رموز بے خودی

دمبدم مشکل گر و آسان گذار

دمبدم مشکل گر و آسان گذار

دمبدم نو آفرین و تازه کار

ترجمہ

وہ ہر دم مشکل بھی پیدا کرتی ہے اور آسانی بھی گزارتے رہتی ہے، ہر دم نئی آفرینش کرتی ہے اور تازہ کار رہتی ہے۔

تشریح

یہ شعر زندگی کی تخلیقی بے قراری اور اس کی تجدیدی شان کو نہایت خوب صورتی سے بیان کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ حیات ہر دم مشکل پیدا بھی کرتی ہے اور آسانی گزارتے بھی رہتی ہے، ہر دم نئی آفرینش کرتی ہے اور ہمیشہ تازہ کار رہتی ہے۔ اس میں حیات کے دو پہلو ایک ساتھ سامنے آتے ہیں: وہ جامد نظم نہیں بلکہ ایک مسلسل پیداوار ہے، اور اس پیداوار میں دشواری اور سہولت دونوں شامل ہیں۔ زندگی نہ صرف نئی صورتیں بناتی ہے بلکہ ان صورتوں کے اندر مسائل، امکانات، راہیں اور حل بھی ساتھ ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ گویا وہ ایک بند نظام نہیں، ایک زندہ کارخانہ ہے جو ہر لمحہ کچھ نیا بنا رہا ہے۔

“مشکل گر” اور “آسان گذار” کا ملاپ بہت معنی خیز ہے۔ اقبال یہاں یہ نہیں کہتے کہ زندگی صرف مشکلات کا حل ہے، بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بعض مشکلات خود پیدا کرتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نئی سطح، نئی ذمہ داری، نئی وسعت اور نئی آفرینش اپنے ساتھ نئی پیچیدگی بھی لاتی ہے۔ مگر یہی زندگی اس پیچیدگی کو اٹھانے اور سہولت میں بدلنے کی قوت بھی دیتی ہے۔ اس طرح حیات کے اندر تخلیق اور آزمائش، دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے ہیں۔ یہی اس کی تازگی کا راز ہے۔

ہر دم نئی آفرینش:

“دمبدم نو آفرین” میں اقبال کی پوری حرکی کائنات بول رہی ہے۔ زندگی خود کو دہراتی نہیں، اپنے اندر سے نئی صورتیں پیدا کرتی ہے۔ یہ نیاپن صرف مادی ایجاد یا ظاہری تبدیلی تک محدود نہیں۔ اس میں نئے خیالات، نئی کیفیات، نئی بصیرتیں، نئی نسبتیں، نئی اجتماعی صورتیں اور نئی اخلاقی پختگیاں بھی شامل ہیں۔ جو زندگی نئی آفرینش نہ کرے وہ جلد ہی رسم، عادت یا جمود میں بدل جاتی ہے۔

یہ نیاپن بنیادوں سے بے وفائی نہیں بلکہ انہی بنیادوں کی زندہ تجدید ہے۔ درخت ہر موسم میں نیا پتہ نکالتا ہے، مگر اپنی جڑ نہیں چھوڑتا۔ اسی طرح زندہ ملت اپنے اصولوں کو چھوڑے بغیر نئی صورتیں پیدا کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی زندگی کی صحت ہے۔

مشکل اور آسانی کا باہمی ربط:

زندگی اگر واقعی تخلیقی ہے تو وہ نئی آسانیوں کے ساتھ نئی مشکلات بھی لائے گی۔ ایک بچہ بڑھے تو نئے سوال آئیں گے، ایک قوم بیدار ہو تو نئی ذمہ داریاں آئیں گی، ایک علم بڑھے تو نئی پیچیدگیاں سامنے آئیں گی۔ اس لیے مشکل کا پیدا ہونا حیات کے خلاف نہیں۔ اقبال یہی سمجھانا چاہتے ہیں کہ زندہ حرکت کا ایک لازمی نتیجہ نئی مشکل ہے، مگر اس کے ساتھ نئی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے جو اسے سنبھال سکے۔

یہی “آسان گذار” ہے۔ زندگی رکاوٹ ڈال کر چھوڑ نہیں دیتی، بلکہ اس سے گزرنے کا امکان بھی بناتی ہے۔ اس لیے زندہ دل شخص مشکل کو محض بوجھ نہیں سمجھتا، بلکہ نئی سطح کی دعوت بھی سمجھتا ہے۔ یہی رویہ انسان کو خوف سے نکال کر تخلیقی صبر کی طرف لے جاتا ہے۔

تازہ کار رہنے کا مطلب:

تازہ کار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کبھی بوڑھی عادت نہیں بنتی۔ وہ ہر مرتبہ نئے ذوق، نئی قوت اور نئی تاثیر کے ساتھ اپنا کام کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی تازگی روحانی زندگی میں بھی ہونی چاہیے، علمی زندگی میں بھی، اور ملت کی اجتماعی ساخت میں بھی۔ اگر عبادت صرف عادت بن جائے، علم صرف نقل بن جائے، سیاست صرف ردعمل بن جائے، اور تہذیب صرف یادگار بن جائے، تو تازہ کاری ختم ہو جاتی ہے۔

حیات کی اصل شان یہ ہے کہ وہ ہر بار نئی صورت سے سامنے آئے مگر اپنا جوہر باقی رکھے۔ اقبال اسی جوہر و صورت کے زندہ توازن کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ تازگی محض بدلاؤ نہیں، بیدار بدلاؤ ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمارے دور کی ایک بڑی بیماری یہ ہے کہ یا تو ہم ہر نئی مشکل سے گھبرا جاتے ہیں، یا ہر نئے پن کو اصل سمجھ کر بنیاد کھو بیٹھتے ہیں۔ اقبال اس شعر میں دونوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ اگر نئی مشکل آئی ہے تو یہ زندہ حرکت کا حصہ بھی ہو سکتی ہے، اور اگر نئی آفرینش درکار ہے تو یہ بنیاد توڑنے نہیں بلکہ بنیاد کو زندہ رکھنے کے لیے ہے۔ ہمیں ایسے مزاج کی ضرورت ہے جو مشکل میں بھی زندگی دیکھ سکے اور نئے پن میں بھی اصول کی روشنی باقی رکھے۔

یہ شعر فرد اور ملت دونوں کے لیے ایک بیدار کن منشور ہے۔ زندہ رہنا ہے تو تازہ کار رہو، نو آفرین رہو، اور نئی ذمہ داریوں سے نہ ڈرو۔ اگر حیات واقعی اندر زندہ ہے تو وہ مشکل بھی پیدا کرے گی اور اس سے گزرنے کی طاقت بھی دے گی۔ یہی تخلیقی حیات کی اصل علامت ہے۔

مثال

جیسے بہار اپنے ساتھ نئے پھول لاتی ہے مگر ان کے ساتھ نئے موسم، نئی دیکھ بھال اور نئی نازکی بھی لاتی ہے، ویسے ہی حیات نئی آفرینش کے ساتھ نئی ذمہ داری اور نئی سہولت دونوں پیدا کرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ زندگی ہر دم نئی صورتیں پیدا کرتی ہے، اور اسی کے ساتھ نئی مشکلات اور نئی آسانیاں بھی سامنے لاتی ہے۔ اس کی اصل شان تازہ کاری، تخلیق اور مسلسل بیداری ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button