رموز بے خودی

نابساماں محفل نوزادہ اش

نابساماں محفل نوزادہ اش

می تواں با پنبہ چیدن بادہ اش

ترجمہ

اس کی نوزائیدہ محفل ابھی بے ترتیب ہے، اور اس کی شراب (جوش) اتنی کم اور ہلکی ہے کہ روئی سے چنی جا سکتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد کی کمزوری اور اس کے جوش کی کمی کو بیان کرتے ہیں۔ وہ نوزائیدہ محفل اور ہلکی شراب کی تمثیل استعمال کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

بے ترتیب نوزائیدہ محفل:

اقبال کہتے ہیں کہ اس فرد کی محفل ابھی نوزائیدہ اور بے ترتیب ہے۔ یعنی اس کی زندگی، اس کے تعلقات اور اس کے معاملات میں ابھی نظم اور پختگی نہیں آئی۔

ہر نئی چیز کی طرح اس میں ابھی خامی اور بے ترتیبی ہے، اور اسے سنبھلنے اور منظم ہونے میں وقت درکار ہے۔

ہلکی اور کم شراب:

شاعر کہتے ہیں کہ اس کی شراب یعنی اس کا جوش اور ولولہ اتنا کم اور ہلکا ہے کہ اسے روئی سے بھی چنا جا سکتا ہے۔ یہ اس کے جذبے کی کمزوری کی علامت ہے۔

اس کے اندر ابھی وہ گہرا جوش اور مضبوط جذبہ پیدا نہیں ہوا جو بڑے کام سرانجام دینے کے لیے درکار ہوتا ہے۔

جذبے کی خامی:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ خام فرد کا جذبہ سطحی اور کمزور ہوتا ہے، اور وہ آسانی سے ختم ہو سکتا ہے۔

پختگی کی ضرورت:

اس کمزوری کا علاج تربیت اور اجتماع ہے، جو فرد کے جذبے کو گہرا اور اس کی محفل کو منظم بناتا ہے۔

مثال

جیسے ایک نیا اور کچا برتن ہلکی سی ٹھوکر سے ٹوٹ سکتا ہے اور پانی سنبھال نہیں پاتا، ویسے ہی خام فرد کا کمزور جذبہ اور بے ترتیب زندگی آسانی سے بکھر سکتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام فرد کی زندگی بے ترتیب اور اس کا جذبہ کمزور ہوتا ہے، اور اسے پختگی کے لیے تربیت اور اجتماع کی ضرورت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button