رموز بے خودی

این سبق صدیق را صدیق کرد

این سبق صدیق را صدیق کرد

سر خوش از پیمانہ ی تحقیق کرد

ترجمہ

اسی سبق نے صدیق کو واقعی صدیق بنایا، اور اسے تحقیق و یقین کے پیمانے سے سرشار کر دیا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں “لا تحزن” کی تعلیم کے ایک عظیم تاریخی نمونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہی سبق، یہی اعتماد، یہی قربِ نبوی اور یہی ربانی یقین تھا جس نے صدیق کو صدیق بنایا اور اسے تحقیق و یقین کے جام سے سرشار کر دیا۔ شعر کے مطابق:

صدیق کیوں کہا گیا:

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عظمت کا مرکز صرف ان کی صحبت نہیں، بلکہ وہ کامل تصدیق، اعتماد اور یقین ہے جس سے ان کا دل لبریز تھا۔ اقبال کے نزدیک “صدیق” ہونا محض ایک لقب نہیں بلکہ باطن کی ایک کیفیت ہے، جس میں انسان حق کو سچ جان کر پورے دل سے قبول کرتا ہے، اس پر قائم رہتا ہے، اور شدید ترین مواقع پر بھی اس میں اضطراب پیدا نہیں ہونے دیتا۔

اسی لیے شاعر فرماتے ہیں کہ اس سبق نے صدیق کو صدیق کیا، یعنی نبوی تعلیم نے ان کے یقین کو اس درجے پر پہنچایا کہ وہ تصدیق کی کامل مثال بن گئے۔

تحقیق کا پیمانہ:

“پیمانۂ تحقیق” ایک نہایت بلند تعبیر ہے۔ تحقیق یہاں محض علمی بحث نہیں بلکہ وہ پختہ یقین ہے جو مشاہدہ، قربت، ایمان اور صدق سے پیدا ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ یقین محض تقلید نہیں تھا، بلکہ ایسا شعوری اور تجربہ شدہ یقین تھا جس نے خوف اور غم کی جگہ اعتماد اور سرخوشی کو لے آیا۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر “سر خوش” کا لفظ لاتے ہیں۔ یعنی یہ یقین خشک نہیں تھا، بلکہ زندہ، شیریں اور دل کو بلند کرنے والا تھا۔

“لا تحزن” کا عملی نمونہ:

اقبال کی نظر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس تعلیم کے عملی پیکر ہیں کہ غم کے موقع پر دل کو یقین کے ساتھ قائم رکھا جائے۔ یہ سبق کمزوری پیدا نہیں کرتا بلکہ دل کو سکون، وقار اور ثابت قدمی دیتا ہے۔ جب انسان حق کے ساتھ سچا ہو، تو خطرے کے لمحات بھی اس کے یقین کو گہرا کرتے ہیں۔

اس طرح “لا تحزن” ایک جذباتی جملہ نہیں رہتا بلکہ ایک تربیتی مکتب بن جاتا ہے، جس کا ایک نمایاں نمونہ صدیق اکبر کی شخصیت ہے۔

فرد کے لیے رہنمائی:

یہ شعر ہر مومن کو یہ بتاتا ہے کہ سچا یقین اچانک پیدا نہیں ہوتا، بلکہ صحیح صحبت، صحیح تعلیم، اور بار بار کے اعتماد سے بنتا ہے۔ جب انسان نبوی تعلیم کو اپنے خوف، غم اور اضطراب کے مقابلے میں رکھتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کے باطن میں بھی صدیقی صفت پیدا ہونے لگتی ہے۔

یعنی صدق، یقین اور سرخوشی، تینوں ایک ہی سرچشمے سے نکلتے ہیں: حق کے ساتھ سچی وابستگی سے۔

ملت کے لیے سبق:

ایک امت کو بھی اپنے اجتماعی مزاج میں صدیقی یقین پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ ہر بحران میں گھبرا جائے، ہر آزمائش میں ٹوٹ جائے، اور ہر تاریکی میں یہ سمجھے کہ سب کچھ ختم ہو گیا، تو اس کی روحانی تربیت ادھوری رہتی ہے۔ اقبال امت کو صدیق اکبر کی مثال دے کر یاد دلاتے ہیں کہ غم اور خطرہ یقین کو پختہ کرنے کے مواقع بھی بن سکتے ہیں۔

پس یہ شعر نبوی تعلیم، صدیقی تصدیق اور اقبالی احیا تینوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔

مثال

ایک شاگرد اپنے استاد کے ساتھ طویل تعلق میں صرف باتیں نہیں سیکھتا بلکہ ایک خاص اعتماد، دیکھنے کا انداز اور مشکل وقت میں ٹھہرنے کا سلیقہ بھی سیکھتا ہے۔ اسی طرح نبوی تربیت نے صدیق اکبر میں ایسا یقین پیدا کیا جو ان کی پوری شخصیت کی پہچان بن گیا۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق “لا تحزن” کا سبق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صدیقی شان کے ظہور کا ایک اہم راز ہے۔ سچا یقین دل کو خوف سے نکال کر تحقیق، اعتماد اور سرخوشی کی طرف لے جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button