بیم ، جاسوسی است از اقلیم مرگ
بیم ، جاسوسی است از اقلیم مرگ
اندرونش تیره مثل میم مرگ
ترجمہ
خوف گویا موت کے علاقے کا جاسوس ہے، اور اس کا باطن موت کے لفظ کے میم کی طرح تاریک ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خوف کی نہایت گہری اور ہلا دینے والی تشخیص کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ خوف کوئی بےضرر کیفیت نہیں، بلکہ وہ موت کی سرزمین کا جاسوس ہے۔ یعنی وہ زندہ انسان کے اندر موت کے اثرات، اس کی تاریکی اور اس کی کمزوری کو پہلے ہی داخل کر دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
جاسوس کی تعبیر:
جاسوس براہِ راست حملہ آور نہیں ہوتا، مگر وہ حملے کی تیاری کرتا ہے، راستے ہموار کرتا ہے، اور اندرونی کمزوریوں کی خبر لا کر دشمن کی مدد کرتا ہے۔ اقبال نے خوف کو جاسوس کہہ کر بتایا کہ یہ انسان کو فوراً ختم نہیں کرتا، بلکہ پہلے اس کے باطن میں داخل ہوتا ہے، اس کے ارادے کو کمزور کرتا ہے، اس کے یقین کو ہلاتا ہے، اور پھر بڑی شکست کا راستہ آسان بنا دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خوف کو معمولی نفسیاتی کیفیت سمجھنا خطرناک ہے۔ یہ باطن میں وہ کام کرتا ہے جو بعد میں عمل، فکر اور کردار کے میدان میں نمایاں ہو جاتا ہے۔
اقلیمِ مرگ کیا ہے:
“اقلیمِ مرگ” صرف جسمانی موت کی دنیا نہیں، بلکہ وہ کیفیت بھی ہے جہاں حرکت رک جائے، ارادہ سست پڑ جائے، روشنی کم ہو جائے، اور زندگی کی قوتیں ماند پڑنے لگیں۔ اقبال کے نزدیک خوف اسی عالم کا نمائندہ ہے۔ وہ انسان کو زندگی کے میدان میں رہتے ہوئے بھی اندر سے مردہ کرنے لگتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کے ہاں زندگی اور موت کے مفہوم صرف حیاتیاتی نہیں، بلکہ اخلاقی، روحانی اور نفسیاتی بھی ہیں۔ خوف اس معنوی موت کا پیش رو بن جاتا ہے۔
میمِ مرگ کی تاریکی:
دوسرے مصرع میں شاعر ایک نہایت فنی اور اشارتی تصویر لاتے ہیں۔ “میمِ مرگ” کی تاریکی سے مراد یہ ہے کہ خوف کا باطن روشن نہیں، اس میں کشادگی نہیں، اس میں امید نہیں۔ وہ ابتدا ہی سے تیرگی، گھٹن اور سیاہی لیے ہوئے ہے۔ اقبال یہ بتا رہے ہیں کہ خوف چاہے کتنی ہی عقلمندی یا احتیاط کے پردے میں کیوں نہ آئے، اس کا اندرونی مزاج حیات بخش نہیں ہوتا۔
یعنی خوف کی اصل طبیعت روشنی پھیلانا نہیں بلکہ روشنی کم کرنا ہے۔ یہی بات اسے توحیدی اعتماد کے بالکل برعکس کھڑا کرتی ہے۔
روحانی پہچان کی ضرورت:
یہ شعر انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ اپنے دل میں اٹھنے والے خوف کو صرف ظاہری ردعمل نہ سمجھے، بلکہ اس کے روحانی منبع کو بھی پہچانے۔ اگر کوئی کیفیت اسے حرکت، جرات، صداقت اور امید سے دور لے جا رہی ہے تو وہ حیات کی رفیق نہیں ہو سکتی۔ اقبال کے نزدیک خوف کو شناخت کر لینا ہی اس پر فتح کی پہلی شرط ہے۔
جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ خوف موت کے اقلیم کا جاسوس ہے، تو وہ اسے اپنے دل کی حکومت نہیں دیتا اور جلد از جلد اس کے علاج کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
ملت کے لیے تنبیہ:
ایک امت کے اندر بھی خوف ابتدا میں فقط احتیاط یا مصلحت معلوم ہو سکتا ہے، مگر آہستہ آہستہ وہ اس کے فکر، سیاست، اخلاق اور تہذیبی خود اعتمادی کو کھا جاتا ہے۔ پھر قوم کھلی شکست سے پہلے ہی اندر سے کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔ اقبال امت کو اسی پوشیدہ جاسوسی سے خبردار کرتے ہیں۔
اس لیے اس شعر کا پیغام صرف فردی اصلاح نہیں بلکہ اجتماعی بقا سے بھی جڑا ہوا ہے: دل کے اندر بیٹھے ہوئے جاسوس کو پہچانو، ورنہ وہ پورے قافلے کو کمزور کر دے گا۔
مثال
بعض اوقات کسی مضبوط قلعے کو باہر سے نہیں بلکہ اندر موجود مخبر کمزور کر دیتا ہے۔ خوف بھی اسی طرح انسان یا قوم کے اندر بیٹھ کر اس کی قوت، اس کے راز اور اس کے حوصلے کو دشمن کے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک خوف موت کے اقلیم کا جاسوس ہے، جو انسان کے باطن میں تاریکی اور کمزوری داخل کرتا ہے۔ اس لیے اسے معمولی کیفیت نہیں بلکہ حیات کے خلاف ایک خطرناک داخلی دشمن سمجھنا چاہیے۔