رموز بے خودی

قوم را سرمایه ی قوت ازو

قوم را سرمایه ی قوت ازو

حفظ سر وحدت ملت ازو

ترجمہ

قوم کے لیے قوت کا اصل سرمایہ اسی سے ہے، اور ملت کی وحدت کے راز کی حفاظت بھی اسی سے ہوتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کو امت کی طاقت اور اس کی وحدت کے باطنی راز دونوں کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قوم کی اصل قوت اسلحہ، تعداد یا دولت سے پہلے اس ربط میں ہے جو اسے نبوی مرکز سے ملتا ہے، اور اسی ربط میں اس کی وحدت کے راز کا تحفظ بھی پوشیدہ ہے۔ شعر کے مطابق:

سرمایۂ قوت کیا ہے:

سرمایہ وہ بنیاد ہے جس پر منافع، حرکت اور اثر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر امت کے پاس اصل سرمایہ نہ ہو تو بیرونی وسائل بھی دیرپا طاقت پیدا نہیں کرتے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ سرمایہ نبی سے ہے، یعنی ان کی تعلیم، ان کی حکمت، ان کا اخلاقی نمونہ، ان کی سنت اور ان کے لائے ہوئے دین سے۔

یہ سرمایہ دلوں کو مضبوط، عقلوں کو منور، اور اجتماع کو با مقصد بناتا ہے؛ تبھی اس سے حقیقی قوت پیدا ہوتی ہے۔

وحدت کا سر:

“سر” یہاں راز، مرکز اور اصل گرہ کے معنی میں ہے۔ امت کی وحدت کی اصل گرہ نبوی نسبت ہے۔ اگر یہ گرہ محفوظ رہے تو بہت سے اختلافات کے باوجود ربط باقی رہتا ہے۔ مگر اگر یہ راز ہی کمزور ہو جائے تو باہر کی تمام مرمتیں دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔

اقبال کے نزدیک وحدت کسی سیاسی ہنر کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک نبوی روحانی راز ہے۔

تحفظ کیوں اسی سے:

وحدت کا راز صرف پیدا نہیں ہوتا، محفوظ بھی رکھنا پڑتا ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ اس حفاظت کا اصل ذریعہ بھی نبوی مرکز ہے۔ جتنا امت قرآن، سنت، سیرت اور نبوی اخلاق کے قریب ہوگی، اتنا ہی اس کی وحدت کی گرہ مضبوط رہے گی۔ جب یہ قربت کمزور پڑتی ہے تو خود غرضی، تعصب اور چھوٹی شناختیں غالب آنے لگتی ہیں۔

یعنی نبوی نسبت امت کے لیے منبع بھی ہے اور محافظ بھی۔

قوت کی نئی تعریف:

اقبال یہاں قوت کی تعریف بدل دیتے ہیں۔ دنیا طاقت کو عدد، اسلحہ یا اثر و رسوخ سے ناپتی ہے، مگر وہ کہتے ہیں کہ اگر امت کے پاس نبوی مرکز سے جڑی ہوئی روحانی و اخلاقی بنیاد نہ ہو تو یہ سب چیزیں عارضی رہ جائیں گی۔ اصل قوت وہ ہے جو باطن، فکر، کردار اور اجتماع کو ایک ساتھ مضبوط کرے۔

اسی لیے نبی کی نسبت امت کے لیے محض تقدس نہیں، عملی قوت کا سرچشمہ بھی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت اکثر اپنی کمزوری کا علاج صرف بیرونی طاقت بڑھانے میں ڈھونڈتی ہے، حالانکہ اندرونی ربط ٹوٹا ہوا ہو تو یہ علاج آدھا رہ جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اپنی اصل سرمایہ کاری نبوی مرکز کے ساتھ تعلق میں کرو۔ وحدت کا راز اور قوت کا سرمایہ دونوں وہیں سے ملیں گے۔

یہی بنیاد مضبوط ہو تو باقی قوتیں بھی زیادہ بامعنی اور پائیدار بن سکتی ہیں۔

مثال

ایک کمپنی کے پاس بہت سرمایہ ہو، مگر اگر اس کی ٹیم کا اعتماد اور مشترک مقصد ٹوٹ جائے تو وہ دیر تک نہیں چلتی۔ اصل طاقت صرف بجٹ میں نہیں، اندرونی ربط میں بھی ہوتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امت کی اصل قوت اور اس کی وحدت کے راز کا تحفظ دونوں نبوی نسبت سے وابستہ ہیں۔ اگر یہ مرکز محفوظ رہے تو قوم کے پاس زندگی بخش سرمایہ بھی باقی رہتا ہے اور اس کی وحدت کی گرہ بھی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button