رموز بے خودی

ای که با نادیده پیمان بسته‌ای

ای که با نادیده پیمان بسته‌ای

همچو سیل از قید ساحل رسته‌ای

ترجمہ

اے وہ شخص جس نے نادیدہ حقیقت سے عہد باندھا ہے، تو سیلاب کی طرح ساحل کی قید سے آزاد ہو چکا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ملت کے اس فرد کو خطاب کرتے ہیں جس کی بنیاد صرف محسوس دنیا پر نہیں بلکہ نادیدہ حقیقت پر قائم ہے۔ “نادیدہ” سے مراد وہ غیبی سچائی ہے جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی مگر ایمان، وجدان، وحی اور باطنی یقین کے ذریعے دل پر منکشف ہوتی ہے۔ مومن کی ساری قوت اسی نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ محض ظاہری اسباب کا بندہ نہیں رہتا بلکہ اس کا رشتہ ایک بلند تر حقیقت سے جڑ جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب یہ پیمان قائم ہو جائے تو انسان کا باطن بدل جاتا ہے، اس کے خوف چھوٹنے لگتے ہیں، اس کی وابستگیاں بدل جاتی ہیں، اور اس کی حرکت میں نئی وسعت پیدا ہوتی ہے۔

“ہمچو سیل از قید ساحل رسته‌ای” میں سیل کا استعارہ نہایت معنی خیز ہے۔ سیلاب اپنی قوت میں محدود نہر یا بندھے ہوئے پانی کی طرح نہیں ہوتا۔ وہ روکنے والی حدوں کو توڑ دیتا ہے، اپنی راہ خود بناتا ہے، اور رکاوٹ کے سامنے ٹھہر کر سو نہیں جاتا۔ اقبال یہ نہیں چاہتے کہ مسلمان بے سمت شور بن جائے؛ وہ یہ بتاتے ہیں کہ غیب سے جڑا ہوا انسان محض ساحلی احتیاطوں کا اسیر نہیں رہتا۔ وہ عادت، خوف، مصلحت پرستی، اور مادہ پرستی کی بنائی ہوئی حدود سے اوپر اٹھنے کی صلاحیت پا لیتا ہے۔

نادیدہ سے عہد:

پیمان باندھنے کا مطلب صرف زبانی اقرار نہیں، ایک وفاداری قبول کرنا ہے۔ مومن جب نادیدہ حقیقت سے عہد کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے آپ کو اس رب کے سپرد کرتا ہے جسے دیکھا نہیں مگر پہچانا گیا ہے۔ اسی شناخت سے زندگی کی ترتیب بدلتی ہے۔ اب اس کی امیدیں بازار، دربار، قوت یا تعداد میں نہیں بلکہ اس سچائی میں لگتی ہیں جو ہر ظاہری کمی کے باوجود باقی رہتی ہے۔

یہ عہد انسان کو ایک نئے اعتماد سے بھر دیتا ہے۔ جو صرف دکھائی دینے والی طاقتوں کو مانتا ہے، وہ ان کے بدلتے ہوئے اتار چڑھاؤ سے لرزتا رہتا ہے۔ مگر جو غیب سے جڑا ہو وہ جانتا ہے کہ حقیقت کا بڑا حصہ نگاہ کے پردے کے پیچھے ہے۔ اقبال اسی یقین کی بنیاد پر مومن کو آزاد مزاج بناتے ہیں۔

ساحل کی قید:

ساحل بظاہر حفاظت دیتا ہے مگر پانی کو ایک حد میں بھی رکھتا ہے۔ اقبال کے نزدیک بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو محفوظ بھی محسوس کراتی ہیں اور مقید بھی رکھتی ہیں: روایت کا جمود، مصلحت کی عادت، دنیاوی نفع کا حساب، شکست کا خوف، اور اکثریت کی نفسیات۔ اگر زندگی صرف انھی ساحلوں کے اندر رہے تو اس کی اصل وسعت کبھی ظاہر نہیں ہوتی۔

غیب سے پیمان باندھنے والا شخص ان ساحلی حدود کو مطلق نہیں سمجھتا۔ وہ جانتا ہے کہ اگر حق کا تقاضا ہو تو معمول کے کنارے چھوڑنے پڑتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان حرکت میں بدلتا ہے۔ اقبال کے ہاں ایمان کا ثمرہ اندر کی آزادی ہے، اور یہی آزادی بڑی تاریخ ساز قوت بن سکتی ہے۔

سیلاب کی حرکت:

سیلاب کا استعارہ صرف شدت کے لیے نہیں بلکہ داخلی فراوانی کے لیے بھی ہے۔ جب پانی بہت بڑھ جائے تو اس کے لیے پرانی حدیں ناکافی ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح جب دل میں یقین، شوق، غیرت اور مقصد کی کثرت آ جائے تو پرانے سانچے تنگ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اقبال مسلمان کو یہی باطنی فراخی دینا چاہتے ہیں۔

اس حرکت کا صحیح رخ توحید طے کرتی ہے۔ اگر اندر کا جوش غیب سے کٹا ہو تو وہ فساد بن سکتا ہے، مگر اگر وہ وحی اور حق کے ساتھ جڑا ہو تو اس سے تعمیری قوت پیدا ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک سیلابی کیفیت کا مطلب جرات مند، وسیع اور بندش شکن زندگی ہے، نہ کہ بے مہار زندگی۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان کا دعویٰ تو رکھتا ہے مگر عملی زندگی میں دکھائی دینے والی طاقتوں ہی سے مرعوب رہتا ہے۔ وہ منصوبہ بھی انھی کے مطابق بناتا ہے، امید بھی انھی سے باندھتا ہے، اور خوف بھی انھی سے کھاتا ہے۔ اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ اگر تم نے واقعی نادیدہ حقیقت سے عہد باندھا ہے تو پھر تمہاری نفسیات بھی بدلنی چاہیے۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان محض داخلی سکون نہیں، حدود شکن توانائی بھی ہے۔ اگر ملت کو وسعتِ حیات چاہیے تو اسے ایسے افراد درکار ہیں جو غیب پر یقین کی وجہ سے ساحلی خوف سے نکل سکیں۔ اقبال کی یہی پکار مسلمان کو ساکن مذہبیت سے نکال کر متحرک توحیدی زندگی کی طرف بلاتی ہے۔

مثال

جیسے پہاڑوں سے اترنے والا زور آور پانی پرانے کناروں میں مقید نہیں رہتا، ویسے ہی غیب سے سچا رشتہ رکھنے والا انسان معمولی ڈروں اور مصلحتوں میں بند نہیں رہتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جو شخص نادیدہ حقیقت سے عہد باندھ لیتا ہے وہ ظاہر کی تنگ حدوں کا اسیر نہیں رہتا۔ اس کا ایمان اسے سیلاب کی طرح آزاد، پرجوش اور رکاوٹ شکن حرکت عطا کرتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button