رموز بے خودی

عقل در پیچاک اسباب و علل

عقل در پیچاک اسباب و علل

عشق چوگان باز میدان عمل

ترجمہ

عقل اسباب و علل کی پیچیدگیوں میں الجھی رہتی ہے، جبکہ عشق میدانِ عمل میں چوگان کھیلنے والا ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں عقل اور عشق کے مزاجی فرق کو نہایت تصویری انداز میں کھولتے ہیں۔ عقل امکانات، رکاوٹوں، نتائج، وسائل، شرائط اور اسباب کے جال میں اٹکی رہتی ہے؛ عشق ان سب کو دیکھتے ہوئے بھی آخرکار میدان میں اترتا ہے۔ اس کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کتنی گرہیں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ حق کا تقاضا کیا ہے۔ شعر کے مطابق:

اسباب و علل کا پیچاک:

عقل کا کام علتیں تلاش کرنا، نتائج کا اندازہ لگانا، راستے ناپنا اور خطرات سمجھنا ہے۔ یہ کام اپنی جگہ ضروری بھی ہے۔ مگر اقبال کا شکوہ یہ ہے کہ عقل اکثر اسی پیچاک میں پھنس جاتی ہے۔ وہ اتنا سوچتی ہے کہ عمل مؤخر ہوتا رہتا ہے۔ اسباب کی پوری ضمانت چاہنے والی عقل بہت سی جگہوں پر فیصلہ کن قدم اٹھانے سے رہ جاتی ہے۔

یوں علم تو بڑھتا ہے، مگر جرات کم پڑ جاتی ہے۔

چوگان باز عشق:

چوگان کھیلنے والے کے اندر تیزی، جرات، حاضر دماغی اور میدان میں حرکت کا وصف ہوتا ہے۔ اقبال عشق کو “چوگان باز” کہہ کر اسے ساکن جذبہ نہیں بلکہ عملی قوت بتاتے ہیں۔ عشق میدان سے باہر تجزیہ کرتے رہنے کے بجائے خود میدان میں اترتا ہے، ضرب لگاتا ہے، راستہ بناتا ہے اور تقدیر کو عمل کے ذریعے معنی دیتا ہے۔

اس کے لیے میدانِ عمل ہی وہ جگہ ہے جہاں صدق آزماتا اور ثابت ہوتا ہے۔

اسلامی حریت سے تعلق:

اسلامی آزادی محض اندرونی احساس نہیں؛ اسے میدان میں بھی ظاہر ہونا ہوتا ہے۔ ظلم، جبر اور باطل کے مقابلے میں اگر انسان صرف تجزیہ کرتا رہے اور کبھی عمل تک نہ پہنچے تو آزادی خواب ہی رہ جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک ایمان کا عشق آخرکار میدان مانگتا ہے۔ کربلا اسی میدانِ عمل کی بلند ترین شکل ہے۔

وہاں اسباب کی قلت تھی، مگر عمل کی صداقت اپنی انتہا پر تھی۔

عقل کی جگہ اور عشق کی برتری:

یہ شعر عقل کی مکمل نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کی حد بتاتا ہے۔ عقل اسباب سمجھ سکتی ہے، مگر عمل کی آخری جرات اکثر عشق دیتا ہے۔ اگر عقل رہنمائی کرے اور عشق حرکت دے تو انسان مکمل بنتا ہے؛ لیکن اگر عقل ہی آخری حاکم ہو تو وہ عمل کو مؤخر کر سکتی ہے۔ اقبال اسی لیے عشق کو میدان کا اصل بازیکن بناتے ہیں۔

حق کی تاریخ ہمیشہ صرف سمجھنے والوں نے نہیں، عمل کرنے والوں نے بنائی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ حالات، نظام، سیاست، معیشت، اداروں اور رکاوٹوں کی درست تشخیص تو کر لیتے ہیں، مگر عمل تک نہیں پہنچتے۔ اقبال سکھاتے ہیں کہ اسباب کا علم ضروری ہے، لیکن صداقت اگر میدان میں نہ اترے تو آزادی پیدا نہیں ہوتی۔ سچا عشق سوچتا بھی ہے اور قدم بھی اٹھاتا ہے۔

اسلامی حریت کے لیے یہی لازم ہے کہ حق کو صرف سمجھا نہ جائے بلکہ اس کے لیے میدان میں بھی اترا جائے۔

مثال

ایک شخص اگر معاشرے کی خرابیوں پر بہترین تجزیہ تو کرے مگر کبھی سچ بولنے، حق کا ساتھ دینے یا اصلاح کے لیے عملی قدم نہ اٹھائے، تو وہ عقل کے پیچاک میں رہ جاتا ہے؛ میدانِ عمل میں اترنا عشق کا کام ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق عقل اسباب و علل کی گرہوں میں الجھ سکتی ہے، مگر عشق میدانِ عمل میں اتر کر حق کو حرکت دیتا ہے۔ اسی سے آزادی خواب سے حقیقت بنتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button