رموز بے خودی

ہر شر پنهان که اندر قلب تست

ہر شر پنهان که اندر قلب تست

اصل او بیم است اگر بینی درست

ترجمہ

تیرے دل کے اندر جو بھی کوئی پوشیدہ برائی ہے، اگر ٹھیک نظر سے دیکھے تو اس کی جڑ اکثر خوف ہی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ایک نہایت نفسیاتی اور اخلاقی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ دل کے اندر چھپی ہوئی بہت سی برائیوں کی جڑ اگر تلاش کی جائے تو ان کے نیچے خوف بیٹھا ہوا ملتا ہے۔ یہ بات نہایت گہری ہے، کیونکہ عام طور پر انسان گناہ یا برائی کو صرف ظاہری عمل میں دیکھتا ہے، اس کے باطنی منبع تک نہیں پہنچتا۔ شعر کے مطابق:

“شر پنهان” کا مفہوم:

پوشیدہ شر وہ برائیاں ہیں جو ہمیشہ کھلے جرم کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتیں، بلکہ دل کے اندر رجحان، نیت، مصلحت، حسد، بزدلی، خوشامد، دوغلا پن یا بےجا احتیاط کی شکل میں رہتی ہیں۔ انسان بسا اوقات اپنے آپ کو نیک سمجھتا ہے، مگر دل کے اندر ایسے خوف بیٹھے ہوتے ہیں جو اس کی نیت اور رویے کو آلودہ کر رہے ہوتے ہیں۔

اقبال ان چھپی ہوئی جڑوں کو سامنے لاتے ہیں، کیونکہ اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک برائی کے اصل منبع کو نہ پہچانا جائے۔

اصل میں خوف کیوں:

خوف انسان کو مخلص رہنے سے روکتا ہے، سچ چھپانے پر آمادہ کرتا ہے، کمزور مصالحہ اختیار کرنے پر مائل کرتا ہے، اور خود غرضی کو جواز فراہم کرتا ہے۔ کئی ظاہری برائیاں جیسے خوشامد، چاپلوسی، منافقت، ظلم کے سامنے خاموشی، یا جھوٹا سمجھوتا دراصل کسی نہ کسی خوف سے پیدا ہوتی ہیں۔

اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ اگر درست نگاہ سے دیکھو تو بہت سی برائیوں کے نیچے خوف موجود ہے۔ انسان برائی کو صرف بد نیتی نہ سمجھے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ کہیں اس کے پیچھے ڈرا ہوا دل تو نہیں بیٹھا۔

درست دیکھنے کی شرط:

“اگر بینی درست” ایک اہم شرط ہے۔ ہر برائی کی تہہ تک پہنچنا آسان نہیں۔ اس کے لیے اپنے نفس کے ساتھ سچائی چاہیے، خود فریبی سے نکلنا چاہیے، اور دل کی جڑوں کو ٹٹولنے کا حوصلہ چاہیے۔ اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ عام نگاہ سطح پر رک جاتی ہے، مگر درست نگاہ جڑ تک جاتی ہے۔

یہی درست نگاہ اصلاح کا پہلا دروازہ ہے۔ جب انسان پہچان لیتا ہے کہ اس کی کمزوری یا غلطی کے پیچھے خوف ہے، تب وہ اس کا علاج صحیح جگہ سے شروع کر سکتا ہے۔

توحید بطور اصل علاج:

اگر خوف بہت سی برائیوں کی جڑ ہے تو پھر اس جڑ کو کاٹے بغیر اصلاح سطحی رہے گی۔ اقبال کے نزدیک توحید اسی لیے بنیادی دوا ہے، کیونکہ یہ دل کو غیر اللہ کے خوف سے آزاد کرتی ہے۔ جب بندہ اپنے رب پر اعتماد کرتا ہے تو اس کے دل میں سچ بولنے، حق پر قائم رہنے، اور لوگوں کے ردعمل سے کم مرعوب ہونے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔

یوں صرف برائی کے پتوں کو کاٹنے کے بجائے اس کی جڑ کمزور ہونے لگتی ہے۔ یہی حقیقی تزکیہ ہے۔

ملت کے لیے سبق:

امت کی اجتماعی زندگی میں بھی کئی برائیاں محض نظریاتی غلطی سے نہیں، بلکہ خوف سے پیدا ہوتی ہیں: باطل کے سامنے خاموشی، اپنی اصل تہذیب پر شرمندگی، دوسروں کی خوشنودی کی طلب، اور حق کو نرم کر کے پیش کرنا۔ اقبال اس اجتماعی نفس کو بھی اس شعر میں آئینہ دکھاتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ امت اپنی برائیوں کی جڑ میں بیٹھے ہوئے اس خوف کو پہچانے، کیونکہ جب تک خوف موجود رہے گا، برائیاں نئے لباس میں واپس آتی رہیں گی۔

مثال

کبھی کوئی شخص سیدھا جھوٹ اس لیے بولتا ہے کہ وہ نقصان سے ڈرتا ہے، حقیقت چھپاتا ہے کہ کہیں حیثیت نہ گر جائے، یا حق بات نہیں کہتا کہ کہیں لوگ ناراض نہ ہو جائیں۔ ظاہری برائی جھوٹ ہے، مگر جڑ میں خوف ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک دل کی کئی پوشیدہ برائیوں کی اصل جڑ خوف ہے۔ درست خود شناسی اور توحیدی آزادی کے بغیر ان خرابیوں کی حقیقی اصلاح ممکن نہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button