رموز بے خودی

شعله در رگهای تاک از سوز او

شعله در رگهای تاک از سوز او

خاک مینا تابناک از سوز او

ترجمہ

تاک کی رگوں میں شعلہ بھی اسی کے سوز سے دوڑتا ہے، اور مٹی کی مینا بھی اسی کے سوز سے تابناک ہوتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال حیات کی باطنی حرارت کو مزید گہرا اور نفیس بنا دیتے ہیں۔ تاک کی رگوں میں شعلہ دوڑنا ایک ایسی تصویر ہے جس میں نباتات کی خاموش نشوونما کو بھی سوز کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ پھر “خاک مینا” یعنی مٹی کی بنی ہوئی پیالی یا ظرف کا تابناک ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کی آگ صرف زندہ مظاہر کے اندر حرکت نہیں پیدا کرتی بلکہ خام مادّے کو بھی روشنی کا ظرف بنا دیتی ہے۔ اقبال کے نزدیک اصل حقیقت کی تاثیر اتنی وسیع ہے کہ وہ نمو، رس، رنگ، اور روشنی سب کے اندر ایک ہی باطنی سوز جاری کر دیتی ہے۔

یہ شعر پچھلے شعر کے ساتھ خوب جڑتا ہے۔ وہاں خاک گل اور بلبل بنی تھی، یہاں تاک کی رگوں میں شعلہ ہے اور خاکِ مینا میں تاب۔ گویا وہی سوز جو دل میں نغمہ پیدا کرتا ہے، وہی سوز پودے میں رس، پیالے میں روشنی، اور زندگی میں حرکت پیدا کرتا ہے۔ اقبال اس طرح کائنات کو سوزِ توحید کے ایک ہمہ گیر نظام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انسان اگر اس نظام سے جڑ جائے تو اس کی رگوں میں بھی نئی آگ، اس کے اعمال میں بھی نیا رس، اور اس کے ظرف میں بھی نئی تاب پیدا ہو سکتی ہے۔

تاک کی رگوں کا شعلہ:

تاک ایک زندہ، بڑھنے والی اور ثمر لانے والی ہستی ہے۔ اس کی رگوں میں شعلہ دوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نشوونما سرد اور بے جان نہیں، ایک داخلی حرارت کے ساتھ ہے۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ حیات کا اصل راز اندر کے اس سوز میں ہے جو بظاہر خاموش چیزوں کو بھی بڑھنے، پھیلنے اور پھل لانے پر آمادہ رکھتا ہے۔

یہ تمثیل انسان کے باطن پر بھی صادق آتی ہے۔ اگر اس کے اندر مقصد کا سوز دوڑنے لگے تو اس کی نشوونما محض عمری اضافہ نہیں رہتی، بلکہ بامعنی تکامل میں بدل جاتی ہے۔ اقبال ایسی ہی زندہ نمو چاہتے ہیں۔

خاکِ مینا کا تابناک ہونا:

مینا ایک ظرف ہے، اور مٹی کا ظرف بظاہر بے نور ہوتا ہے۔ مگر اقبال کہتے ہیں کہ اسی سوز سے وہ بھی تابناک ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ظرف جتنا بھی معمولی ہو، اگر اس میں صحیح سوز اتر جائے تو وہ نور کا حامل بن سکتا ہے۔ اصل مسئلہ ظرف کی کم مائیگی نہیں، اس کے اندر آنے والی حرارت اور نسبت کی نوعیت ہے۔

یہی بات امت اور اس کے اداروں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ بظاہر سادہ، کمزور یا خاک آلود صورتیں بھی اگر سچے مرکز کے سوز سے معمور ہو جائیں تو روشنی دینے لگتی ہیں۔ اقبال کی نظر میں عظمت ہمیشہ ظاہری زرق برق کی محتاج نہیں۔

سوز بطور جامع قوت:

اس شعر سے واضح ہوتا ہے کہ سوز صرف جذباتی کیفیت نہیں، ایک جامع تخلیقی قوت ہے۔ وہ نباتی نمو کو بھی چلاتا ہے، جمالیاتی ظہور کو بھی جگاتا ہے، اور مادی ظرف کو بھی نورانی بنا دیتا ہے۔ اقبال یہی جامعیت انسان کی دینی اور ملی زندگی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی توحید صرف عقیدہ نہ رہے، ایک جاری سوز بنے جو زندگی کے ہر درجے میں اثر ڈالے۔

یہ جامع سوز ہی کمیت کو کیفیت میں اور وجود کو نور میں بدلتا ہے۔ اسی لیے اقبال بار بار اندر کی آگ کو اصل مانتے ہیں، باہر کے ڈھانچے کو نہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہماری زندگی میں بہت کچھ موجود ہے، مگر اکثر اس کے اندر سوز کی کمی ہے۔ تعلیم ہے مگر حرارت کم، تنظیم ہے مگر تاب کم، عبادت ہے مگر رس کم، تہذیب ہے مگر نور کم۔ اقبال کا شعر یاد دلاتا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری رگوں میں کون سی آگ دوڑ رہی ہے اور ہمارے ظرف میں کون سی روشنی اتر رہی ہے۔

اگر ہم اپنے باطن کو توحید کے سچے سوز سے بھر لیں تو عام زندگی بھی غیر معمولی بن سکتی ہے۔ انسان کی رگیں، اس کا عمل، اس کا گھر، اس کا ادارہ، اور اس کی تہذیب سب نئی تاب پا سکتے ہیں۔ اقبال اسی درونی انقلاب کی طرف بلاتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک عام مٹی کا چراغ صحیح آگ پا لے تو اندھیرے میں روشنی بانٹنے لگتا ہے، ویسے ہی سچے سوز سے معمور معمولی ظرف بھی تابناک بن سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ سچا سوز زندگی کی رگوں میں نمو کی آگ اور خاک کے ظرف میں نور کی تاب پیدا کرتا ہے۔ توحید کی یہ باطنی حرارت انسان اور ملت دونوں کو اندر سے روشن اور ثمر آور بنا سکتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button