ای کہ در زندان غم باشی اسیر
ای کہ در زندان غم باشی اسیر
از نبی تعلیم لاتحزن بگیر
ترجمہ
اے وہ شخص جو غم کے زندان میں قید ہے، نبی کریم سے “لا تحزن” یعنی غم نہ کر کی تعلیم حاصل کر۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں تشخیص سے علاج کی طرف آتے ہیں۔ وہ صرف غم، یأس اور حزن کی برائی نہیں بتاتے، بلکہ اس کے علاج کا سرچشمہ بھی دکھاتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم۔ “لا تحزن” وہ نبوی اور قرآنی پیغام ہے جو محض تسلی نہیں بلکہ روحانی آزادی کا دروازہ ہے۔ شعر کے مطابق:
زندانِ غم کی تصویر:
اقبال غم کو ایک قید خانے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ قید میں انسان کی حرکت محدود ہو جاتی ہے، آسمان چھوٹا ہو جاتا ہے، اور اس کی آزادی سلب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح غم جب یأس کے ساتھ مل جائے تو دل کی فضا تنگ ہو جاتی ہے۔ آدمی اپنے ہی خیالات میں پھنس جاتا ہے، اسے راستے بند دکھائی دیتے ہیں، اور وہ اپنی قوتِ عمل سے دور ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شاعر “باشی اسیر” کہہ کر بتاتے ہیں کہ یہ محض اداسی نہیں، بلکہ ایک گرفت ہے جس سے نکلنا ضروری ہے۔
نبوی تعلیم کیوں:
اقبال علاج کو محض فلسفیانہ یا نفسیاتی ترکیب میں نہیں ڈھونڈتے، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں ڈھونڈتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کی تعلیم انسان کے باطن، اس کے خوف، اس کے غم اور اس کے رب کے ساتھ تعلق سب کو ایک ساتھ درست کرتی ہے۔ “لا تحزن” میں ایک ایسی شفقت، یقین اور قربت ہے جو دل کو دوبارہ سہارا دیتی ہے۔
یہ تعلیم انسان کو بتاتی ہے کہ غم کے درمیان بھی رب ساتھ ہے، راستہ باقی ہے، اور دل کو ٹوٹ کر گرنے نہیں دینا چاہیے۔
“لا تحزن” کا مفہوم:
“لا تحزن” کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دکھ محسوس نہ کرے یا واقعات کی سنگینی سے بےحس ہو جائے۔ اس کا اصل معنی یہ ہے کہ غم کو ایسا غالب نہ ہونے دیا جائے کہ وہ ایمان، عمل اور اعتماد کو مٹا دے۔ غم ہو سکتا ہے، آنکھ نم ہو سکتی ہے، حالات سخت ہو سکتے ہیں، مگر دل اپنے رب سے جدا نہ ہو۔
اقبال اسی توازن کی تعلیم دے رہے ہیں: حساسیت باقی رہے، مگر روحانی شکست نہ آئے۔
نبوی اسوہ اور امید:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت خود اس بات کی دلیل ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی امید اور اعتماد زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ مکہ کی مخالفت، ہجرت، جنگیں، تکالیف اور بظاہر بند دروازوں کے باوجود نبوی تعلیم نے یأس کو قبول نہیں کیا۔ “لا تحزن” اسی روح کا خلاصہ ہے۔
اقبال چاہتے ہیں کہ امت بھی اپنے غموں کا علاج اسی چشمے سے لے، نہ کہ ناامیدی کو دین داری یا حقیقت پسندی کا نام دے۔
فرد اور ملت دونوں کے لیے نسخہ:
یہ شعر ہر پریشان فرد کے لیے بھی ہے اور ہر زخمی ملت کے لیے بھی۔ اگر دل غم کے زندان میں پھنس گیا ہو تو آزادی کی کنجی نبوی تعلیم میں ہے۔ غم کو شکست میں بدلنے نہیں دینا، اور دکھ کو مقصد و دعا کے ساتھ سنبھالنا، یہی اقبالی اور نبوی راستہ ہے۔
اس طرح یہ شعر حزن کے اندھیرے میں امید کی سب سے روشن شمع بن جاتا ہے۔
مثال
بعض اوقات ایک سچا اور محبت بھرا جملہ قیدی کے دل میں زندہ رہنے کی قوت ڈال دیتا ہے۔ “لا تحزن” ایسا ہی الٰہی و نبوی کلمہ ہے جو غم میں گھرے انسان کے دل کو نئی سانس دیتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک غم کے زندان سے نکلنے کا حقیقی راستہ نبوی تعلیم “لا تحزن” میں ہے۔ یہ کلمہ انسان کو دکھ کے بیچ بھی امید، وقار اور رب پر اعتماد کے ساتھ زندہ رہنا سکھاتا ہے۔
