رموز بے خودی

سطوت مسلم بخاک و خون تپید

سطوت مسلم بخاک و خون تپید

دید بغداد آنچه روما هم ندید

ترجمہ

مسلمان کی شوکت خاک اور خون میں تڑپ اٹھی، اور بغداد نے وہ کچھ دیکھا جو روم نے بھی نہ دیکھا تھا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں تاتاری حملے کے نتیجے میں ملتِ اسلامیہ کی سیاسی و تہذیبی شوکت کے خاک و خون میں لتھڑ جانے کا دردناک منظر بیان کرتے ہیں۔ “سطوت مسلم” محض فوجی طاقت نہیں بلکہ علمی مرکزیت، تہذیبی وقار، روحانی اعتماد اور سیاسی ہیبت کا مجموعہ ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ یہ سطوت خاک و خون میں تپید، تو وہ امت کی اس حالت کو دکھاتے ہیں جس میں اس کی عظمت محض کم نہ ہوئی بلکہ مجروح ہو کر زمین پر تڑپنے لگی۔ پھر بغداد کی مثال دے کر وہ اس سانحے کی شدت کو تاریخی بے مثالی کے درجے تک پہنچاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

سطوتِ مسلم کا مفہوم:

سطوت سے مراد صرف غلبہ یا رعب نہیں بلکہ وہ اجتماعی شان ہے جو ایمان، علم، نظم، عدل اور تہذیبی تولید سے پیدا ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی سطوت اس بات میں تھی کہ وہ صرف حکمران نہ تھے بلکہ علم کے وارث، تہذیب کے معمار اور دینی شعور کے حامل تھے۔

اسی لیے اس سطوت کا زخم صرف سلطنت کے زوال تک محدود نہ تھا۔ جب وہ خاک و خون میں تپید، تو اس کے ساتھ مدارس، کتب خانے، علمی روایت، نظمِ حیات اور اجتماعی اعتماد سب زخمی ہوئے۔

خاک و خون میں تپنا:

“تپید” کا لفظ نہایت دردناک ہے۔ اس میں صرف گرنا نہیں بلکہ زخمی ہو کر تڑپنا شامل ہے۔ گویا امت کی شوکت ایک مردہ پتھر کی طرح خاموش نہ پڑی بلکہ ایک زخمی وجود کی طرح درد میں لوٹتی رہی۔ اقبال اس لفظ سے دکھاتے ہیں کہ تہذیبی زوال میں صرف چیزیں تباہ نہیں ہوتیں، ایک زندہ تاریخ کرب سے گزرتی ہے۔

خاک و خون کی ترکیب اس تباہی کو جسمانی اور تہذیبی دونوں سطحوں پر ظاہر کرتی ہے: زمین بھی آلودہ ہے اور خون بھی بہہ رہا ہے، یعنی مادی و معنوی دونوں دنیا بکھر گئی ہیں۔

بغداد کی علامت:

بغداد مسلمانوں کی علمی، تہذیبی اور سیاسی مرکزیت کی عظیم علامت تھا۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ بغداد نے وہ دیکھا جو روم نے بھی نہ دیکھا تھا، تو ان کا مقصد صرف تقابل نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ اس سانحے کی شدت تاریخ کی بڑی بڑی سلطنتوں کے معمولی تجربے سے بھی بڑھ کر تھی۔

بغداد کی تباہی دراصل ایک عالم گیر علامت بن جاتی ہے: اگر اتنا بڑا مرکز اس طور لرز سکتا ہے تو امت کو اپنی بقا کے اصل سرچشمے صرف ظاہری طاقت میں نہیں ڈھونڈنے چاہییں۔

روم سے تقابل:

“روما هم ندید” کے ذریعے اقبال شدت، حیرت اور تاریخی انفرادیت کو بڑھاتے ہیں۔ روم تاریخ کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا تھا، اس کے تجربات بھی عظیم تھے، مگر بغداد پر جو گزری وہ اس پیمانے سے بھی باہر دکھائی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال تاتاری فتنہ کو محض معمول کی سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تہذیبی قیامت سمجھتے ہیں۔

یہ تقابل مسلمانوں کو ماضی کی عظمت پر فخر دلانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے زخم کی سنجیدگی کا احساس دلانے کے لیے ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سطوت صرف اسلحہ، ریاست یا معیشت سے نہیں بنتی، اور ان کے کمزور ہونے سے سطوت گر بھی سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس وہ علمی، اخلاقی اور روحانی بنیادیں باقی ہیں جو شوکت کو دوبارہ زندہ کر سکیں۔ اقبال ماضی کے زخم کا ذکر اس لیے کرتے ہیں کہ ہم حال میں اسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ محض ظاہری ڈھانچہ ہمیں کافی ہے۔

اگر باطن کمزور ہو تو بغداد جیسے مراکز بھی بچ نہیں پاتے؛ اور اگر باطن زندہ ہو تو خاک و خون کے بعد بھی نئی تاریخ لکھی جا سکتی ہے۔

مثال

جیسے ایک عظیم جامعہ صرف اس کی عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے علمی وقار سے پہچانی جاتی ہے، اور اگر وہ وقار ٹوٹ جائے تو عمارتیں بھی اس کی عظمت نہیں بچا سکتیں، ویسے ہی مسلمانوں کی سطوت بھی صرف اقتدار نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی وقار تھی جو بغداد کی تباہی میں شدید زخمی ہوئی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مسلمانوں کی شوکت کو خاک و خون میں تڑپتی ہوئی دکھاتے ہیں اور بغداد کی مثال سے اس سانحے کو بے مثال تاریخی شدت عطا کرتے ہیں۔ یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ تہذیبی زوال صرف سیاسی شکست نہیں بلکہ پوری اجتماعی عظمت کے مجروح ہو جانے کا نام ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button