ای که میداری کتابش در بغل
ای که میداری کتابش در بغل
تیز تر نه پا به میدان عمل
ترجمہ
اے وہ جو اس کی کتاب کو اپنے بغل میں رکھتا ہے، عمل کے میدان میں اور تیز قدم رکھ۔
تشریح
اس شعر میں اقبال قرآن سے وابستگی کے دعوے کو عمل کی کسوٹی پر لاتے ہیں۔ وہ اس مسلمان کو مخاطب کرتے ہیں جو کتابِ الٰہی کو اپنے بغل میں لیے ہوئے ہے، یعنی جس کے پاس قرآن ہے، جو اسے مانتا ہے، اس کی تلاوت کرتا ہے، اس سے نسبت پر فخر بھی کرتا ہے۔ مگر اقبال صرف اس نسبت پر قناعت نہیں کرتے۔ وہ فوراً کہتے ہیں: “تیز تر نه پا به میدان عمل”۔ یعنی اگر کتاب تیرے پاس ہے تو تیرے قدم بھی زیادہ تیز، زیادہ بیدار، اور زیادہ مقصدی ہونے چاہییں۔ قرآن محض رکھنے، پڑھنے، چومنے، یا سنانے کی شے نہیں، عمل کے میدان میں اتارنے کی امانت ہے۔
یہ شعر خاص طور پر اس فاصلے کو بے نقاب کرتا ہے جو بعض اوقات مقدس نسبت اور عملی کم زوری کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔ آدمی کتاب ساتھ رکھتا ہے مگر میدان میں سست ہوتا ہے؛ کلامِ حق سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس کے تقاضوں کے مطابق قدم نہیں اٹھاتا؛ آیات پڑھتا ہے مگر عدل، خدمت، استقامت، دعوت اور قربانی کے میدان میں ڈھیلا رہتا ہے۔ اقبال اس رویے کو گوارا نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک کتاب کے قریب ہونے کا سچا مطلب یہی ہے کہ انسان عمل میں بھی آگے بڑھے۔
کتاب کو بغل میں رکھنا:
بغل میں کتاب رکھنا ایک محبت آمیز تصویر ہے۔ اس میں قربت بھی ہے، احترام بھی، اور وابستگی بھی۔ مگر یہی قربت اگر عمل میں تبدیل نہ ہو تو خطرہ ہے کہ وہ صرف رسم بن کر رہ جائے۔ اقبال اسی مقام پر تنبیہ کرتے ہیں کہ کتاب کی قربت سے عمل کی تیزی پیدا ہونی چاہیے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قرآن انسان کی ذاتی آرائش نہیں، زندگی کی رہنمائی ہے۔ اگر وہ دل کے قریب ہو تو ہاتھ اور پاؤں بھی اس کی ہدایت کے مطابق حرکت کریں۔ اقبال نسبت اور حرکت کے درمیان یہی زندہ ربط بحال کرنا چاہتے ہیں۔
میدانِ عمل:
میدانِ عمل ایک وسیع تعبیر ہے۔ اس میں عبادت بھی آتی ہے، اخلاق بھی، معاشرت بھی، علم بھی، دعوت بھی، اور عدل بھی۔ اقبال کے نزدیک قرآن کا حامل وہی معتبر ہے جو ان میدانوں میں اپنی زندگی سے شہادت دے۔ اگر کتاب صرف زبان پر ہو اور میدان خالی پڑا ہو تو نسبت ادھوری ہے۔
اسی لیے وہ “تیز تر” کہتے ہیں۔ یعنی صرف عمل کرو نہیں، بہتر، زیادہ پختہ، زیادہ بیدار، اور زیادہ باہمت عمل کرو۔ قرآن کی نسبت سستی کا جواز نہیں، بیداری کی ذمہ داری ہے۔
علم اور عمل کا ربط:
یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ علم کی صداقت عمل سے ثابت ہوتی ہے۔ قرآن کو جاننا اور ماننا انسان کے اندر ایک نئی حرکت پیدا کرنا چاہیے۔ اگر علم بڑھ رہا ہو مگر عمل کم زور ہو، تو کچھ نہ کچھ بنیادی ربط ٹوٹ رہا ہے۔ اقبال علم کو عمل کی طرف لے جانے والے پل کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں قرآنی شعور کبھی مجرد نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ حیات، ذمہ داری، اور میدانِ عمل میں اترنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ کتابِ حق اگر واقعی سینے سے لگی ہو تو اس کی حرارت پاؤں تک پہنچنی چاہیے۔
آج کے لیے سبق:
آج قرآن سے تعلق کے کئی مظاہر موجود ہیں: حفظ، تلاوت، محافل، خوب صورت طباعت، اور جذباتی عقیدت۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اقبال کا سوال اس سے آگے جاتا ہے: کیا قرآن ہمارے میدانِ عمل کو بھی تیز کر رہا ہے؟ کیا وہ ہمیں زیادہ عادل، زیادہ دیانت دار، زیادہ فعال، زیادہ باہمت، اور زیادہ خدا آشنا بنا رہا ہے؟
یہ شعر امت کے لیے بیداری کی اذان ہے۔ اگر کتاب ہمارے پاس ہے تو دنیا کے میدان میں ہماری کارکردگی بھی اس کے شایان ہونی چاہیے۔ اقبال ہمیں قرآن کی نسبت کو ایک زندہ ذمہ داری میں بدلنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی نسبت کو سچا ثابت کرنے کا راستہ ہے۔
مثال
جیسے نقشہ ہاتھ میں رکھنے والا مسافر اگر چلنا ہی چھوڑ دے تو منزل نہیں پاتا، ویسے ہی کتابِ ہدایت کو ساتھ رکھنے والا اگر عمل میں نہ بڑھے تو اس کی نسبت ادھوری رہ جاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں قرآن کی نسبت کو عمل کی تیزی سے جوڑتے ہیں۔ کتابِ حق کی قربت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان میدانِ عمل میں زیادہ بیدار، زیادہ فعال، اور زیادہ سچا ہو۔
