رموز بے خودی

از میان بحر او خیزیم ما

از میان بحر او خیزیم ما

مثل موج از هم نمیریزیم ما

ترجمہ

ہم اس کے سمندر ہی سے اٹھتے ہیں، اور موج کی طرح ایک دوسرے سے بکھر نہیں جاتے۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کو ایک سمندر سے تعبیر کرتے ہیں، اور امت کو اس سمندر سے اٹھنے والی موجوں کی طرح دکھاتے ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ عام موجیں ٹوٹ کر جدا ہو جاتی ہیں، جبکہ رسالت کے سمندر سے اٹھنے والی امت اپنی وحدت برقرار رکھتی ہے۔ شعر کے مطابق:

بحرِ نبوی کی تعبیر:

سمندر وسعت، گہرائی، تسلسل اور زندگی کی علامت ہے۔ اقبال کے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور ان کی رسالت ایسا ہی بحر ہے جس سے علم، رحمت، اخلاق، وحدت اور حیات کی بے شمار لہریں اٹھتی ہیں۔ امت اسی بحر سے پیدا ہوئی ہے، اس لیے اس کی اصل نسبت بھی اسی سے ہے۔

جب سرچشمہ اتنا وسیع اور زندہ ہو تو اس سے اٹھنے والی جماعت میں بھی زندگی اور وسعت کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

موج کی مثال:

موج سمندر سے الگ نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں وہ اسی کا حصہ ہوتی ہے۔ اسی طرح امت کے افراد بظاہر الگ الگ شخصیتیں اور قومیں ہیں، مگر اصل میں وہ ایک بڑے نبوی سرچشمے کی لہریں ہیں۔ یہ استعارہ انفرادیت اور وحدت کو ایک ساتھ سمجھاتا ہے: موج اپنی صورت رکھتی ہے مگر سمندر سے جدا نہیں ہوتی۔

یہی اقبال کے تصورِ امت کی لطافت ہے کہ فرد مٹتا نہیں، مگر اپنے اصل سے کٹتا بھی نہیں۔

ہم بکھرتے کیوں نہیں:

اقبال کا اصل دعویٰ یہی ہے کہ رسالت امت کو ایسا ربط دیتی ہے جو محض وقتی اتحاد نہیں۔ اگر نسبتِ نبوی زندہ ہو تو افراد، مدارس، اقوام اور مختلف خطوں کی جماعتیں ایک بنیادی وحدت میں قائم رہ سکتی ہیں۔ بکھراؤ تب بڑھتا ہے جب موج اپنے سمندر کو بھولنے لگے۔

گویا وحدت کی بقا کا راز اپنے سرچشمے کی طرف مسلسل رجوع میں ہے۔

بڑی نسبت کی حفاظت:

اس شعر میں ایک خاموش تنبیہ بھی ہے کہ اگر موج اپنے آپ کو خود کافی سمجھنے لگے تو اس کی حقیقت کمزور ہو جاتی ہے۔ امت کے فرد یا گروہ اگر اپنی جزوی شناختوں کو اصل سمجھنے لگیں تو ان میں بکھراؤ پیدا ہوگا۔ مگر اگر وہ خود کو بحرِ نبوی کی لہریں جانیں تو ان کی وحدت مضبوط رہے گی۔

یعنی اصل حفاظت بڑی نسبت کے شعور میں ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے اندر مختلف مکتب، قومیتیں، ریاستیں اور ترجیحات ہیں۔ اقبال اس شعر کے ذریعے یاد دلاتے ہیں کہ ان تمام ظاہری فرقوں کے نیچے ایک بڑا بحر موجود ہے۔ اگر ہم اسی بحر کے ساتھ اپنا ربط تازہ کریں تو موجیں اپنی صورت برقرار رکھتے ہوئے بھی بکھرنے سے بچ سکتی ہیں۔

رسالت امت کے لیے صرف آغاز نہیں، وحدت کی مسلسل غذا بھی ہے۔

مثال

ایک بڑے ادارے کی مختلف شاخیں اپنی اپنی جگہ الگ دکھائی دیتی ہیں، مگر اگر وہ سب ایک ہی وژن اور ایک ہی اصولی مرکز سے جڑی رہیں تو بکھرتی نہیں۔ جب مرکز کھو جائے تو ہر شاخ اپنا الگ راستہ لینے لگتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امت بحرِ نبوی سے اٹھنے والی موج ہے۔ اس کی وحدت کا راز یہی ہے کہ وہ اپنے اصل سرچشمے سے جڑی رہے اور اپنی جزوی صورتوں کے باوجود بکھرنے نہ پائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button