گر نباشد در میان قلب سلیم
گر نباشد در میان قلب سلیم
فارغ از اندیشه های یأس و بیم
ترجمہ
اگر اس کے اندر قلبِ سلیم نہ ہو، اور وہ یأس و خوف کے خیالوں سے خالی نہ ہو۔
تشریح
علامہ اقبال یہاں اس شرط کو بیان کرتے ہیں جو پچھلے شعر کے اشارے کو واضح کرتی ہے: اگر سینے کے اندر قلبِ سلیم نہ ہو، یعنی ایسا پاک، درست اور متوازن دل نہ ہو جو یأس اور خوف سے آزاد ہو، تو ظاہری قوت اپنا مطلوب اثر نہیں دکھا سکتی۔ شعر کے مطابق:
قلبِ سلیم کی اہمیت:
قلبِ سلیم قرآن کی ایک نہایت بلند تعبیر ہے۔ اس سے مراد ایسا دل ہے جو شرک، نفاق، تکبر، ریا، بےجا خوف اور یأس جیسے امراض سے محفوظ ہو۔ اقبال کے نزدیک یہی دل اصل میدان کا مرکز ہے۔ اگر یہ سلامت ہو تو انسان کی پوری شخصیت میں روشنی، توازن اور مقصد پیدا ہوتا ہے، اور اگر یہ بیمار ہو تو باہر کے وسائل بھی پوری طرح کارآمد نہیں رہتے۔
اس لیے وہ قوت کے باب میں بھی دل کی بات کر رہے ہیں۔ یعنی اصل شجاعت سینے میں پیدا ہوتی ہے، ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز تو بعد کا مرحلہ ہے۔
یأس اور بیم سے فراغت:
اقبال اس دل کے دو بڑے دشمنوں کا نام لیتے ہیں: یأس اور بیم۔ یأس حرکت کو مارتا ہے اور بیم وقار کو کھا جاتا ہے۔ اگر دل انہی اندیشوں سے بھرا رہے تو وہ پاک، صاف اور زندہ نہیں رہتا۔ “فارغ” ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان احتیاط چھوڑ دے یا خطرات سے بےخبر ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان اندیشوں کو دل کا مالک نہ بننے دے۔
یعنی قلبِ سلیم وہ دل ہے جو حالات جانتا ہے مگر ان سے مرعوب نہیں، خطرہ دیکھتا ہے مگر اپنے رب سے کٹا ہوا نہیں ہوتا۔
باطنی بیماری اور ظاہری کمزوری:
شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر دل صحت مند نہ ہو تو باہر کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ انسان کے پاس سامان، مہارت یا موقع ہو سکتا ہے، مگر اس کے دل میں یأس اور بیم بیٹھے ہوں تو اس کی قوت کی روح مر جاتی ہے۔ اقبال اس لیے بار بار باطن کی اصلاح پر زور دیتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہی ظاہری کامیابی کی بھی بنیاد ہے۔
اس سے ایک بڑا اصول بھی نکلتا ہے: بیرونی ہزیمت کا علاج صرف وسائل بڑھانے سے نہیں، باطن کی بیماری دور کرنے سے بھی ہے۔
توحید اور سلامت دل:
قلبِ سلیم کا اصل سرچشمہ توحید ہے۔ جب دل خدا کے ساتھ صحیح نسبت میں ہو، تو وہ غیر اللہ کے خوف سے خالی ہوتا جاتا ہے، اور رحمتِ الٰہی سے ناامید نہیں رہتا۔ یہی توحیدی تعلق دل کو سلامت، باوقار اور روشن بناتا ہے۔
اقبال کی تربیت یہ ہے کہ مردِ مومن کی اصل قوت اس کے اس قلبِ سلیم سے پیدا ہو جس میں حق کی روشنی ہو اور یأس و بیم کی گرد کم ہو گئی ہو۔ یہی سلامت دل اسے درست عمل کی طرف لے جاتا ہے۔
فرد اور ملت کے لیے مطلب:
فرد کی سطح پر یہ شعر کہتا ہے کہ اپنے دل کو دیکھو: کیا اس میں یأس اور خوف نے گھر کر رکھا ہے؟ امت کی سطح پر یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ قوم کا اجتماعی دل بھی سلامت ہونا چاہیے۔ اگر اس کے اجتماعی شعور میں ناامیدی، غلامانہ خوف اور شکست خوردگی بھری ہو تو اس کی بیرونی قوت بھی ڈگمگاتی رہے گی۔
پس اقبال طاقت سے پہلے قلبِ سلیم مانگتے ہیں۔ یہی دل معرکے کو حق کے رنگ میں ڈھالتا ہے اور قوت کو اخلاقی معنی دیتا ہے۔
مثال
ایک ماہر سرجن کے ہاتھ میں بہترین آلات ہوں، مگر اگر اس کا دل خوف اور گھبراہٹ سے بھرا ہو تو وہی اوزار بےاثر یا خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اصل فیصلہ کرنے والی چیز دل اور ہاتھ کی جمعیت ہے، صرف سامان نہیں۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک اصل قوت کے لیے قلبِ سلیم ضروری ہے، یعنی ایسا دل جو یأس اور بیم کے غلبے سے آزاد ہو۔ یہی سلامت دل ظاہری قوت کو بامعنی، مؤثر اور حق کے تابع بناتا ہے۔