رموز بے خودی

اہل حق را رمز توحید ازبر است

اہل حق را رمز توحید ازبر است

در «اتی الرحمن عبدا» مضمر است

ترجمہ

اہل حق توحید کے راز کو خوب جانتے ہیں، اور یہ راز اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ ہر ایک کو رحمن کے حضور بندہ بن کر آنا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں توحید کے ایک نہایت بلند اور پاکیزہ پہلو کو سامنے لاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ توحید صرف فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ بندگی کی حقیقت ہے۔ “اتی الرحمن عبدا” کے الفاظ قرآن کے اس مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہر مخلوق آخرکار اللہ تعالیٰ کے سامنے بندہ بن کر حاضر ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

اہل حق کی پہچان:

“اہل حق” وہ لوگ ہیں جو حقیقت کو صرف زبان سے نہیں بلکہ دل اور عمل سے مانتے ہیں۔ وہ توحید کو ایک نعرہ نہیں بناتے بلکہ اپنی زندگی کے مرکز کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ انہیں رمزِ توحید ازبر ہے، یعنی یہ حقیقت ان کے باطن میں رچ بس گئی ہے۔

جب کوئی سچائی ازبر ہو جائے تو وہ محض یادداشت میں نہیں رہتی بلکہ کردار، ترجیح اور نگاہ کا حصہ بن جاتی ہے۔

عبودیت توحید کا جوہر ہے:

شعر کا دوسرا مصرع ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ توحید کا خلاصہ بندگی میں ہے۔ اگر خدا ایک ہے تو بندہ بھی اپنے آپ کو اسی ایک رب کے سامنے جھکاتا ہے۔ پھر وہ انسانوں، طاقتوں، خواہشوں اور جھوٹے معبودوں کی غلامی سے نکلنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبدیت انسان کو پست نہیں کرتی بلکہ اسے صحیح مقام دیتی ہے۔

یہ بندگی جبر نہیں بلکہ شرف ہے، کیونکہ بندہ اپنے اصل مالک کو پہچان لیتا ہے اور اسی نسبت سے عزت پاتا ہے۔

تکبر کا خاتمہ:

جب ہر شخص کو رحمن کے حضور بندہ بن کر آنا ہے تو پھر نسلی غرور، طبقاتی برتری اور انا پرستی کی کوئی مستقل حیثیت باقی نہیں رہتی۔ توحید انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اس کی اصل پہچان بندگی ہے، نہ کہ مال، قوت یا نام۔ یہی احساس انسان کے دل سے تکبر کا زہر نکالتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی وہ اخلاقی انقلاب ہے جو فرد کے ساتھ ملت کو بھی پاک کرتا ہے، کیونکہ حقیقی مساوات اسی جگہ پیدا ہوتی ہے جہاں سب ایک رب کے بندے سمجھیں جائیں۔

رحمن کی نسبت:

یہاں “الرحمن” کا ذکر خاص معنی رکھتا ہے۔ اقبال صرف قدرت اور جلال کی بات نہیں کر رہے، بلکہ اس رب کی طرف متوجہ کر رہے ہیں جس کی ربوبیت رحمت پر قائم ہے۔ بندہ جب رحمن کے حضور اپنے آپ کو پہچانتا ہے تو اس کے اندر خوف کے ساتھ امید بھی پیدا ہوتی ہے، ذمہ داری کے ساتھ محبت بھی آتی ہے۔

یعنی توحید کا رشتہ محض حکم کا نہیں بلکہ رحمت، قرب اور پرورش کا بھی ہے۔

ملت کی وحدت کا سرچشمہ:

اگر ایک امت یہ سمجھ لے کہ اس کی اصل نسبت نہ نسل ہے، نہ زمین، نہ زبان، بلکہ ایک رحمن کے سامنے مشترک بندگی ہے، تو اس کے درمیان حقیقی اخوت پیدا ہوتی ہے۔ یہی توحید کا اجتماعی راز ہے۔ اس میں کوئی اونچا نیچا نہیں رہتا، بلکہ ہر فرد اپنی عزت بندگی سے لیتا ہے۔

اسی شعور سے قوم کی سیاست، معیشت اور تہذیب میں عدل اور رحم دونوں کے لیے جگہ پیدا ہوتی ہے۔

مثال

نماز کی صف میں دولت مند، عالم، مزدور اور مسافر سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ وہاں کسی کی برتری لباس یا مرتبے سے نہیں بلکہ تقویٰ اور اخلاص سے جانی جاتی ہے۔ یہی وہ عملی منظر ہے جس میں “اتی الرحمن عبدا” کا راز جھلکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک توحید کا اصل راز بندگی میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو رحمن کا بندہ سمجھ لیتا ہے وہ تکبر، جھوٹے سہاروں اور انسان پرستی سے آزاد ہو جاتا ہے، اور یہی آزادی فرد اور ملت دونوں کو صحیح وحدت عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button