رموز بے خودی

رشته های خویش را بر خود تند

رشته های خویش را بر خود تند

تکمه ئی گردد گره بر خود زند

ترجمہ

وہ اپنی ہی ڈوریاں اپنے اوپر لپیٹتی ہے، اور ایک بٹن کی طرح خود اپنے اوپر گرہ لگا لیتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال زندگی کی خود تنظیم اور خود مرکوزی کا نہایت خوب صورت استعارہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی اپنی ہی ڈوریوں کو اپنے اوپر لپیٹتی ہے اور ایک تکمہ کی طرح خود پر گرہ لگا لیتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حیات اپنی پراگندہ قوتوں کو خود سمیٹنے، خود مربوط کرنے اور خود منظم شکل میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پہلے شعر میں وطن پانے اور دم بننے کی بات تھی، یہاں اس وطن پانے کا باطنی عمل سامنے آتا ہے۔ زندگی محض باہر سے کسی نظم میں باندھی نہیں جاتی، بلکہ اپنے اندر موجود رشتوں، خواہشوں، قوتوں اور نسبتوں کو اس طرح ترتیب دیتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے وابستہ ہو جائیں۔

“رشته” یہاں نہایت اہم لفظ ہے۔ زندگی کے اندر مختلف دھاگے ہیں: احساس، فکر، عمل، یاد، امید، تعلق، تاریخ، خواہش، عبادت، تہذیب۔ اگر یہ سب بکھرے رہیں تو کوئی مضبوط پیکر نہیں بنتا۔ اقبال بتاتے ہیں کہ زندہ حیات انہیں اپنے اوپر لپیٹتی ہے، گویا وہ اپنی مرکزیت خود قائم کرتی ہے۔ “تکمه” کی تمثیل اور بھی دل کش ہے۔ تکمہ لباس کے دو پھیلتے ہوئے حصوں کو ملا کر ایک جوڑ پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح زندگی اپنے بکھرے ہوئے اجزا کو جوڑنے کے لیے اپنے اندر گرہ بناتی ہے۔ گویا حیات کا حسن فقط حرکت میں نہیں، حرکت کو ربط اور صورت دینے میں بھی ہے۔

رشتوں کو اپنے اوپر لپیٹنا:

جب اقبال کہتے ہیں کہ زندگی اپنی ہی رشتوں کو اپنے اوپر لپیٹتی ہے، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر خود مرکز بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ صرف بیرونی وحدت نہیں، اندرونی وحدت ہے۔ جو چیزیں پہلے جدا جدا تھیں، وہ ایک نئے ربط میں آنے لگتی ہیں۔ فرد کی شخصیت بھی اسی طرح بنتی ہے: علم، تجربہ، احساس، عشق، دعا، عمل، سب کسی مرکز کے گرد جمع ہو کر ایک سیرت پیدا کرتے ہیں۔

ملت کی سطح پر بھی یہی قانون کام کرتا ہے۔ قوم کے افراد، ان کی زبانیں، ان کی سرزمینیں، ان کے تجربات اور ان کی تاریخیں اگر سب الگ الگ سمتوں میں پڑی رہیں تو کوئی پیکر نہیں بنتا۔ مگر جب ان کے درمیان کوئی زندہ ربط پیدا ہو، تو وہ ڈوریاں لباس کے منتشر حصوں کی طرح ایک مرکز پر آ ملتی ہیں۔ اقبال کی ملی بصیرت اسی خود ربط آفرینی کو زندگی کی شرط قرار دیتی ہے۔

تکمہ کیوں بنا:

تکمہ ایک چھوٹی سی چیز ہے، مگر لباس کی ترتیب میں اس کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ اقبال نے اسے اس لیے چنا کہ وہ دکھا سکیں کہ وحدت ہمیشہ شور سے نہیں بنتی، کبھی ایک چھوٹا مگر فیصلہ کن ربط پورا نظام سمیٹ لیتا ہے۔ گرہ خود پر لگتی ہے، یعنی زندگی اپنی وحدت خود پیدا کرتی ہے۔ یہ بیرونی جبر کی وحدت نہیں بلکہ اندرونی قبولیت کی وحدت ہے۔

یہی نکتہ مرکز کے تصور کو بھی زیادہ روشن کرتا ہے۔ اگر قوم کے لیے کوئی مرکز ہو مگر وہ اس کے سینے میں وطن نہ بنے، اس کے دھاگوں کو خود پر لپیٹنے کا باعث نہ ہو، تو وہ محض رسمی مرکز رہ سکتا ہے۔ اقبال جس مرکز کی بات کرتے ہیں وہ تکمہ کی طرح بکھرے ہوئے حصوں کو زندہ ربط میں جوڑنے والا مرکز ہے۔

گرہ کا مثبت مفہوم:

ہم عموماً گرہ کو مسئلہ یا رکاوٹ سمجھتے ہیں، مگر یہاں گرہ بکھراؤ کو روکنے والی طاقت ہے۔ گرہ اگر درست جگہ لگے تو چیزوں کو مجتمع رکھتی ہے۔ زندگی کے اندر بھی کچھ ایسی بنیادیں، اقدار، علامتیں اور نسبتیں ہوتی ہیں جو گرہ کی طرح کام کرتی ہیں۔ وہ ساری حرکت کو بے شک جاری رکھتی ہیں، مگر اس حرکت کو منتشر نہیں ہونے دیتیں۔

اس شعر سے یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ وحدت کا مطلب بے رنگ یکسانی نہیں۔ دھاگے اپنی پہچان رکھتے ہیں، مگر گرہ ان سب کو جوڑ دیتی ہے۔ اسی طرح ایک زندہ ملت میں تنوع باقی رہ سکتا ہے، مگر ایک مرکز اور ایک گرہ اسے بکھرنے نہیں دیتی۔ اقبال وحدت کو جبر سے نہیں، ربط سے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج کی دنیا میں بکھراؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ انسان کے اندر بھی اور جماعتوں کے اندر بھی۔ خیالات بکھرے ہوئے، ترجیحات بکھری ہوئی، تعلقات بکھرے ہوئے، اور اجتماعی احساس بکھرا ہوا۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ زندہ حیات اپنے دھاگے خود سمیٹتی ہے۔ ہمیں اپنی ذات میں بھی دیکھنا ہوگا کہ کون سی چیزیں ہمیں جوڑتی ہیں، اور اپنی ملی زندگی میں بھی کہ وہ کون سی گرہ ہے جو ہمارے منتشر حصوں کو ربط دے سکتی ہے۔

یہ شعر ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ وحدت ہمیشہ اوپر سے نازل نہیں ہوتی؛ اسے سینے میں قبول کرنا پڑتا ہے، اپنے دھاگے خود لپیٹنے پڑتے ہیں، اور اپنے اوپر گرہ خود لگانی پڑتی ہے۔ جو قوم یہ شعور پا لے، اس کی زندگی محض پھیلی ہوئی خوشبو نہیں رہتی بلکہ ایک ملبوس صورت اختیار کر لیتی ہے۔

مثال

جیسے ایک درزی کپڑے کے منتشر حصوں کو بٹن اور گرہ سے جوڑ کر پہننے کے قابل لباس بناتا ہے، ویسے ہی زندہ حیات اپنے منتشر دھاگوں کو خود سمیٹ کر وحدت پیدا کرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں زندگی کی خود تنظیم کا راز کھولتے ہیں۔ حیات اپنے بکھرے ہوئے دھاگوں کو خود سمیٹتی، جوڑتی اور گرہ لگا کر ایک منظم وحدت میں بدلتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button