دیدۂ او می کشد لب جاں دمد
دیدۂ او می کشد لب جاں دمد
تا دوئی میرد یکی پیدا شود
ترجمہ
اس (رہنما) کی نگاہ دلوں کو کھینچتی ہے اور اس کا لب جان پھونکتا ہے، تاکہ دوئی مٹ جائے اور وحدت پیدا ہو۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو انتشار اور دوئی کو ختم کر کے اتحاد اور وحدت پیدا کر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
نگاہ کی کشش:
اقبال کہتے ہیں کہ اس رہنما کی نگاہ دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یعنی اس کی شخصیت اور اس کا کردار لوگوں کو اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔
اس کی نگاہ میں ایسی کشش اور تاثیر ہوتی ہے کہ لوگ کھنچے چلے آتے ہیں اور اس کے پیغام کو قبول کر لیتے ہیں۔
لب سے جان پھونکنا:
شاعر کہتے ہیں کہ اس کا لب یعنی اس کا کلام اور پیغام مردہ دلوں میں جان پھونک دیتا ہے۔ اس کی بات میں وہ روحانی قوت ہوتی ہے جو بے حس دلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔
دوئی کا مٹنا:
اقبال کہتے ہیں کہ اس رہنمائی کا مقصد یہ ہے کہ دوئی یعنی تفرقہ، انتشار اور اختلاف مٹ جائے۔ لوگ اپنی جدائیوں اور دشمنیوں کو بھلا کر ایک ہو جائیں۔
وحدت کا ظہور:
دوئی کے مٹنے سے وحدت اور اتحاد جنم لیتا ہے۔ رہنما کی قوت بکھرے ہوئے افراد کو ایک وحدت میں پرو دیتی ہے، جو ملت کی اصل بنیاد ہے۔
مثال
جیسے ایک قائد اپنی شخصیت اور پیغام سے بکھرے اور آپس میں لڑتے ہوئے لوگوں کو ایک مقصد پر متحد کر دیتا ہے، ویسے ہی کامل رہنما دوئی کو مٹا کر ایک وحدت پیدا کر دیتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما کی نگاہ اور کلام دلوں کو جوڑ کر دوئی اور انتشار کو مٹا دیتے ہیں اور ان کی جگہ وحدت اور اتحاد پیدا کر دیتے ہیں۔
