رموز بے خودی

فکر انسان بت پرستی بت گری

فکر انسان بت پرستی بت گری

هر زمان در جستجوی پیکری

ترجمہ

انسان کی فکر بت پرست بھی ہے اور بت گر بھی؛ وہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی پیکر کی تلاش میں رہتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال انسانی فکر کی ایک بہت گہری بیماری کو بے نقاب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کی فکر میں بت پرستی بھی ہے اور بت گری بھی۔ یعنی انسان صرف موجود بتوں کو پوجتا ہی نہیں، نئے بت تراشتا بھی رہتا ہے۔ یہ بات صرف جاہلی دور کے پتھر کے بتوں تک محدود نہیں۔ اقبال کے نزدیک ہر وہ چیز، خیال، نظریہ، شخصیت، طاقت، قوم، دولت، یا خواہش جو اللہ کی جگہ دل اور زندگی کے مرکز پر قابض ہو جائے، ایک بت ہے۔ اور انسانی فکر کی کم زوری یہ ہے کہ وہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی “پیکر” کی تلاش میں رہتی ہے جسے مطلق بنا سکے۔

یہ شعر اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ شرک صرف قدیم تاریخ کا مسئلہ نہیں، ایک دائمی نفسیاتی اور تہذیبی خطرہ بھی ہے۔ انسان کسی نہ کسی مرکز کے بغیر نہیں رہتا۔ اگر وہ سچے مرکز سے نہیں جڑے گا تو جھوٹے مرکز خود بنا لے گا۔ یہی “بت گری” ہے۔ پھر انھی خود ساختہ مرکزوں کے سامنے جھکنا “بت پرستی” ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے مسلمان کو خبردار کرتے ہیں کہ توحید کا معرکہ صرف باہر کے بتوں کے خلاف نہیں، انسانی فکر کی اس مستقل بیماری کے خلاف بھی ہے جو پیکر تراشتی رہتی ہے۔

بت پرستی کا وسیع مفہوم:

بت پرستی کا مطلب صرف کسی مجسمے کے آگے جھکنا نہیں۔ اگر انسان اپنی خواہشات کو حق و باطل کا معیار بنا لے، اگر قوم یا نسل کو مطلق برتری دے، اگر زر و بازار کو زندگی کا آخری مقصد بنا لے، اگر کسی لیڈر یا نظریے کو بے خطا مان لے، تو یہ بھی بت پرستی کی شکلیں ہیں۔ اقبال اس لفظ کو اسی وسیع معنوی افق میں استعمال کرتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی حفاظت محض مذہبی رسموں کی نگرانی سے نہیں ہوگی، بلکہ دل کے مرکزوں اور فکر کے معیاروں کی مسلسل تطہیر سے ہوگی۔ یہی اقبال کی فکری تیزی ہے۔

بت گری کی نفسیات:

انسانی فکر کو کسی ٹھوس پیکر کی طلب رہتی ہے۔ وہ غیر مرئی حق کے بجائے کبھی محسوس چیزوں میں سہارا تلاش کرتی ہے۔ یہ کم زوری سمجھ میں آنے والی بھی ہے، کیونکہ آدمی اپنے خوف، حرص، آرزو اور اجتماعی تحفظ کے لیے کچھ ایسا چاہتا ہے جسے تھام سکے۔ مگر یہی جگہ خطرے کی ہے۔ اگر سچے رب پر بھروسہ کمزور ہو جائے تو انسان خود ساختہ سہارا گھڑنے لگتا ہے۔

یہی عمل تہذیبی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ معاشرے اپنے زمانے کے بت بناتے ہیں: کبھی قومیت، کبھی نسل، کبھی طاقت، کبھی ترقی، کبھی لذت، کبھی منڈی۔ اقبال اس پوشیدہ بت گری کو کھول کر سامنے لاتے ہیں۔

پیکر کی تلاش:

“در جستجوی پیکری” ایک دائمی انسانی بے چینی کی تصویر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل مرکز چاہتا ہے، مگر اگر اسے حق کا مرکز نہ ملے تو وہ جھوٹے پیکر تراش لیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک توحید انسان کو اس تلاش کی صحیح سمت دیتی ہے۔ وہ اسے پیکر کے جادو سے نکال کر بے پیکر، برتر، اور واحد حقیقت کی طرف لے جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ توحید آزادی کا سرچشمہ ہے۔ جو اللہ کو پہچان لے وہ جھوٹے پیکروں کے جبر سے نکل سکتا ہے۔ اور جو اس پہچان سے محروم رہے وہ بت گری کے نئے نئے دائروں میں پھنس سکتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کے زمانے میں بت ہمیشہ سنگ و چوب کے نہیں ہوتے۔ وہ نظریات، شخصیات، قوم پرستانہ جذبات، مادہ پرستانہ پیمانے، میڈیا کی تصاویر، یا نفس کی خواہشوں کی شکل میں بھی آتے ہیں۔ اقبال کا شعر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے دور کے بتوں کو پہچانیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم لفظوں میں توحید کے قائل ہوں مگر عملی طور پر کسی اور پیکر کے گرد گھوم رہے ہوں؟

یہ شعر امت کے لیے مسلسل محاسبہ ہے۔ اسے صرف پرانے بت توڑنے پر فخر نہیں کرنا، نئے بتوں کی شناخت بھی کرنی ہے۔ اقبال کی دعوت یہ ہے کہ دل، فکر، سیاست، تہذیب اور معیشت سب میں سچے مرکز کو قائم کیا جائے، ورنہ انسانی فکر پھر سے بت گری شروع کر دے گی۔

مثال

جیسے کوئی شخص پرانے مجسمے تو توڑ دے مگر دولت یا شہرت کو اپنا نیا معبود بنا لے تو اصل مرض باقی رہتا ہے، ویسے ہی بت گری صرف شکل بدل سکتی ہے اگر دل کا مرکز نہ بدلے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ انسانی فکر میں نئے بت تراشنے اور پھر انھی کے سامنے جھکنے کا رجحان مسلسل موجود رہتا ہے۔ توحید کا کام یہی ہے کہ انسان کو ہر دور کے جھوٹے پیکروں سے آزاد کر کے سچے مرکز سے وابستہ کرے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button