رموز بے خودی

عقل سفاک است و او سفاک تر

عقل سفاک است و او سفاک تر

پاک تر چالاک تر بیباک تر

ترجمہ

عقل بھی کاٹنے اور فیصلہ کرنے والی قوت ہے، مگر عشق اس سے بھی زیادہ کٹر، زیادہ پاک، زیادہ چست اور زیادہ بے باک ہے۔

تشریح

یہ شعر پہلی نظر میں چونکاتا ہے، کیونکہ “سفاک” کا لفظ عام طور پر خونریزی یا سختی کے مفہوم میں آتا ہے۔ مگر اقبال یہاں اخلاقی و روحانی معنی میں بات کر رہے ہیں۔ عقل بھی چیزوں کو کاٹتی، الگ کرتی، چھانٹتی اور فیصلے صادر کرتی ہے؛ مگر عشق جب حق کے لیے اٹھتا ہے تو وہ نفس، خوف، مصلحت اور باطل سے زیادہ سخت انداز میں قطع تعلق کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:

عقل کی سفاکی:

عقل تحلیل کرتی ہے، تولتی ہے، جوڑتی ہے، توڑتی ہے، اور بہت سی چیزوں کو منفعت و نقصان کے حساب سے کاٹ کر الگ کرتی ہے۔ اس کے اندر ایک طرح کی سرد فیصلہ سازی ہوتی ہے۔ اقبال اس حقیقت کو مانتے ہیں؛ عقل نرم و مبہم قوت نہیں بلکہ تیز اور قاطع بھی ہو سکتی ہے۔

مگر اس کی قاطعی اکثر احتیاط، مصلحت یا خود تحفظ کے دائرے میں رہتی ہے۔

عشق کی سفاکی:

“او سفاک تر” میں عشق کی وہ قوت مراد ہے جو باطل سے رشتہ توڑنے میں زیادہ بے رحم ثابت ہوتی ہے۔ عشق جب حق سے وابستہ ہو تو وہ نفس کے بت، خوف کے جال، دنیاوی حساب اور نام نہاد مصلحتوں کو ایک ایک کر کے کاٹ ڈالتا ہے۔ یہ سفاکی ظلم پر نہیں، بندگیِ غیر پر ہے۔ عشق اس معاملے میں عقل سے زیادہ فیصلہ کن ہے، کیونکہ وہ آدھی وفاداری قبول نہیں کرتا۔

گویا عشق باطل کے ساتھ مصالحت میں عقل سے زیادہ کم روادار ہے۔

پاک تر، چالاک تر، بیباک تر:

اقبال فوراً وضاحت بھی کر دیتے ہیں کہ عشق کی یہ شدت آلودہ یا اندھی نہیں؛ وہ “پاک تر” ہے، یعنی اس کا سرچشمہ بلند تر ہے۔ “چالاک تر” ہے، یعنی وہ محض جذباتی اندھا پن نہیں بلکہ موقع شناس اور راستہ ساز قوت بھی ہے۔ “بیباک تر” ہے، یعنی اس کے سامنے خوف کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح عشق ایک ایسی قوت بنتا ہے جو شدت، طہارت، بصیرت اور جرات سب کو جمع کرتی ہے۔

یہی عشق کربلا میں حق کی طرف پوری طرح کھڑا ہوتا ہے۔

کربلا کی تیاری:

یہ شعر حسینیت کی نفسیات سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ اگر عشق محض نرم جذبہ ہوتا تو وہ یزیدیت کے ساتھ کسی محفوظ سمجھوتے پر آمادہ ہو جاتا۔ مگر اقبال کا عشق بے باک اور قاطع ہے۔ وہ باطل کے سامنے آدھی رضا نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا میں عشق نے خوف، مصلحت اور دنیاوی موازنوں کو کاٹ کر رکھ دیا۔

اس معنی میں عشق کی “سفاکی” باطل کے لیے ہے، نہ کہ حق کے لیے۔

آج کے لیے سبق:

آج کئی بار لوگ حق سے محبت تو کرتے ہیں مگر باطل سے پوری طرح رشتہ نہیں توڑتے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سچا عشق نرم دل ہونے کے ساتھ ساتھ فیصلہ کن بھی ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کن جگہوں پر مصلحت چھوڑنی ہے، کن خوفوں کو کاٹنا ہے، اور کن جھوٹے سہارو ں سے جان چھڑانی ہے۔

اسلامی آزادی کے لیے ایسا عشق درکار ہے جو پاک بھی ہو، ہوشیار بھی، اور جرات مند بھی۔

مثال

ایک اصولی انسان جب کسی ناجائز فائدے، دباؤ یا مفاد سے بے رحمی کے ساتھ انکار کرتا ہے تو اس کا یہ انکار دراصل اسی معنی میں عشق کی قاطعی ہے: وہ غلط سہولت سے رشتہ کاٹ دیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک عشق عقل سے زیادہ فیصلہ کن قوت ہے۔ وہ باطل، خوف اور مصلحت کے بندھنوں کو زیادہ سختی سے توڑتا ہے، مگر اس کی شدت طہارت، بصیرت اور بے باکی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button