رموز بے خودی

قوم با ضبط آشنا گرداندش

قوم با ضبط آشنا گرداندش

نرم رو مثل صبا گرداندش

ترجمہ

قوم فرد کو ضابطے اور نظم سے آشنا کرتی ہے، اور اسے بادِ صبا کی مانند نرم رو اور ملائم بنا دیتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں قوم کے تربیتی کردار کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک قوم فرد کو نظم و ضبط سکھا کر اس کے مزاج کو شائستہ اور نرم بنا دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

ضبط سے آشنائی:

قوم فرد کو قانون، نظم اور ضابطے کا پابند بناتی ہے۔ اسی نظم کے تحت وہ عمل کر کے خود بھی سنورتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی سود مند بنتا ہے۔

یہ ضبط اس کی بے راہ روی کو روکتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو ایک منظم دائرے میں لے آتا ہے۔

نرم روی اور شائستگی:

قوم فرد کے مزاج میں نرمی، شائستگی اور تحمل پیدا کرتی ہے، جیسے بادِ صبا آہستہ اور خوشگوار انداز میں چلتی ہے اور ہر شے کو تازگی بخشتی ہے۔

یوں فرد کی سختی اور کھردراپن دور ہو جاتا ہے اور اس کے برتاؤ میں لطافت اور خوش خلقی آ جاتی ہے۔

بتدریج تربیت:

یہ تربیت اچانک نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ہوتی ہے۔ قوم فرد کو دھیرے دھیرے سنوارتی اور اس کے کردار کو نکھارتی ہے، جیسے صبا کی نرم ہوا بتدریج اثر کرتی ہے۔

قوم کا سنوارنے والا کردار:

اقبال باور کراتے ہیں کہ فرد کی شائستگی اور اس کا وقار قوم کی تربیت کا ثمر ہے، اور اسی سے وہ ایک مہذب انسان بنتا ہے۔

مثال

جیسے ایک باغبان پودے کو سہارا، پانی اور ترتیب دے کر ایک خوبصورت درخت بنا دیتا ہے، ویسے ہی قوم فرد کو ضبط اور تہذیب سے سنوار کر ایک باکردار اور شائستہ انسان بنا دیتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ قوم فرد کو نظم و ضبط سکھا کر اور اس کے مزاج کو نرم اور شائستہ بنا کر ایک مہذب اور بامقصد انسان کی صورت میں ڈھال دیتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button