آتش سوزنده از چشمش چکید
آتش سوزنده از چشمش چکید
دست آن بیچاره از خنجر برید
ترجمہ
اس کی آنکھوں سے جلتی ہوئی آگ ٹپکی، اور اس بے چارے معمار کا ہاتھ خنجر سے کاٹ دیا گیا۔
تشریح
یہ شعر حکایت کا سب سے دردناک اور فیصلہ کن لمحہ ہے۔ پہلے غضب تھا، اب وہ غضب خون آلود ظلم بن گیا۔ اقبال نے محض اتنا نہیں کہا کہ بادشاہ نے سزا دی، بلکہ تصویری انداز میں کہا کہ آنکھ سے آگ ٹپکی اور ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالمانہ قوت پہلے دل اور نگاہ میں بھڑکتی ہے، پھر بدنوں پر اترتی ہے۔ شعر کے مطابق:
آنکھ کی آگ:
“آتش سوزنده از چشمش چکید” غصے کی انتہائی شدت کا استعارہ ہے۔ اقبال اس طرح بتاتے ہیں کہ ظلم پہلے باطن میں جنم لیتا ہے۔ نگاہ میں تکبر، دل میں قساوت اور نفس میں بے لگامی جمع ہوں تو انسان کو دوسرے کی انسانیت دکھائی ہی نہیں دیتی۔ بادشاہ کی آنکھ یہاں نظر کی نہیں، اقتدار کی وحشت کی علامت بن جاتی ہے۔
اسی لیے اسلامی تربیت میں غضب پر قابو پانا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔
ہاتھ کاٹنے کی معنویت:
معمار کے لیے ہاتھ صرف جسم کا عضو نہیں، اس کے فن، رزق، عزت اور شخصیت کا وسیلہ ہے۔ جب ہاتھ کاٹا گیا تو دراصل اس کی محنت کی پوری دنیا پر ضرب پڑی۔ اقبال ہمیں اس درد کی تہہ دکھاتے ہیں کہ ظلم اکثر وہاں وار کرتا ہے جہاں انسان کی شناخت اور ذریعۂ معاش بستے ہیں۔
گویا یہ جرم صرف جسمانی نہیں، تہذیبی اور معاشی بھی ہے۔
بے چارگی کا لفظ:
“آن بیچاره” کہہ کر اقبال قاری کے دل میں مظلوم کے لیے فوری ہمدردی پیدا کرتے ہیں۔ یہ لفظ محض رحم انگیزی نہیں، ایک اخلاقی فیصلہ بھی ہے: طاقت ور کے غصے کے مقابلے میں ہنرمند کی کمزوری کو نظر انداز نہ کرو۔ اسلامی مساوات اسی مقام پر آزمائی جاتی ہے کہ کیا ہم مظلوم کے زخم کو دیکھتے ہیں یا صرف طاقت کے جلال کو؟
اقبال کی ہمدردی پوری طرح معمار کے ساتھ ہے، مگر وہ اسی سے آگے عدل کی منزل بھی تیار کرتے ہیں۔
دینی ریاست کا امتحان:
یہ واقعہ مسجد کے پس منظر میں ہوا ہے، اس لیے سوال اور بھی شدید ہو جاتا ہے۔ اگر مسجد بنانے والے ہی ظلم کا شکار ہو جائیں تو مذہبی عظمت کا ظاہری دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ اسلام کی شان عمارتوں، جھنڈوں یا خطابات سے نہیں، بلکہ اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ کمزور کے جسم اور حق کی حفاظت کی جاتی ہے یا نہیں۔
جہاں یہ حفاظت نہیں، وہاں دین کا نام رہ جاتا ہے مگر روح زخمی ہو جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج شاید ہاتھ خنجر سے کم کاٹے جاتے ہوں، مگر کردار کشی، نوکری سے محرومی، اجرت کی بندش، بدنامی اور ادارہ جاتی انتقام بھی اسی ظلم کی نئی شکلیں ہیں۔ طاقت ور اگر ایک کاریگر، ملازم یا ماتحت کی زندگی کا ذریعہ چھین لے تو وہ اسی روایت کو آگے بڑھاتا ہے جسے اقبال نے یہاں بے نقاب کیا ہے۔
اسلامی مساوات اس وقت سچی ہوگی جب کمزور کے حق کو طاقت ور کے غصے سے محفوظ رکھا جائے۔
مثال
ایک فنکار یا ملازم کو محض کسی بڑے شخص کی ناراضی کی وجہ سے بلیک لسٹ کر دینا بھی اس کے ہاتھ کاٹنے کے مترادف ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے اس کی روزی، شناخت اور محنت سب متاثر ہوتے ہیں۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال ظالمانہ اقتدار کی انتہا دکھاتے ہیں: غضب جسمانی اور معاشی تباہی میں بدل جاتا ہے۔ معمار کا ہاتھ کاٹنا دراصل ایک ہنرمند انسان کے وقار، رزق اور حق پر حملہ ہے۔