رموز بے خودی

آنکه بر اشیا کمند انداخت است

آنکه بر اشیا کمند انداخت است

مرکب از برق و حرارت ساخت است

ترجمہ

جس نے اشیا پر کمند ڈال دی ہے، اس نے بجلی اور حرارت سے اپنی سواری بنا لی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال اپنے پورے استدلال کو ایک حیرت انگیز طور پر عملی مثال میں بدل دیتے ہیں۔ اشیا پر کمند ڈالنے کا مطلب ہے دنیا کی چیزوں، قوتوں، قوانین، اور وسائل کو اپنی گرفتِ علم اور تدبیر میں لے آنا۔ “کمند” محض شکار کا آلہ نہیں، تصرف کی علامت ہے۔ اقبال یہ کہتے ہیں کہ جس نے دنیا کی اشیا کو سمجھ لیا، ان پر سوال اٹھایا، ان کے باطن تک رسائی حاصل کی، اور انہیں اپنے مقصد کے تابع کر لیا، وہ محض نظری آدمی نہیں رہتا؛ وہ تمدن ساز بن جاتا ہے۔

“مرکب از برق و حرارت ساخت است” میں اقبال نہایت واضح طور پر قدرتی قوتوں کی تسخیر کی بات کرتے ہیں۔ برق اور حرارت، دونوں ایسی قوتیں ہیں جو پہلے محض مظاہرِ فطرت معلوم ہوتی تھیں، مگر انسان نے ان کے قوانین سمجھ کر انہیں اپنی سواری، اپنے تمدن، اپنے سفر، اور اپنی زندگی کے وسائل میں بدل دیا۔ اس شعر میں ہمیں جدید سائنس، صنعت، انجینئرنگ، مواصلات، اور توانائی کی پوری دنیا کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اقبال یہاں فقط داد نہیں دے رہے؛ وہ مسلمان کو بھی اسی راستے کی طرف بلا رہے ہیں۔

کمندِ اشیا:

کمند پھینکنا اس بات کا استعارہ ہے کہ آدمی چیزوں کو آزاد اور بے قابو رہنے نہ دے، بلکہ ان کے ساتھ فعال اور قابضانہ تعلق قائم کرے۔ اشیا کو سمجھنا، ان کے اندر کے قانون کو پہچاننا، اور ان سے مفید نتائج نکالنا، یہی کمند ڈالنا ہے۔

اقبال اس سے ظاہر کرتے ہیں کہ کائنات کے ساتھ کامیاب تعلق انفعال سے نہیں، اقدام سے پیدا ہوتا ہے۔ جو قوم صرف حیرت کرے گی وہ مرعوب رہے گی؛ جو کمند ڈالے گی وہ قوت حاصل کرے گی۔

برق و حرارت کی سواری:

بجلی اور حرارت کا “مرکب” بن جانا اس زمانے کی جدید اختراعات کی طرف بہت واضح اشارہ ہے۔ وہ قوتیں جو کبھی صرف طبیعی مظاہر تھیں، انسان کے ہاتھ میں سفر، صنعت، مشین، اور روشنی کے وسائل بن گئیں۔ اقبال کی نظر میں یہی تسخیرِ اشیا ہے۔

یہاں سواری سے مراد صرف نقل و حمل نہیں، بلکہ تہذیبی حرکت بھی ہے۔ جس قوم کے پاس توانائی کی قوتوں پر دسترس ہو، اس کی رفتار، رسائی، اور اثر سب بڑھ جاتے ہیں۔ اقبال اس حقیقت کو مسلمانوں کے سامنے آئینہ بنا کر رکھتے ہیں۔

علم سے تمدن تک:

اس شعر میں علم براہِ راست تمدن میں بدل رہا ہے۔ حکمتِ اشیا کا حاصل صرف اندرونی لذت یا فلسفیانہ فخر نہیں، ایک نئی خارجی قوت بھی ہے۔ جب انسان اشیا پر کمند ڈالتا ہے تو مشاہدہ ایجاد میں بدلتا ہے، اور ایجاد زندگی کی صورت بدل دیتی ہے۔

اقبال کے نزدیک مسلمان اگر اپنی کھوئی ہوئی حیات پانا چاہتا ہے تو اسے اسی علمی-تمدنی ربط کو دوبارہ قائم کرنا ہوگا۔ صرف ماضی کے کارنامے گنانا کافی نہیں؛ اشیا پر نئی کمند ڈالنی ہوگی۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دنیا میں عزت، وقار اور خود کفالت انہی کو ملتی ہے جو قدرتی قوتوں اور مادی وسائل کی زبان سمجھتے ہیں۔ بجلی، حرارت، توانائی، مواصلات، اور صنعت کے میدان میں پسماندہ قومیں دوسروں کی محتاج رہتی ہیں۔ اقبال اس حقیقت کو بہت پہلے شعری صورت میں بیان کر رہے تھے۔

یہ شعر امت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ کائنات کے ساتھ اپنا تعلق دوبارہ زندہ، تخلیقی اور قابضانہ بنائے۔ جو اشیا پر کمند ڈالے گا وہی برق و حرارت کو اپنے سفر اور اپنی تہذیب کی سواری بنا سکے گا۔

مثال

جیسے ایک ماہر انجینئر پانی، بھاپ یا بجلی کو محض منظر نہیں سمجھتا بلکہ انہیں مشین اور سفر کی طاقت میں بدل دیتا ہے، ویسے ہی زندہ قوم فطرت کی قوتوں کو اپنے اختیار میں لے آتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ جس قوم نے دنیا کی اشیا کو علم اور تدبیر سے اپنے قبضے میں لیا، اس نے قدرتی قوتوں کو تمدنی حرکت کا وسیلہ بنا لیا۔ یہی تسخیرِ اشیا کا عملی ثمر ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button