کور ذوقان داستانها ساختند
کور ذوقان داستانها ساختند
وسعت ادراک او نشناختند
ترجمہ
اندھے ذوق والوں نے اس کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں گھڑ لیں، مگر اس کے ادراک کی وسعت کو نہ پہچان سکے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں تاریخ کے ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: عظیم شخصیات کو اکثر سطحی ذوق رکھنے والے لوگ افسانوں، الزاموں یا یک رخے بیانیوں میں قید کر دیتے ہیں، اور ان کی اصل فکری و روحانی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے۔ اقبال کے نزدیک عالمگیر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ شعر کے مطابق:
کور ذوقان کون ہیں:
“کور ذوق” سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس ذوق تو ہے مگر بصیرت نہیں۔ وہ ظاہری رنگ، سنسنی، سیاسی افواہ یا جذباتی قصہ تو پسند کرتے ہیں، مگر شخصیت کے باطن، اس کے مقصد اور اس کے فکری وزن کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اندھا ذوق حقیقت تک نہیں جاتا، صرف اپنی پسند کے قصے تراشتا ہے۔
اقبال اس تعبیر سے بتاتے ہیں کہ ہر روایت علم نہیں ہوتی۔ بہت سی روایات محض کم نظر ذوق کی پیداوار ہوتی ہیں۔
داستان سازی کا مطلب:
داستان بنانا صرف جھوٹ بولنا نہیں، بلکہ کسی پیچیدہ حقیقت کو اس طرح سادہ اور ڈرامائی بنا دینا بھی ہے کہ اس کی اصل ساخت غائب ہو جائے۔ تاریخ میں یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ کوئی شخصیت یا تو فرشتہ بنا دی جاتی ہے یا دیو، جبکہ اس کے اصل محرکات، علمی افق اور باطنی کشمکش پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
اقبال ایسے سطحی بیانیے سے ناخوش ہیں، کیونکہ وہ انسان کو اس کے بڑے معنوی مقام سے گرا دیتے ہیں۔
وسعتِ ادراک:
یہاں شاعر عالمگیر کی سب سے اہم خوبی کے طور پر اس کی “وسعتِ ادراک” کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی وہ محض حکم چلانے والا شخص نہ تھا بلکہ زمانے کے مسائل، دین کے تقاضوں اور تاریخ کے موڑوں کو بڑے پیمانے پر سمجھنے والا ذہن رکھتا تھا۔ وسیع ادراک وہ ہوتا ہے جو ظاہر اور باطن، فوری فائدے اور طویل اثر، سیاست اور روحانیت کو ایک ساتھ دیکھ سکے۔
ایسے ذہن کو سطحی لوگ آسانی سے نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ ان کی نگاہ واقعات پر رک جاتی ہے، معانی تک نہیں پہنچتی۔
اقبال کا تنقیدی منہج:
یہ شعر ہمیں اقبال کا اپنا طریقۂ نظر بھی سکھاتا ہے۔ وہ تاریخ کو صرف مشہور بیانات کے ذریعے نہیں پڑھتے، بلکہ شخصیت کے اندرونی مرکز، اس کے مقصد، اس کے عہد کے بحران اور اس کے اثرات سب کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ سطحی داستانوں سے متاثر نہیں ہوتے۔
گویا اقبال ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ کسی بھی اہم شخصیت پر فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ذوق کو بصیرت کے ساتھ جوڑیں۔
آج کی فکری ضرورت:
آج کے دور میں، جب سوشل میڈیا، فوری تبصرہ اور آدھی معلومات سے بنے ہوئے بیانیے عام ہیں، یہ شعر اور زیادہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔ ہم بھی اکثر لوگوں کو مختصر نعروں، تراشے ہوئے جملوں اور پسندیدہ قصوں میں قید کر دیتے ہیں۔ اس سے نہ تاریخ سمجھ میں آتی ہے، نہ شخصیت، نہ اپنے حال کا درست شعور پیدا ہوتا ہے۔
اقبال کا سبق یہ ہے کہ وسعتِ ادراک کو پہچاننے کے لیے خود اپنے اندر بھی وسعتِ نظر پیدا کرنی پڑتی ہے۔
مثال
کسی بڑے مفکر کے ایک دو جملے نکال کر اس پر فیصلہ کر دینا آسان ہے، مگر اس کے پورے کام، اس کے دور اور اس کی اصل غرض کو سمجھے بغیر یہ فیصلہ اکثر غلط نکلتا ہے۔ یہی “داستان سازی” کی ایک جدید شکل ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق سطحی ذوق رکھنے والے لوگ عظیم شخصیتوں کے گرد قصے تو بہت بُن لیتے ہیں، مگر ان کی اصل بصیرت اور وسعتِ ادراک کو نہیں سمجھ پاتے۔ سچی تاریخ کے لیے گہری نظر ضروری ہے، نہ کہ صرف دل چسپ داستانیں۔
