رموز بے خودی

از چہ رو بر بستہ ربط مردم است

از چہ رو بر بستہ ربط مردم است

رشتۂ ایں داستاں سر در گم است

ترجمہ

آخر کس بنیاد پر لوگوں کا باہمی ربط اور تعلق قائم ہوا؟ اس داستان کا سرا اور اس کا آغاز پوشیدہ اور ایک معمّہ ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر سے ایک نئے مضمون کا آغاز کرتے ہیں، جس میں وہ یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ملت افراد کے باہمی اختلاط سے کیسے وجود میں آتی ہے۔ اس شعر میں وہ انسانوں کے باہمی ربط کے راز پر غور کی دعوت دیتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

انسانی ربط کا سوال:

اقبال سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر انسانوں کے درمیان یہ باہمی تعلق اور ربط کس بنیاد پر قائم ہوا۔ کون سی چیز ہے جو بکھرے ہوئے افراد کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہے۔

یہ سوال بظاہر سادہ ہے مگر اس کے پیچھے ایک گہری حقیقت پوشیدہ ہے، کیونکہ اسی ربط سے خاندان، معاشرہ اور ملت وجود میں آتے ہیں۔

داستان کا گم شدہ سرا:

شاعر کہتے ہیں کہ اس داستان کا سرا یعنی اس کا اصل آغاز پوشیدہ اور معمّہ ہے۔ انسانی اجتماع کی ابتدا کہاں سے ہوئی، یہ ایک ایسا راز ہے جس تک سرسری نظر سے پہنچنا ممکن نہیں۔

جیسے کسی کہانی کا آغاز اگر کھو جائے تو اس کی پوری حقیقت سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے، اسی طرح انسانی ربط کی اصل بنیاد بھی گہرے غور و فکر کی متقاضی ہے۔

فطری تقاضا:

اقبال اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ربط محض اتفاق نہیں بلکہ ایک فطری تقاضا ہے۔ انسان اپنی فطرت میں اجتماعی ہے اور تنہا رہنا اس کی سرشت کے خلاف ہے۔

غور و فکر کی دعوت:

شاعر قاری کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس راز پر غور کرے کہ ملت کیسے بنتی ہے اور افراد کا باہمی تعلق کس حکمت پر قائم ہے، کیونکہ یہی آنے والے مضمون کی بنیاد ہے۔

مثال

جیسے کسی عمارت کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد کہاں اور کیسے رکھی گئی، اسی طرح انسانی معاشرے کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ افراد کا یہ باہمی ربط کس اصول پر قائم ہوا۔

خلاصہ

اس شعر میں اقبال انسانوں کے باہمی ربط کو ایک گہرا راز قرار دیتے ہیں اور قاری کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس بنیاد پر غور کرے جس سے ملت وجود میں آتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button