رموز بے خودی

نوری و هم آتشی فرمانبرش

نوری و هم آتشی فرمانبرش

گم رضایش در رضای شوهرش

ترجمہ

وہ ایسی ہستی ہیں کہ نور بھی ان کا فرمانبردار ہے اور آتش بھی، اور ان کی اپنی رضا اپنے شوہر کی رضا میں ڈھلی ہوئی ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں حضرت فاطمہ الزہراء کی شخصیت کے دو پہلو ایک ساتھ بیان کرتے ہیں: ایک ان کی روحانی رفعت، اور دوسرا ان کا ازدواجی اخلاص و موافقت۔ “نوری و هم آتشی فرمانبرش” میں مبالغہ نہیں بلکہ ایک روحانی تصویر ہے۔ نور پاکیزگی، روشنی، اور ہدایت کی علامت ہے، جبکہ آتش قوت، جوش، اور تاثیر کی۔ اقبال گویا کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ الزہراء کی شخصیت میں ایسا توازن اور ایسی روحانی مرکزیت ہے کہ لطافت اور قوت دونوں ان کے تابع نظر آتے ہیں۔

دوسرے مصرعے میں “گم رضایش در رضای شوهرش” کو اقبال غلامی یا بے شخصیتی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی ہم آہنگی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ ازدواجی زندگی میں ان کی رضا ضد، انا، اور خود نمائی کے بجائے موافقت، محبت، اور شریکِ حیات کے ساتھ اخلاص میں ڈھلی ہوئی تھی۔ چونکہ یہ نسبت حضرت علی المرتضیٰ جیسے حق شناس اور روحانی بلند مقام رکھنے والے شوہر سے ہے، اس لیے یہ موافقت دراصل ایک مشترک دینی و اخلاقی زندگی کی علامت بن جاتی ہے۔

نور اور آتش کا اجتماع:

عام طور پر نور نرمی اور آتش شدت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، مگر اقبال انہیں ایک ہی شخصیت میں جمع دکھاتے ہیں۔ اس سے حضرت فاطمہ الزہراء کے کمالِ توازن کی تصویر بنتی ہے۔

یعنی ان میں پاکیزگی بھی ہے، اثر آفرینی بھی؛ لطافت بھی ہے، قوت بھی۔ یہی جامعیت انہیں کامل اسوہ بناتی ہے۔

رضا کی ہم آہنگی:

یہاں اپنی رضا کو شوہر کی رضا میں گم کرنا خود مٹانا نہیں، بلکہ ایک بڑے مشترک مقصد میں اپنی خواہشات کو مہذب اور ہم آہنگ کرنا ہے۔ یہ تعلق زور سے نہیں بلکہ محبت اور اعتماد سے پیدا ہوتا ہے۔

اقبال کے نزدیک حضرت فاطمہ الزہراء کا یہ وصف ازدواجی زندگی کے وقار اور باہمی وفاداری کی اعلیٰ مثال ہے۔

علوی نسبت کا پس منظر:

چونکہ یہاں شوہر سے مراد حضرت علی المرتضیٰ ہیں، اس لیے یہ موافقت محض شخصی رغبت نہیں بلکہ ایک حق پرست، زاہد، اور بلند کردار رفاقت کی ہم نوائی بھی ہے۔

اس طرح حضرت فاطمہ الزہراء کی رضا ایک ایسے گھرانے کے مقصد میں شامل ہو جاتی ہے جو اسلام کے اخلاقی اور روحانی جوہر کا علم بردار ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ازدواجی زندگی میں خود نمائی اور انا کے تصادم بہت بڑھ جاتے ہیں، جس سے رفاقت کمزور پڑتی ہے۔ اقبال ایک ایسا نمونہ دیتے ہیں جہاں باہمی موافقت کم زوری نہیں بلکہ اخلاقی عظمت ہے۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ کامل رفاقت اس وقت بنتی ہے جب دو افراد ایک دوسرے کی عزت کرتے ہوئے اپنی خواہشات کو بڑے مقصد کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔ حضرت فاطمہ الزہراء اسی اعلیٰ ہم آہنگی کی مثال ہیں۔

مثال

جیسے دو ساز اگر ایک ہی سر میں آ جائیں تو ان کی آوازیں ایک دوسرے کو دبانے کے بجائے خوب صورتی سے بڑھا دیتی ہیں، ویسے ہی اعلیٰ رفاقت میں دو رضائیں تصادم کے بجائے ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں حضرت فاطمہ الزہراء کی روحانی جامعیت اور ازدواجی اخلاص کو ساتھ لاتے ہیں۔ ان کی شخصیت نور و قوت کے توازن اور رفاقت کی بلند ہم آہنگی کی مثال بن کر سامنے آتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button