رموز بے خودی

فطرتش آزاد و ہم زنجیری است

فطرتش آزاد و ہم زنجیری است

جزو او را قوت کل گیری است

ترجمہ

اس (خودی) کی فطرت آزاد بھی ہے اور پابند بھی۔ اس کے جزو میں کل پر غلبہ پانے کی قوت ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خودی کی دوہری فطرت اور اس کی غیر معمولی قوت کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک خودی بیک وقت آزاد بھی ہے اور نظم کی پابند بھی، اور اس کا معمولی سا حصہ بھی بڑی قوت رکھتا ہے۔ شعر کے مطابق:

آزادی اور پابندی کا امتزاج:

خودی کی فطرت میں آزادی بھی ہے اور نظم و ضبط کی پابندی بھی۔ وہ آزاد رہ کر بھی اصولوں اور ضابطوں کو تھامے رکھتی ہے۔

یہی توازن اسے بے راہ روی سے بھی بچاتا ہے اور جمود سے بھی، اور وہ اپنے مزاج کے مطابق اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

جزو میں کل کی قوت:

خودی کے ایک چھوٹے سے حصے میں بھی اتنی طاقت ہے کہ وہ پورے کل پر غالب آ سکتا ہے۔ اس کا کوئی جزو کمزور یا بے اثر نہیں ہوتا۔

یہی خصوصیت خودی کو محدود ہوتے ہوئے بھی لامحدود قوت کا حامل بناتی ہے، اور اس کا ہر پہلو ایک بڑی قوت کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔

خودی کی وسعت:

یہ صلاحیت خودی کو ایک ایسی حقیقت بنا دیتی ہے جو بظاہر ایک جزو ہوتے ہوئے بھی کل کے برابر قوت رکھتی ہے۔

قوت کا راز:

اقبال سمجھاتے ہیں کہ خودی کی اصل عظمت اسی توازن اور اسی پوشیدہ قوت میں ہے، جو اسے ہر میدان میں غالب رکھتی ہے۔

مثال

جیسے بیج ایک چھوٹا سا جزو ہے مگر اس میں پورے درخت کو جنم دینے کی قوت پوشیدہ ہوتی ہے، ویسے ہی خودی کا جزو کل پر غلبہ پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خودی بیک وقت آزاد اور پابند ہے، اور اس کے جزو میں کل پر غالب آنے کی قوت پوشیدہ ہے، اور یہی اس کی اصل عظمت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button