کاهن و پاپا و سلطان و امیر
کاهن و پاپا و سلطان و امیر
بهر یک نخچیر صد نخچیر گیر
ترجمہ
کاہن، پاپا، سلطان اور امیر سب کے سب ایسے شکاری تھے کہ ایک ایک کے لیے سینکڑوں شکار پکڑنے والے موجود تھے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ظلم کی صرف ایک جہت نہیں دکھاتے بلکہ مذہبی، سیاسی اور طبقاتی استحصال کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہیں۔ کاہن، پاپا، سلطان اور امیر مختلف اداروں کے نام ہیں، مگر ان سب کا مشترک کام یہ تھا کہ عام انسان کو شکار بنایا جائے۔ شعر کے مطابق:
استحصال کے مختلف چہرے:
“کاہن” قدیم مذہبی اختیار، “پاپا” کلیسائی مرکز، “سلطان” سیاسی اقتدار، اور “امیر” معاشی و طبقاتی بالادستی کی علامت ہے۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ انسان کے استحصال میں صرف ایک طبقہ ملوث نہ تھا۔ مذہب کی بگڑی ہوئی صورت، سیاست کی خودسری، اور دولت کی نابرابری سب مل کر عام انسان کو دباتی تھیں۔
یہی چیز اس شعر کو صرف تاریخی بیان نہیں بلکہ تہذیبی تنقید بنا دیتی ہے۔
نخچیر گیر کی تعبیر:
شکاری خود شکار نہیں پکڑتا، اس کے لیے پورا نظام ہوتا ہے: جال، کتے، معاون، گھات، اور نشانات۔ “بہر یک نخچیر صد نخچیر گیر” کا مطلب یہ ہے کہ ظلم انفرادی حادثہ نہ تھا بلکہ منظم ڈھانچہ بن چکا تھا۔ ایک بڑے مرکز کے لیے چھوٹے چھوٹے کارندے عام انسانوں کو جکڑتے، پکڑتے اور پیش کرتے تھے۔
یعنی استبداد صرف اوپر کے چند ناموں تک محدود نہیں، اس کے نیچے پورا استحصالی نیٹ ورک بھی کام کرتا تھا۔
دین کے نام پر ظلم:
اقبال کے لیے خاص طور پر خطرناک بات یہ ہے کہ مذہبی نام بھی ظلم کے اس کھیل میں شریک ہو جائیں۔ جب کاہن یا پاپا خدا کے نام کو عام انسان کی آزادی کے خلاف استعمال کرنے لگیں، تو استبداد اور بھی خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ پھر ظلم کو تقدس کا لبادہ بھی مل جاتا ہے۔
محمدی رسالت کی عظمت یہ ہے کہ اس نے اسی مذہبی استحصال کو توڑ کر دین کو انسان کی آزادی کا سرچشمہ بنا دیا۔
سیاسی و معاشی گٹھ جوڑ:
سلطان اور امیر کا ذکر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشی اور سیاسی طاقت اکثر ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں۔ ایک قانون بناتا ہے، دوسرا فائدہ اٹھاتا ہے، اور دونوں مل کر عام انسان کو شکار بناتے ہیں۔ اقبال اس تصویر سے مساوات کی ضرورت بھی واضح کرتے ہیں: جب تک طاقت اور دولت بے لگام رہیں گی، اخوت کمزور اور حریت زخمی رہے گی۔
اس لیے رسالتِ محمدیہ کا پیغام محض عبادت تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی عدل کی بنیاد بھی ہے۔
آج کے لیے پیغام:
آج بھی ہم یہ منظر بدلتی ہوئی شکلوں میں دیکھتے ہیں: مذہبی سرمایہ کاری، سیاسی اشرافیہ، کارپوریٹ طاقت، اور وہ کارندے جو عام آدمی کو خاموش رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر امت کو نبوی آزادی سمجھنی ہے تو اسے ظلم کے ان جڑے ہوئے چہروں کو بھی پہچاننا ہوگا۔
نبوی مساوات کا مطلب ہی یہ ہے کہ کسی طبقے، کسی کاہن یا کسی امیر کو انسانوں کا مالک نہ مانا جائے۔
مثال
کبھی ایک عام آدمی کو دبانے کے لیے صرف ایک ظالم کافی نہیں ہوتا؛ اس کے گرد قانون، دفتر، مہر، مذہبی جواز اور مالی دباؤ سب لگ جاتے ہیں۔ یہی منظم “نخچیر گیری” ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ظلم صرف ایک بادشاہ کا مسئلہ نہ تھا بلکہ مذہبی، سیاسی اور معاشی قوتوں کا مشترک نظام بن چکا تھا۔ محمدی رسالت اسی منظم شکار گاہ کو توڑنے والی آزادی، مساوات اور اخوت کا پیغام ہے۔