رموز بے خودی

آتش قهر خدا سرمایه ات

آتش قهر خدا سرمایه ات

جنت الفردوس زیر سایه ات

ترجمہ

خدا کے قہر کی آگ تیرا سرمایہ ہے، اور جنت الفردوس تیرے سایے کے نیچے ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں قوت کے روحانی مقام کو بیان کرتے ہیں۔ یہاں جنگی ہتھیار کی زبان سے ایک ایسی حقیقت ظاہر ہوتی ہے جو بظاہر سخت مگر باطن میں نہایت پاکیزہ ہے: اگر قوت خدا کے قہر، یعنی عدل، حق اور باطل کے رد کی خدمت میں ہو تو وہ محض ہلاکت کا وسیلہ نہیں رہتی، بلکہ اس کا انجام جنتی شرف سے جڑ جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:

قہرِ خدا کا مفہوم:

قہرِ خدا سے مراد وہ الٰہی رد اور غضب ہے جو ظلم، فساد، سرکشی اور باطل پر وارد ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اگر کوئی قوت اس قہر کی ترجمان بنے، یعنی ظلم کے خاتمے، عدل کے قیام اور حق کے دفاع کے لیے استعمال ہو، تو اس کی اصل بنیاد غضبِ نفس نہیں بلکہ غضبِ حق ہوتی ہے۔

یہی فرق بہت اہم ہے۔ ذاتی غصہ انتقام پیدا کرتا ہے، مگر حق کے لیے اٹھنے والی غیرت انسان کو ایک بڑے اخلاقی دائرے میں رکھتی ہے۔ اقبال اس قوت کے لیے “سرمایہ” کا لفظ لاتے ہیں، یعنی یہ اس کی اصل متاع اور حقیقت ہے۔

سرمایہ کیوں کہا:

سرمایہ وہ چیز ہے جس پر پوری تجارت یا پوری کارگزاری قائم ہو۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اس قوت کی اصل متاع دنیاوی رعب، شہرت یا خون ریزی نہیں، بلکہ وہ حقانی نسبت ہے جو اسے خدا کے عدل کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اگر یہ نسبت ٹوٹ جائے تو وہی تلوار یا قوت اپنا شرف کھو دیتی ہے۔

اس سے ایک بڑا سبق بھی ملتا ہے: ظاہری قوت کے پیچھے باطنی سرمایہ کیا ہے؟ اگر جواب عدل، حق اور خدا کی رضا نہ ہو تو وہ قوت مقدس نہیں رہتی۔

جنت الفردوس کے سایے کا معنی:

دوسرے مصرع میں اقبال قوت کے آخری انجام کو آخرت کے تناظر میں لے جاتے ہیں۔ اگر قوت خدا کے لیے ہو، ظلم کے خلاف ہو، اور باطن میں حق کا امانت دار ہو، تو اس کا انجام جنتی عزت سے جڑتا ہے۔ یہاں “زیر سایه ات” ایک عظیم عزت، بلند انجام اور روحانی قبولیت کی تعبیر ہے۔

یعنی وہ قوت جو دنیا میں عدل کی خدمت کرے، آخرت میں بھی بےمعنی نہیں رہتی۔ اقبال دنیاوی عمل کو آخرتی انجام کے ساتھ باندھ کر قوت کے مسئلے کو محض سیاسی یا عسکری نہیں رہنے دیتے۔

قوت اور تقویٰ کا رشتہ:

یہ شعر سکھاتا ہے کہ تقویٰ اور قوت ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ اگر قوت خدا کے لیے ہو، نفس کے لیے نہ ہو، تو وہ تقویٰ کی ضد نہیں بلکہ اس کا ایک عملی اظہار بن سکتی ہے۔ اقبال یہی کہنا چاہتے ہیں کہ دینی زندگی صرف محراب یا خلوت کی زندگی نہیں، بلکہ عدل کے لیے قوت کو درست رخ دینا بھی اس میں شامل ہے۔

اسی لیے اقبال کا مردِ مومن کمزور، بےاثر اور بےعمل نہیں ہوتا۔ وہ نرم دل بھی ہوتا ہے اور باطل کے مقابلے میں آتشِ قہر بھی۔

فرد اور ملت کے لیے پیغام:

فرد اگر اپنے اختیار، قلم، زبان، فیصلہ یا طاقت کو خدا کے عدل سے جوڑ دے تو اس کا عمل دنیا میں وقار اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ملت کے لیے بھی یہی اصول ہے: اس کی قوت اگر حق اور عدل کے لیے ہو تو وہ اس کے شرف کی بنیاد بنے گی، اور اگر نفس و جبر کے لیے ہو تو وہ اس کے زوال کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

پس یہ شعر قوت کو مکمل اخلاقی اور آخرتی تناظر میں رکھتا ہے، اور امت کو اس کے اصل میزان سے آشنا کرتا ہے۔

مثال

ایک قاضی یا حاکم جب سخت فیصلہ کرتا ہے مگر وہ ذاتی غصے سے نہیں بلکہ عدل کے قیام کے لیے ہوتا ہے، تو وہ سختی ظلم نہیں رہتی بلکہ حق کی خدمت بن جاتی ہے۔ اقبال قوت کی درست روح کو اسی فرق سے سمجھاتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک وہ قوت جو خدا کے عدل اور حق کے قہر کی خدمت کرے، اسی میں اس کی اصل متاع ہے، اور اسی کا انجام جنتی عزت سے وابستہ ہے۔ یہ شعر قوت کو نفس سے اٹھا کر آخرت کے میزان میں رکھتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button