رموز بے خودی

آنکه نازد بر وجودش کائنات

آنکه نازد بر وجودش کائنات

ذکر او فرمود با طیب و صلوة

ترجمہ

وہ ہستی جس کے وجود پر کائنات ناز کرتی ہے، اس کا ذکر پاکیزگی اور درود کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال عورت اور امومت کے احترام کو محض سماجی مفاد تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دینی و روحانی تقدیس کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ “آنکه نازد بر وجودش کائنات” میں عورت یا ماں کے وجود کو ایک ایسی ہستی کے طور پر دیکھا گیا ہے جس پر پوری کائنات فخر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی کی محض ایک جزوی ضرورت نہیں بلکہ تخلیق اور بقا کے نظام میں ایک مرکزی مرتبہ رکھتی ہے۔ اقبال عورت کو اسی وسیع کائناتی نسبت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

“ذکر او فرمود با طیب و صلوة” یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا ذکر پاکیزگی، ادب، اور تقدیس کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اقبال اسلام کی اس روح کو سامنے لاتے ہیں جس میں ماں، عورت، اور پرورش کے منصب کو محض خانگی کام نہیں سمجھا گیا، بلکہ اس کے ساتھ اخلاقی و روحانی حرمت وابستہ کی گئی ہے۔ “طیب” پاکی کی علامت ہے اور “صلوة” دعا، درود، اور تقدس کی۔ اس طرح شاعر یہ بتاتے ہیں کہ عورت کی عظمت کا ذکر بھی پاکیزہ زبان اور بلند احساس کے ساتھ ہونا چاہیے۔

کائنات کا ناز:

یہ تعبیر عورت کے مقام کو نہایت بلند کرتی ہے۔ کائنات کسی چیز پر ناز اسی وقت کرتی ہے جب وہ تخلیق کے نظام میں مرکزی حسن اور اہمیت رکھتی ہو۔ اقبال عورت کو اسی زاویے سے دیکھتے ہیں۔

خصوصاً امومت کے تناظر میں یہ اور بھی معنی خیز ہے، کیونکہ نسلوں کی بقا، انسان کی ابتدائی تربیت، اور اخلاقی پرورش اسی کے ذریعے چلتی ہے۔

ذکر با طیب و صلوة:

اس سے مراد یہ ہے کہ عورت کے بارے میں گفتگو کا انداز بھی احترام آمیز اور پاکیزہ ہونا چاہیے۔ اقبال اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ عورت کا مقام سطحی یا محض جسمانی پہلو سے سمجھا جائے۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ عورت کے وجود کا صحیح ادراک تبھی ہوگا جب اس کے بارے میں زبان بھی مہذب ہو، نگاہ بھی پاکیزہ ہو، اور احساس بھی توقیر سے بھرپور ہو۔

اسلامی نسبت:

فصل کے عنوان میں بھی صاف کہا گیا ہے کہ امومت کا حفظ و احترام اسلام ہے۔ اقبال اسی نسبت کو یہاں شعری صورت میں پیش کرتے ہیں۔ یعنی عورت کا احترام محض جذباتی مروت نہیں بلکہ ایک دینی شعور کا حصہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اگلے اشعار میں جو مسلمان امومت کو حقیر سمجھے گا، اسے قرآن کی حکمت سے محروم کہا جائے گا۔ اس شعر میں اس محرومی کے برعکس حقیقی اسلامی نگاہ رکھی گئی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج عورت کے بارے میں گفتگو اکثر دو انتہاؤں میں بٹ جاتی ہے: یا اسے محض استعمال کی چیز سمجھا جاتا ہے، یا اس کی عظمت کو صرف نعرے میں بدل دیا جاتا ہے۔ اقبال ان دونوں سطحوں سے اوپر اٹھ کر ایک باوقار، دینی، اور تہذیبی تصور دیتے ہیں۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ عورت، بالخصوص ماں، کے مقام کو پاکیزہ فہم کے ساتھ سمجھیں۔ اس کا ذکر احترام، تقدیس، اور گہری انسانی قدردانی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اقبال کے نزدیک یہی اسلام کی حکمت کے زیادہ قریب ہے۔

مثال

جیسے کسی مقدس امانت کا ذکر انسان لاپرواہی سے نہیں کرتا بلکہ ادب کے ساتھ کرتا ہے، ویسے ہی عورت اور امومت کا مقام بھی وقار اور پاکیزگی کے ساتھ سمجھا جانا چاہیے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں عورت اور امومت کے مقام کو کائناتی فخر اور دینی توقیر کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اس کا ذکر پاکیزگی اور احترام کے ساتھ ہونا چاہیے، کیونکہ یہی انسانی و اسلامی فہم کا تقاضا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button