قوت ہے۔ اقبال کے نزدیک حسین کا خون صرف بہا نہیں، چلتا رہا، پھیلتا رہا، بیداری پیدا کرتا رہا، اور نسلوں تک اثر انداز ہوتا رہا۔ اس کی موج نے خوف کے قلعے ہلائے، غلام ذہنوں کو جگایا، اور بندگیِ حق کے تصورات کو تازہ رکھا۔

اس طرح خون یہاں حیات آفرین روانی بن جاتا ہے۔

چمن ایجاد کرد:

چمن تخلیقِ حیات، تنوع، رنگ، نمو اور خوب صورتی کی علامت ہے۔ شہادت نے اگر چمن پیدا کیا تو مطلب یہ ہے کہ اس قربانی کے بعد صرف غم نہ رہا بلکہ ایک تہذیبی، اخلاقی اور روحانی گلستان وجود میں آیا۔ اس گلستان میں حریت کے پھول بھی ہیں، غیرت کے بھی، عشق کے بھی، بیداری کے بھی۔

یوں کربلا ویرانی سے چمن تک کا سفر بن جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج جب ہم استبداد کو صرف طاقت کی صورت میں دیکھتے ہیں تو کبھی اس کے خلاف کھڑے ہونے کے روحانی اور تہذیبی اثر بھول جاتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سچی مزاحمت صرف ظلم کو للکارتی نہیں، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک چمن بھی اگاتی ہے۔ اگر کسی قربانی سے بعد میں آزادی، اخلاق اور سچائی کی نئی فصل نہ اگے تو وہ ابھی حسینی درجے کو نہیں پہنچی۔

اسلامی حریت کی نشانی یہی ہے کہ وہ خون سے بھی چمن پیدا کر سکتی ہے۔

مثال

تاریخ میں بعض شہادتیں اپنے وقت میں صرف نقصان محسوس ہوتی ہیں، مگر بعد میں وہی واقعات ظلم کے خلاف مستقل بیداری، اصولی مزاحمت اور اجتماعی اصلاح کی بنیاد بن جاتے ہیں؛ یہی خون کی موج سے چمن پیدا ہونا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امام حسین کی شہادت نے استبداد کے خلاف ایک دائمی معیار قائم کیا اور ان کے خون کی موج نے امت کے ضمیر میں حریت کا گلستان اگا دیا۔ کربلا اسی لیے قیامت تک بیداری کی قوت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button