رموز بے خودی

از رسالت در جهان تکوین ما

از رسالت در جهان تکوین ما

از رسالت دین ما آئین ما

ترجمہ

رسالت ہی سے اس دنیا میں ہماری تشکیل ہوئی، اور رسالت ہی سے ہمارا دین اور ہمارا آئین قائم ہوا۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں رسالت کے اثر کو اور بھی وسیع دائرے میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری صرف روحانی بیداری ہی نہیں، ہماری اجتماعی تشکیل، ہمارا دین، اور ہمارا عملی و تہذیبی نظام بھی رسالت سے پیدا ہوا۔ یعنی امت کی اصل ساخت، اس کی شناخت اور اس کے ضابطے سب رسالت کے گرد تشکیل پاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

تکوینِ امت:

“تکوین” سے مراد بننا، وجود میں آنا، اور ایک خاص صورت اختیار کرنا ہے۔ اقبال کے نزدیک امت محض جغرافیہ، نسل یا زبان سے نہیں بنتی۔ اسے رسالت بناتی ہے۔ پیغمبر کے پیغام کے بغیر لوگ الگ الگ گروہ رہتے ہیں، مگر رسالت انہیں ایک نئے وجود میں ڈھال دیتی ہے۔

اس معنی میں امت کی اصل تخلیقی قوت وحی اور رسالت ہیں، نہ کہ محض انسانی معاہدہ یا وقتی سیاسی ضرورت۔

دین اور آئین دونوں:

اقبال صرف “دین” نہیں کہتے، “آئین” بھی کہتے ہیں۔ دین باطن، عقیدہ، عبادت اور خدا سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ آئین سے مراد عملی ڈھانچا، ضابطہ، اور اجتماعی طرزِ حیات ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ رسالت صرف دل کی کیفیت نہیں بناتی بلکہ زندگی کے چلنے کا طریقہ بھی عطا کرتی ہے۔

یوں رسالت انسان کو صرف اچھا محسوس نہیں کراتی، بلکہ اچھا جینا بھی سکھاتی ہے۔

روح اور نظام کا ربط:

اکثر لوگ دین کو محض شخصی روحانیت تک محدود کر دیتے ہیں، اور کچھ لوگ اسے صرف قانون بنا دیتے ہیں۔ اقبال یہاں ان دونوں انتہاؤں کو جمع کر کے درست توازن قائم کرتے ہیں: رسالت دین بھی دیتی ہے اور آئین بھی۔ یعنی دل بھی سنوارتی ہے اور زندگی کی اجتماعی ساخت بھی۔

یہی جامعیت اسلامی تہذیب کی اصل طاقت ہے کہ اس میں عقیدہ اور تمدن، عبادت اور نظم، محبت اور قانون ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہیں ہوتے۔

رسالت کے بغیر شناخت کا بحران:

اگر امت اپنے دین اور آئین کو رسالت سے جدا کر دے تو یا تو روحانیت بے اثر رسم بن جائے گی یا آئین محض سرد نظام۔ اقبال کے نزدیک امت کی پائیداری اسی میں ہے کہ وہ اپنے دین اور اپنے اجتماعی نظام دونوں کو پیغمبر کی ہدایت سے مسلسل وابستہ رکھے۔

تبھی تکوین زندہ رہتی ہے، ورنہ صورت باقی رہ جاتی ہے اور جان کمزور ہو جاتی ہے۔

آج کی ضرورت:

آج مسلمان دنیا میں شناخت کے بہت سے بحرانوں سے گزر رہے ہیں: کیا دین صرف ذاتی عبادت ہے؟ کیا اجتماعی زندگی مغربی یا مقامی مصلحتوں سے پوری طرح الگ چل سکتی ہے؟ اقبال کا جواب صاف ہے: امت کی اصل تشکیل رسالت سے ہے، لہٰذا اس کے دین اور آئین دونوں کو اسی مرکز سے غذا ملنی چاہیے۔

یہ شعر ہمیں امت کی جامع تعمیر کی طرف واپس بلاتا ہے، جہاں باطن اور نظام ایک ہی نبوی سرچشمے سے نکلتے ہیں۔

مثال

ایک خاندان صرف محبت سے نہیں چلتا اور صرف قواعد سے بھی نہیں چلتا۔ اسے دل کی وابستگی بھی چاہیے اور واضح اصول بھی۔ اسی طرح امت کو دین اور آئین دونوں درکار ہیں، اور اقبال انہیں رسالت سے وابستہ کرتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک رسالت ہی امت کی اصل تشکیل کرتی ہے اور اسی سے اس کا دین بھی پیدا ہوتا ہے اور اس کا آئین بھی۔ اسلامی زندگی کی جامع تعمیر اسی نبوی مرکز سے وابستہ رہنے میں ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button