رموز بے خودی

عشق حق پروردهٔ آغوش او

عشق حق پروردهٔ آغوش او

این نوا از زخمهٔ خاموش او

ترجمہ

حق پرورش پانے والا عشق اسی کی آغوش میں پلتا ہے، اور یہ نغمہ اسی کے خاموش زخمہ سے پیدا ہوتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال عورت، خصوصاً ماں، کو عشقِ حق کے پرورش گاہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ “عشق حق” اقبال کے ہاں محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ وہ قوت ہے جو انسان کو سچائی، شجاعت، قربانی، خدمت، اور خدا رُخی کی طرف لے جاتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہی عشق عورت کی آغوش میں پرورش پاتا ہے۔ یعنی انسان کے دل میں حق کی محبت، ایثار کی حرارت، اور بڑے مقصد کے لیے جینے کا ذوق ابتدائی طور پر اسی محبت آمیز اور تربیت کنندہ آغوش سے نشوونما پاتا ہے۔

“این نوا از زخمهٔ خاموش او” اس تصور کو بہت گہرائی دیتا ہے۔ عورت کا زخمہ “خاموش” ہے، یعنی اس کا کام اکثر شور، دعویٰ، اور نمایاں ظاہری طاقت کے ساتھ نہیں ہوتا۔ مگر اس خاموشی میں ایسی تاثیر ہے کہ پوری انسانی زندگی کے بڑے نغمے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ماں کی گود، اس کی دعا، اس کی پرورش، اس کی شفقت، اور اس کی خاموش قربانی، یہی سب وہ زخمہ ہیں جن سے بعد میں حق پرست شخصیات، بامقصد مردانِ کار، اور زندہ ملتیں تیار ہوتی ہیں۔ اقبال اس چھپی ہوئی عظمت کو نمایاں کر رہے ہیں۔

عشقِ حق کی پرورش:

عشقِ حق کسی مجرد درس سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے دل کی زمین چاہیے، اور وہ زمین ابتدائی محبت، امان، شفقت، اور اخلاقی تربیت سے بنتی ہے۔ اقبال عورت کی آغوش کو اسی زمین کی حیثیت دیتے ہیں۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کا کردار صرف جسمانی پرورش تک محدود نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی پرورش تک بھی وسیع ہے۔

خاموش زخمہ:

خاموش زخمہ اس کام کی طرف اشارہ ہے جو بظاہر شور کے بغیر انجام پاتا ہے مگر اس کا اثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی قربانی، اس کا صبر، اس کی تربیت، اور اس کی دعا بسا اوقات نمایاں نہیں ہوتیں، مگر انہی سے بڑے نغمے نکلتے ہیں۔

اقبال کے نزدیک تہذیب کی بڑی بنیادیں اکثر اسی خاموشی میں رکھی جاتی ہیں۔ جو کام اعلان سے نہیں ہوتا، وہ پرورش سے ہوتا ہے۔

امومت اور ملت:

اگر عشقِ حق عورت کی آغوش میں پرورش پاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملت کی اخلاقی اور روحانی تعمیر کا آغاز بھی گھر اور امومت سے ہوتا ہے۔ قوم کا مزاج آنے والی نسلوں میں اسی تربیت کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

اس لیے امومت کا احترام صرف ایک سماجی مروت نہیں، قومی بقا اور روحانی تعمیر کا تقاضا بھی ہے۔ اقبال اس حقیقت کو اس شعر میں نہایت لطیف مگر طاقت ور انداز میں ظاہر کرتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج طاقت، تعلیم، اور تعمیر کے بڑے بڑے نظام تو نمایاں ہیں، مگر ابتدائی تربیت، محبت، اور خاموش اخلاقی پرورش کی عظمت اکثر کم سمجھی جاتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ انسان کی بڑی اخلاقی اور روحانی قوتیں انہی خاموش سرچشموں سے نکلتی ہیں۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانی عظمت کی بنیادیں ہمیشہ شور سے نہیں اٹھتیں۔ بہت سے بڑے نغمے عورت کی خاموش قربانی اور ماں کی آغوش ہی میں تیار ہوتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک اسی لیے امومت کا مقام ملت کی بقا سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

مثال

جیسے بیج خاموش مٹی میں پل کر بعد میں تناور درخت بنتا ہے، ویسے ہی حق کی محبت اور اخلاقی عظمت ابتدائی پرورش کی خاموش آغوش میں نشوونما پاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں عورت کی آغوش کو عشقِ حق کی پرورش گاہ قرار دیتے ہیں۔ انسان اور ملت کی بڑی معنوی آوازیں اسی خاموش مگر مؤثر تربیت سے پیدا ہوتی ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button