ضرب تیغ او قوی تر می فتد
ضرب تیغ او قوی تر می فتد
ہم نگاہش مثل خنجر می فتد
ترجمہ
اس کی تلوار کی ضرب اور زیادہ سخت پڑتی ہے، بلکہ اس کی نگاہ بھی خنجر کی طرح وار کرتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خوف کے اس اثر کو بیان کرتے ہیں جو دشمن کی قوت کو اور بڑھا دیتا ہے۔ جب دل باطل کے خوف سے دب جائے تو پھر صرف دشمن کی ظاہری طاقت ہی نہیں بڑھتی، بلکہ اس کا رعب، اس کی نظر اور اس کی موجودگی بھی زیادہ کاری محسوس ہونے لگتی ہے۔ شعر کے مطابق:
خوف دشمن کو بڑا کر دیتا ہے:
دشمن اپنی جگہ جتنا بھی طاقت ور ہو، خوف زدہ دل اس کی طاقت کو اور بڑھا چڑھا کر محسوس کرتا ہے۔ اقبال اسی حقیقت کو “ضرب تیغ او قوی تر” میں سمیٹتے ہیں۔ یعنی خوف کا شکار شخص دشمن کے وار کو اصل سے زیادہ شدید محسوس کرتا ہے، کیونکہ اس کا باطن پہلے ہی سے شکست خوردہ ہوتا ہے۔
یہ صرف میدانِ جنگ کی بات نہیں، بلکہ زندگی کے ہر اس موقع کی بات ہے جہاں انسان حق پر قائم ہونے کے بجائے خوف میں سمٹ جائے۔ خوف باہر کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے اور اندر کے حوصلے کو گھٹا دیتا ہے۔
نگاہ کا خنجر بن جانا:
دوسرے مصرع میں اقبال شدت بڑھا دیتے ہیں: اب صرف تلوار نہیں، نگاہ بھی خنجر بن جاتی ہے۔ یعنی دشمن کی محض نظر، اس کا انداز، اس کا رعب، اس کا لہجہ، سب کچھ خوف زدہ آدمی پر حملہ آور محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ خوف کی نفسیاتی غلامی ہے، جس میں مخالف کی موجودگی بھی باطنی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔
جب انسان کا دل خدا کے بجائے مخلوق کے خوف سے بھر جائے تو وہ دوسروں کے معمولی اشاروں کو بھی فیصلہ کن سمجھنے لگتا ہے۔ یہی کیفیت اسے غیر ضروری طور پر دباتی ہے۔
باطنی شکست کا اثر:
اقبال کے ہاں اصل مسئلہ دشمن کی تلوار نہیں بلکہ اپنے دل کی کمزوری ہے۔ اگر باطن مضبوط ہو تو بیرونی ضرب کا اثر ایک حد تک ہی رہتا ہے، مگر اگر اندر سے آدمی پہلے ہی ہارا ہوا ہو تو معمولی اشارہ بھی زخم بن جاتا ہے۔ اسی لیے اس شعر میں خارجی خطرہ اور داخلی خوف کو ایک ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
یعنی دشمن کی حقیقی قوت سے زیادہ وہ قوت خطرناک ہے جو ہم اپنی کمزوری سے اسے دے دیتے ہیں۔ توحید اسی غلط اضافے کو توڑتی ہے۔
توحید اور وقار:
جب دل خدا کے ساتھ جڑا ہو تو انسان دشمن کی طاقت کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھتا ہے، مگر اس سے مرعوب نہیں ہوتا۔ وہ احتیاط کرتا ہے، حکمت بھی اختیار کرتا ہے، لیکن اپنی روح کو خنجر زار نہیں بننے دیتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اصل اقتدار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے مخالف کی نگاہ بھی اس کے باطن کو نہیں کاٹ سکتی۔
یہی توحیدی وقار انسان کو نفسیاتی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔ اقبال کی مطلوب شجاعت یہی ہے: خارجی خطرے کو دیکھنا، مگر اس کے سامنے اندر سے نہ ٹوٹنا۔
ملت کے لیے سبق:
ایک امت اگر اپنے دشمنوں کے رعب میں جینے لگے تو ان کی آواز، ان کے نظام، ان کی ثقافت، حتیٰ کہ ان کی تنقید بھی اسے خنجر کی طرح لگنے لگتی ہے۔ پھر وہ اپنے فیصلے خودمختاری سے نہیں بلکہ خوف کی فضا میں کرنے لگتی ہے۔ اقبال امت کو اسی نفسیاتی شکست سے بچانا چاہتے ہیں۔
وہ یاد دلاتے ہیں کہ قوم کی اصل قوت صرف ہتھیار میں نہیں، بلکہ اس باطن میں ہے جو دشمن کی نظر کو بھی آخری حقیقت نہیں مانتا۔
مثال
ایک ڈرا ہوا طالب علم امتحان گاہ میں نگران کے ایک معمولی اشارے سے بھی گھبرا جاتا ہے، جبکہ مطمئن طالب علم وہی اشارہ محسوس تو کرتا ہے مگر اپنا توازن نہیں کھوتا۔ فرق باہر کے اشارے میں نہیں، اندر کے اطمینان میں ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق خوف دشمن کی تلوار کے وار کو زیادہ کاری اور اس کی نگاہ کو بھی خنجر بنا دیتا ہے۔ اصل علاج توحیدی وقار ہے، جو انسان کو بیرونی خطرے کے سامنے اندر سے مضبوط رکھتا ہے۔

