بهر ما ویرانه ئی آباد کرد
بهر ما ویرانه ئی آباد کرد
طائفان را خانه ئی بنیاد کرد
ترجمہ
اس نے ہمارے لیے ایک ویرانے کو آباد کیا، اور طواف کرنے والوں کے لیے ایک گھر کی بنیاد رکھ دی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیری عظمت کو ایک جامع تصویر میں سمیٹتے ہیں۔ انہوں نے صرف ایک عمارت نہیں بنائی بلکہ ویرانے کو مرکز بنا دیا، خاموش صحرا کو ملت کی دھڑکن میں بدل دیا، اور ایک ایسے گھر کی بنیاد رکھی جس کے گرد صدیوں کی عبادت، حرکت اور وحدت جمع ہونی تھی۔ شعر کے مطابق:
ویرانے کا آباد ہونا:
ویرانہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں نہ آبادی ہو، نہ حرکت، نہ زندگی کا مرکز۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی بے آب و گیاہ مقام کو ایسا آباد کیا کہ وہ پوری امت کے روحانی جغرافیے کا قلب بن گیا۔ اقبال کے نزدیک یہی نبوی و ابراہیمی تعمیر کا کمال ہے: وہ بے معنی جگہوں میں معنی پیدا کرتی ہے اور خاموش زمینوں کو تاریخ کا مرکز بنا دیتی ہے۔
یہ آباد کرنا صرف پتھر جوڑنا نہیں بلکہ نسبت، دعا، قربانی اور مستقبل کی تشکیل کا عمل ہے۔
طائفان کے لیے گھر:
“طائفان” یعنی وہ لوگ جو طواف کریں۔ اس لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ گھر تنہائی کے لیے نہیں، اجتماعی عبادت اور دائمی حرکت کے لیے بنایا گیا۔ طواف میں گردش ہے، مرکزیت ہے، رجوع ہے، اور جماعتی یکسوئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا گھر بنایا جس کے گرد مومن اپنی سمت درست کریں، اپنے دل جوڑیں، اور ایک ہی مرکز کے گرد گھوم کر کثرت کے باوجود وحدت کا تجربہ کریں۔
اقبال کو یہی مرکزیت عزیز ہے، کیونکہ ملت مرکز کے بغیر بکھر جاتی ہے۔
عمارت سے بڑھ کر معنی:
اگر کعبہ کو صرف ایک مذہبی عمارت سمجھا جائے تو شعر کی گہرائی کم ہو جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ گھر امت کے روحانی نظم، تاریخی حافظے اور توحیدی شعور کا سنگِ بنیاد ہے۔ صحرا میں ایک گھر قائم کرنا گویا انسانیت کے لیے ایک ایسا محور قائم کرنا تھا جہاں زمین آسمان کی طرف اشارہ کرنے لگے۔
اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر، رسالت کے اجتماعی اثر کی ایک ابتدائی مثال بن جاتی ہے۔
ویرانہ اور دل:
اس شعر کا ایک باطنی معنی بھی ہے: رسالت ہمیشہ ویران دلوں کو آباد کرتی ہے۔ جیسے صحرا میں گھر بنا، ویسے ہی انسان کے اندر بھی ایک مرکز بنتا ہے۔ جب حق کا پیغام آتا ہے تو منتشر خواہشوں، خالی پن اور معنوی ویرانی کے درمیان ایک “بیت” قائم ہو جاتا ہے جہاں سے عبادت، نظم اور اطمینان کی نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔
یوں بیرونی تعمیر دراصل اندرونی تعمیر کی علامت بھی بن جاتی ہے۔
آج کے لیے پیغام:
امت کی اصل ضرورت ہمیشہ ایسے مراکز رہے ہیں جو اسے جوڑیں، اس کی سمت درست کریں اور اس کے بکھرے ہوئے وجود کو معنی دیں۔ آج بھی اگر ہمارے دل، ہمارے ادارے اور ہماری اجتماعی زندگی مرکز سے کٹ جائیں تو ویرانی بڑھتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ ابراہیمی تعمیر کا مطلب صرف ماضی پر فخر نہیں، بلکہ آج بھی مرکزیت، اجتماعیت اور عبادت کی روح کو زندہ کرنا ہے۔
ویرانے اسی وقت آباد ہوتے ہیں جب ان میں خدا کی نسبت اور امت کی حرکت اکٹھی ہو جائے۔
مثال
کبھی ایک چھوٹا سا مدرسہ، مسجد یا تعلیمی مرکز کسی بستی کی پوری فضا بدل دیتا ہے۔ پہلے جو جگہ بے مقصد تھی، وہی لوگوں کی تربیت، اجتماع اور امید کا مرکز بن جاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض ایک عمارت نہ بنائی بلکہ ویرانے کو امت کا روحانی مرکز بنا دیا۔ رسالت اور توحید کی تعمیر بکھری ہوئی زمین اور بکھرے ہوئے دل دونوں کو آباد کرتی ہے۔