چون مراد این آیه ی محکم شنید
چون مراد این آیه ی محکم شنید
دست خویش از آستین بیرون کشید
ترجمہ
جب مراد نے یہ مضبوط اور فیصلہ کن آیت سنی تو اس نے اپنا ہاتھ آستین سے باہر نکال دیا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں حکایت کا ایک نہایت بلند اور لرزا دینے والا لمحہ دکھاتے ہیں۔ ابھی تک قاضی نے اصول بیان کیا تھا کہ قصاص زندگی بخشتا ہے اور سلطان کا خون معمار کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں۔ اب مراد محض سننے والا نہیں رہتا، بلکہ اپنے جسم کو قانون کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ ہاتھ آستین سے نکالنا دراصل قصاص کے لیے آمادگی، جواب دہی کے قبول اور نفس کے جھک جانے کی علامت ہے۔ شعر کے مطابق:
آیہ ی محکم کا اثر:
اقبال نے یہاں “آیہ ی محکم” کہا، یعنی وہ حکم جس میں کوئی ابہام، کمزوری یا مصلحتی گنجائش نہیں۔ جب سلطان یہ آیت سنتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اب بحث ذاتی رائے کی نہیں رہی۔ اب وہ ایک ایسے میزان کے سامنے کھڑا ہے جو آسمانی ہے اور جس کے آگے تخت و تاج کی کوئی خود ساختہ برتری نہیں چل سکتی۔
اسلامی مساوات کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ انسانی مناصب کے اوپر ایک محکم حکم قائم کرتی ہے۔
ہاتھ باہر نکالنے کی معنویت:
یہ ہاتھ وہی عضو ہے جس کے ذریعے بادشاہ حکم دیتا ہے، اشارہ کرتا ہے، قبضہ رکھتا ہے اور قوت ظاہر کرتا ہے۔ اب وہی ہاتھ سزا کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اقبال اس سے بتاتے ہیں کہ سچی توبہ صرف زبان کا اقرار نہیں، بدن کی سطح تک اترنے والی آمادگی بھی ہے۔ مراد یہ نہیں کہتا کہ میں دل سے نادم ہوں، بس اتنا کافی ہے؛ وہ اپنے آپ کو قانون کے سپرد کر دیتا ہے۔
یہی مقام طاقت کو اخلاقی انسانیت میں بدلتا ہے۔
اقبال کے نزدیک خودی کی بلندی:
سطحی نظر سے یہ لگ سکتا ہے کہ سلطان کی یہ کیفیت کمزوری ہے، مگر اقبال کے نزدیک یہ کمزوری نہیں بلکہ خودی کی تطہیر ہے۔ کمزور وہ نہیں جو حق کے سامنے جھکے، بلکہ وہ ہے جو ظلم کے باوجود اپنی انا کے قلعے میں بند رہے۔ مراد کا ہاتھ نکالنا اس کے اندر باقی رہ جانے والی اخلاقی زندگی کا ثبوت ہے۔
جو نفس اپنے آپ کو میزان پر رکھ سکے، اس کے اندر ابھی انسانیت باقی ہے۔
قانون کی برابری کی آخری تصدیق:
یہ شعر اس بات کی عملی تصدیق ہے کہ قاضی کے الفاظ رسمی نہیں تھے۔ اگر بادشاہ واقعی اپنا ہاتھ قصاص کے لیے پیش کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے نہیں، سب کے لیے یکساں ہے۔ اسلامی مساوات یہاں وعظ سے نکل کر ایک زندہ منظر بن جاتی ہے۔
اسی لیے یہ لمحہ محض فردی توبہ نہیں، پوری ملت کے لیے تربیتی اعلان ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی اصل فرق اسی جگہ ظاہر ہوتا ہے کہ کیا بااختیار لوگ صرف معذرت کرتے ہیں یا واقعی اپنے آپ کو قانون، احتساب اور تلافی کے لیے پیش کرتے ہیں۔ اگر ذمہ دار شخص نتیجہ قبول نہ کرے تو اقرار ادھورا رہ جاتا ہے۔ اقبال سکھاتے ہیں کہ وقار کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر بھی وہی اصول نافذ دیکھنے کے لیے تیار ہو جو وہ دوسروں پر نافذ کرتا ہے۔
اسلامی عدل کی جان صرف قانون لکھنے میں نہیں، خود کو اس کے لیے پیش کرنے میں بھی ہے۔
مثال
ایک بڑا افسر اگر اپنی غلطی ثابت ہونے پر صرف بیان نہ دے بلکہ تحقیق، سزا، جرمانے یا عہدے سے دستبرداری جیسے عملی نتائج کو بھی قبول کرے، تو وہ اسی روح کے قریب آتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ سلطان مراد نے قانون کو محض سنا نہیں بلکہ اپنے وجود پر نافذ ہونے کے لیے قبول کیا۔ اپنا ہاتھ پیش کرنا اسلامی مساوات، جواب دہی اور سچی توبہ کی نہایت اونچی مثال ہے۔