رموز بے خودی

شعله ها از مرده خاکستر گشاد

شعله ها از مرده خاکستر گشاد

کوهکن را پایه ی پرویز داد

ترجمہ

اس نے مردہ راکھ سے شعلے نکال دیے، اور کوہ کن کو پرویز کے برابر پایہ عطا کر دیا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں محمدی رسالت کے انقلابی اثر کو نہایت زندہ تصویروں میں بیان کرتے ہیں۔ مردہ راکھ سے شعلہ اٹھانا اس بات کی علامت ہے کہ جس انسانیت کو سب مردہ سمجھ چکے تھے، اس میں پھر زندگی کی آگ پیدا ہو گئی۔ اور کوہ کن کو پرویز کے پایے تک اٹھا دینا اس مساوات کی تصویر ہے جس نے محنت کش اور بادشاہ کے درمیان انسانی وقار کی دیوار توڑ دی۔ شعر کے مطابق:

مردہ خاکستر سے شعلہ:

راکھ ایسی چیز ہے جس میں کبھی آگ تھی، مگر اب وہ بجھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ محمدی رسالت نے اسی بجھی ہوئی راکھ میں دوبارہ شعلہ پیدا کیا۔ یعنی جن دلوں میں غیرت مر گئی تھی، جن قوموں میں خودی سو گئی تھی، اور جن انسانوں میں آزادی کا احساس بجھ گیا تھا، ان میں پھر سے حرکت، حرارت اور امید پیدا ہو گئی۔

یہی رسالت کا حیات آفریں پہلو ہے: وہ مردہ دلوں کو صرف تسلی نہیں دیتی، انہیں دہکا دیتی ہے۔

کوہ کن اور پرویز:

کوہ کن محنت کش، کمزور یا غیر اشرافی انسان کی علامت ہے، جبکہ پرویز شاہی اور استبدادی عظمت کی علامت۔ اقبال کہتے ہیں کہ رسالت نے محنت کش کو ایسا وقار دیا کہ وہ صرف بادشاہ کا تابع نہ رہا، بلکہ انسانی قدر میں اس کے برابر کھڑا ہو گیا۔ یہ ایک عظیم تہذیبی انقلاب ہے، کیونکہ اس نے نسب اور تخت کے بجائے انسان کی اصل کرامت کو معیار بنایا۔

گویا رسالت نے قدروں کے ترازو کو الٹ دیا اور اصل وزن محنت، ایمان اور انسانیت کو دے دیا۔

مساوات کی زندہ شکل:

یہ شعر مساوات کو خشک نظریہ نہیں رہنے دیتا۔ یہاں مساوات ایک محنت کش انسان کے اٹھائے جانے، اس کی عزت بحال ہونے، اور شاہی غرور کے مقابل اس کے وقار کے نمایاں ہونے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی نبوی مساوات تھی: انسان انسان کے سامنے اس کی اصل انسانی حیثیت میں کھڑا ہو۔

یہ مساوات حسد یا طبقاتی انتقام نہیں، بلکہ توازنِ انسانیت کی بحالی ہے۔

حریت کی آگ:

شعلہ صرف روشنی نہیں دیتا، گرمی اور حرکت بھی پیدا کرتا ہے۔ جب غلام انسان کو وقار ملتا ہے تو اس کے اندر حریت کی آگ بھی پیدا ہوتی ہے۔ محمدی رسالت نے یہی کیا: لوگوں کو اتنا باوقار بنایا کہ وہ محض محکوم نہ رہیں بلکہ اپنے مقام کے شعور کے ساتھ جینا سیکھیں۔

اسی لیے اقبال کے ہاں آزادی ہمیشہ باطنی حرارت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔

آج کا سبق:

آج بھی بہت سے لوگ نظاموں کی نظر میں “راکھ” ہیں: حاشیے پر پڑے ہوئے، کمزور، خاموش یا بے اثر۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ نبوی پیغام کی اصل قوت یہ ہے کہ وہ ایسے ہی انسانوں میں شعله پیدا کرتا ہے اور محنت کش کو عزت دیتا ہے۔ اگر ہمارا دینی شعور کمزور طبقے کو وقار نہیں دے رہا، تو محمدی مساوات ابھی پوری طرح زندہ نہیں ہوئی۔

اصل انقلاب تب ہوتا ہے جب راکھ دہکنے لگے اور کوہ کن سر اٹھا کر کھڑا ہو۔

مثال

ایک ایسا تعلیمی نظام جو غریب بچے کو صرف پڑھا نہ دے بلکہ اسے اعتماد، وقار اور قیادت کا مقام بھی دے، دراصل “کوہ کن کو پایۂ پرویز” دینے کی ایک چھوٹی مثال ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق محمدی رسالت نے بجھی ہوئی انسانیت میں پھر آگ پیدا کی اور محنت کش و کمزور انسان کو بادشاہی غرور کے برابر انسانی وقار بخشا۔ یہی نبوی حریت اور مساوات کی زندہ صورت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button