رموز بے خودی

در ره حق پا به نوک خار خست

در ره حق پا به نوک خار خست

گلستان در گوشه ی دستار بست

ترجمہ

حق کی راہ میں اس کے پاؤں کانٹے کی نوک سے زخمی ہوئے، مگر اسی نے اپنی دستار کے گوشے میں ایک گلستان باندھ لیا۔

تشریح

اس شعر میں اقبال پچھلے شعر کے “مسلم پیشین” کی تصویر کو ایک جاندار تمثیل میں مکمل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس نے راہِ حق میں کانٹوں کی چبھن سہی، اس کے قدم زخمی ہوئے، لیکن انجام یہ ہوا کہ اس کی دستار کے گوشے میں پورا گلستان بندھ گیا۔ یعنی حق کے راستے کی تکلیف نے اسے محروم نہیں کیا بلکہ برکت، عزت، خوشبو اور ثمر عطا کیا۔ اقبال کا مقصود یہ ہے کہ سچی بندگی اور سچا جہد کبھی بے نتیجہ نہیں جاتے۔ جو انسان راحت کے بجائے حق کو چنتا ہے، وہ بظاہر کانٹے سہتا ہے مگر باطن اور تاریخ میں گلستان پاتا ہے۔

اس شعر میں کانٹا اور گلستان، زخم اور دستار، سفر اور ثمر سب ایک ہی معنوی تسلسل میں آتے ہیں۔ “پا به نوک خار خست” سے مراد وہ درد، مجاہدہ، مخالفت، قربانی اور صبر ہے جو راہِ حق میں ناگزیر ہوتا ہے۔ “گلستان در گوشه ی دستار بست” میں دستار عزت، مردانگی، غیرت اور ملی وقار کی علامت ہے۔ گویا جو شخص حق کے لیے کانٹے سہتا ہے، اسی کی پیشانی پر عزت آتی ہے اور اسی کے حصے میں خوشبو دار ثمر آتا ہے۔ یہ بڑی تربیتی بات ہے، کیونکہ اقبال اپنے قاری کو یہ سکھا رہے ہیں کہ آسانی پرستی سے عزت نہیں ملتی؛ امتحان سے گزر کر ہی گلستان ہاتھ آتا ہے۔

کانٹے کی چبھن:

حق کا راستہ ہمیشہ نرم قالین پر نہیں بچھا ہوتا۔ اس میں مخالفت بھی ہوتی ہے، غلط فہمی بھی، تنہائی بھی، قربانی بھی، اور اپنی خواہش کے خلاف چلنے کی مشقت بھی۔ اقبال “نوک خار” کہہ کر اس تکلیف کی لطافت بھی دکھاتے ہیں اور اس کی تیزی بھی۔ کبھی چھوٹا سا کانٹا بھی چلنے والے کو رکنے پر مجبور کر دیتا ہے، مگر راہِ حق کا مسافر رکنے کے بجائے اس درد کو سفر کا حصہ سمجھتا ہے۔

یہ چبھن صرف بیرونی نہیں۔ کبھی حق کے راستے میں اپنے نفس کو بھی زخمی کرنا پڑتا ہے، اپنی انا کو پیچھے ہٹانا پڑتا ہے، اپنی خواہش کو روکنا پڑتا ہے۔ یہی باطنی کانٹے اصل تربیت کا میدان بنتے ہیں۔

دستار اور گلستان:

دستار مشرقی تہذیب میں وقار، شرف اور ذمہ داری کی علامت ہے۔ اس کے گوشے میں گلستان باندھ لینے کا مطلب یہ ہے کہ اس مجاہدے کا ثمر عزت کے ساتھ ملا۔ صرف باغ مل جانا کافی نہیں؛ باغ کو دستار کے گوشے میں باندھنا اس بات کی علامت ہے کہ خوشبو اور شادابی شخصیت کا حصہ بن گئی، وقار میں جذب ہو گئی۔

گلستان یہاں صرف مادی کامیابی نہیں، بلکہ ایمان کی خوشبو، کردار کی لطافت، جماعت کی بہار، اور تاریخ میں اثر آفرینی کی علامت بھی ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ صبر اور حق پرستی کا انجام سوکھی سختی نہیں بلکہ پھولوں والی زندگی بھی ہو سکتا ہے۔

قربانی اور ثمر کا قانون:

یہ شعر ایک بڑا الٰہی قانون سمجھاتا ہے: حق کے لیے دی گئی قربانی ضائع نہیں جاتی۔ بسا اوقات اس کا ثمر فوراً نظر نہیں آتا، مگر وہ انسان کے باطن، جماعت کے اخلاق، اور تاریخ کے رخ میں اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ اقبال اسی قانون کو جمالیاتی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ کانٹا اور گلستان دو الگ چیزیں نہیں رہتیں؛ کانٹے سہنے والا ہی گلستان پاتا ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو قومیں صرف آسانی، آرام، اور محفوظ راستہ چنتی ہیں، وہ شاید فوری سکون تو پا لیں مگر گلستان نہیں پاتیں۔ گلستان ان کے حصے میں آتا ہے جو مجاہدے سے ڈرتے نہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم اکثر ایسا راستہ چاہتے ہیں جس میں عزت بھی ملے، اثر بھی ہو، اور قربانی بھی نہ دینی پڑے۔ اقبال اس توقع کی اصلاح کرتے ہیں۔ اگر حق کے لیے قدم اٹھایا جائے تو کانٹے آئیں گے، مخالفت ہوگی، آزمائش آئے گی۔ مگر اگر راستہ سچا ہو اور نیت خالص ہو تو انہی زخمی قدموں سے گلستان تک پہنچا جا سکتا ہے۔

یہ شعر فرد اور امت دونوں کو حوصلہ دیتا ہے۔ تھوڑا سا درد دیکھ کر راستہ نہ چھوڑو، کیونکہ ممکن ہے یہی درد تمہارے وقار کا دروازہ ہو۔ اقبال کے نزدیک کامیابی کا راز صرف منزل پر نہیں، راستے کی وفاداری پر بھی موقوف ہے۔

مثال

جیسے باغبان اپنے ہاتھ کانٹوں سے زخمی کیے بغیر خوشبودار پھول نہیں اگا سکتا، ویسے ہی راہِ حق کی محنت اور چبھن ہی آخرکار گلستان کی شکل میں پھل دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ راہِ حق کی تکلیف ضائع نہیں جاتی۔ جو شخص کانٹے سہہ کر بھی وفادار رہتا ہے، وہ آخرکار عزت، خوشبو، اور ثمر کے گلستان سے بہرہ مند ہوتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button