چشم خود بگشا و در اشیا نگر
چشم خود بگشا و در اشیا نگر
نشه زیر پردهٔ صهبا نگر
ترجمہ
اپنی آنکھ کھول اور اشیا کے اندر دیکھ، اور اس سرور اور راز کو پہچان جو ظاہری پردوں کے نیچے چھپا ہوا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال انسان کی نظر کو سطح سے باطن کی طرف موڑتے ہیں۔ “چشم خود بگشا” میں بیداری کا حکم ہے۔ آنکھ کھولنا یہاں محض دیکھنے کی حس کا استعمال نہیں بلکہ شعوری بینائی ہے۔ “در اشیا نگر” کا مطلب ہے اشیا کو صرف ان کی ظاہری شکل، رنگ، یا فوری استعمال کی حد تک نہ دیکھو؛ ان کے اندر جھانکو، ان کے قانون، ان کی حکمت، ان کی قوت، اور ان کے پوشیدہ ربط کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ اقبال کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی محرومی یہی ہے کہ انسان چیزوں کے پاس سے گزرتا رہتا ہے مگر ان کے اندر نہیں اترتا۔
دوسرے مصرعے میں “نشه زیر پردهٔ صهبا” ایک نہایت لطیف استعارہ ہے۔ صہبا یعنی شراب، مگر یہاں اصل مقصود وہ سرور، اثر، اور پوشیدہ کیفیت ہے جو کسی ظاہری پردے کے نیچے چھپی ہوئی ہو۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان صرف برتن یا رنگ نہ دیکھے، اس کے اندر کی تاثیر بھی سمجھے۔ یہ استعارہ اشیا کی باطنی حیات کی طرف اشارہ ہے۔ ہر شے کے اندر ایک خفیہ نظم، ایک توانائی، ایک کیفیت، اور ایک حکمت پوشیدہ ہے۔ جو آنکھ بیدار ہو وہ اس سرور کو بھی دیکھ لیتی ہے جو ابھی عام نظر سے اوجھل ہے۔
اشیا کے اندر دیکھنا:
اقبال ظواہر کے منکر نہیں، مگر وہ ظاہر پر رکے رہنا بھی پسند نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک اشیا کو واقعی دیکھنا تب ہے جب انسان ان کے اندر سوال پیدا کرے: یہ کیسے کام کرتی ہے؟ اس کا قانون کیا ہے؟ اس کے اندر کیا قوتیں چھپی ہیں؟ یہ کس بڑے نظام سے جڑی ہوئی ہے؟
یہی نظر سائنس، فن، حکمت، صنعت اور تہذیبی تخلیق کی بنیاد بنتی ہے۔ جو قوم چیزوں کو صرف استعمال کرتی ہے وہ صارف بن کر رہ جاتی ہے؛ جو انہیں سمجھتی ہے وہ خالقانہ قوت پیدا کرتی ہے۔ اقبال اسی دوسری نگاہ کی دعوت دیتے ہیں۔
پردهٔ صهبا:
پردہ اس ظاہری سطح کی علامت ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دیتی ہے، اور صہبا اس داخلی تاثیر کی علامت ہے جو اس کے نیچے کام کر رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کئی تہوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایک تہہ رنگ و روپ کی ہے، دوسری تاثیر اور راز کی۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان دونوں کو دیکھے، مگر دوسرے درجہ تک پہنچنے کی کوشش ضرور کرے۔
یہ استعارہ اس بات کا بھی اشارہ دیتا ہے کہ دنیا صرف مردہ مادہ نہیں؛ اس کے اندر حرکت، کیفیت اور ایک طرح کا زندہ جوش بھی ہے۔ بیدار آنکھ اسی پوشیدہ جوش کو پہچانتی ہے۔
علمی اور روحانی بینائی:
اس شعر میں علم اور روحانیت الگ الگ نہیں رہتے۔ اشیا میں غور کرنا علمی عمل بھی ہے، اور باطن کی کیفیت دیکھنا روحانی تربیت بھی۔ اقبال دونوں کو ایک پل پر لے آتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان کی نگاہ خشک عقل کی نگاہ بھی نہ ہو اور محض وجدانی خواب کی بھی نہ ہو۔
یہی جامع نظر چیزوں سے حکمت بھی اخذ کرتی ہے اور ان کے اندر خدا کی آیات بھی دیکھتی ہے۔ اس طرح دنیا نہ صرف مفید بنتی ہے بلکہ معنی خیز بھی۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، مگر دیکھنے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔ ہم اشیا کو استعمال تو کرتے ہیں مگر ان کے اندر کے قانون، ان کے تہذیبی اثر، اور ان کے اخلاقی مطالبے کو کم سمجھتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں دوبارہ دیکھنا سکھاتا ہے۔
یہ شعر امت کو باریک بیں، سوال اٹھانے والی، اور باطن تک پہنچنے والی نگاہ دیتا ہے۔ جب یہ نگاہ پیدا ہوتی ہے تو دنیا کے راز ایک ایک کر کے کھلنے لگتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی بیدار نظر فکری اور تمدنی بقا کی بنیاد ہے۔
مثال
جیسے ایک ماہر باغبان پھول کو صرف رنگ کے لیے نہیں دیکھتا بلکہ اس کی مٹی، نمی، نشوونما اور اندرونی حالت بھی پہچانتا ہے، ویسے ہی بیدار عقل اشیا کے ظاہر سے آگے ان کے باطن تک جاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ اشیا کو صرف سطح پر نہ دیکھو بلکہ ان کے اندر کے راز، تاثیر اور حکمت تک پہنچنے کی کوشش کرو۔ یہی بیدار اور تخلیقی نگاہ زندہ تہذیب کی علامت ہے۔