رموز بے خودی

حرفش از لب چون بدل آید همی

حرفش از لب چون بدل آید همی

زندگی را قوت افزاید همی

ترجمہ

جب اس کا حرف لبوں سے نکلتا ہے تو زندگی کی قوت میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں اس زندہ کلمے، اس بامعنی صدا اور اس حرارت بھرے پیغام کی تاثیر بیان کرتے ہیں جو سچے باطن سے نکلے تو مردہ دلوں میں جان ڈال دیتا ہے۔ یہاں “حرف” محض لفظ نہیں بلکہ وہ سچائی ہے جو دل کی آگ سے پگھل کر زبان پر آتی ہے اور سننے والوں کے باطن کو حرکت دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

حرف اور آواز میں فرق:

ہر بولی ہوئی بات مؤثر نہیں ہوتی۔ بہت سے الفاظ محض آواز ہوتے ہیں جو کان سے ٹکرا کر گزر جاتے ہیں، مگر کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو دل کے اندر اتر جاتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہ فرق اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ لفظ کس باطن سے نکل رہا ہے۔ اگر اس کے پیچھے سوز، صداقت اور تجربۂ حیات ہو تو ایک معمولی سا جملہ بھی زندگی بدل سکتا ہے۔

اسی لیے شاعر حرف کی تاثیر کو بیان کر رہے ہیں، محض زبان کی روانی کو نہیں۔

دل سے نکلنے والا کلام:

“از لب” کے ساتھ “بدل” کی نسبت بتاتی ہے کہ اصل سرچشمہ دل ہے، لب صرف اس کا راستہ ہیں۔ جب کوئی بات دل کی گہرائی، یقین کی قوت اور اخلاص کی تپش کے ساتھ زبان پر آتی ہے تو وہ سننے والے کے اندر بھی نئی جان پیدا کرتی ہے۔ اس کا اثر صرف فکری نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انبیا، اولیا، مصلحین اور سچے اہل درد کے کلمات زمانوں تک زندہ رہتے ہیں، کیونکہ ان کے الفاظ میں زندگی کی حرارت شامل ہوتی ہے۔

زندگی کی قوت میں اضافہ:

اقبال کہتے ہیں کہ ایسا حرف زندگی کو قوت بخشتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان کے حوصلے، اس کے یقین، اس کے اخلاق، اور اس کے عمل کو تقویت دیتا ہے۔ بعض کلمات انسان کو اٹھا دیتے ہیں، اسے مایوسی سے نکال دیتے ہیں، اس کے اندر سچ کے لیے کھڑے ہونے کی قوت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہی قوت افزائی دراصل زندہ کلام کا اثر ہے۔

پس سچا حرف محض اطلاع نہیں دیتا، بلکہ روح میں حرکت اور ارادے میں توانائی بھی پیدا کرتا ہے۔

ملت کی تعمیر میں کلمے کا کردار:

کسی قوم کی تعمیر صرف قانون، طاقت یا تنظیم سے نہیں ہوتی۔ اسے ایسے زندہ کلمات بھی درکار ہوتے ہیں جو اس کے ضمیر کو جگائیں۔ اقبال کے نزدیک امت کو ایسے الفاظ چاہیے جو اس کے اندر خودی، غیرت، بندگی اور مقصد کا شعور تازہ کریں۔ اگر زبان سچی ہو اور دل بیدار ہو تو ایک خطاب، ایک شعر، ایک نصیحت یا ایک تعلیم پوری نسل کو بدل سکتی ہے۔

اسی لیے تہذیبی زندگی میں زبان اور بیان کا مقام بہت بلند ہے، بشرطیکہ وہ سچے باطن سے پھوٹے ہوں۔

قول و عمل کی یکجائی:

یہ شعر ایک خاموش شرط بھی رکھتا ہے کہ زندگی بخش حرف وہی ہے جو خود بولنے والے کی زندگی سے ثابت ہو۔ اگر زبان کچھ کہے اور کردار کچھ اور ہو تو لفظ بےاثر ہو جاتے ہیں۔ اقبال اس حرف کی بات کر رہے ہیں جو اندر کی آگ، باہر کے عمل اور سچی نسبتِ حق سے پیدا ہو۔

تب ہی وہ حرف سننے والے کے لیے بھی قوتِ حیات بن سکتا ہے۔

مثال

ایک استاد کے دو جملے کبھی کبھی وہ کام کر جاتے ہیں جو لمبی کتابیں نہیں کر پاتیں، بشرطیکہ وہ جملے تجربے، خیرخواہی اور سچائی سے نکلے ہوں۔ اسی طرح سچا اور درد مند کلام انسان کے باطن میں نئی زندگی ڈال دیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق وہ حرف جو سچے دل سے نکلے، زندگی کو قوت دیتا ہے۔ ایسا کلام محض لفظ نہیں رہتا بلکہ انسان اور ملت دونوں کے باطن کو بیدار کرنے والی توانائی بن جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button