رموز بے خودی

پا بگل گردد حیات تیزگام

پا بگل گردد حیات تیزگام

تا دو بالا گرددش ذوق خرام

ترجمہ

تیز گام زندگی کے پاؤں کیچڑ میں پھنس بھی جاتے ہیں، تاکہ اس کے چلنے کا ذوق اور زیادہ بلند و کامل ہو جائے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ایک نہایت لطیف حقیقت بیان کرتے ہیں: زندگی جو اصل میں تیز گام ہے، کبھی پا بہ گل بھی ہو جاتی ہے، اور یہ رکاوٹ بھی بے فائدہ نہیں بلکہ اس کے ذوقِ خرام کو دو بالا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہاں شاعر رکاوٹ کو صرف منفی نہیں سمجھتے بلکہ اسے تربیت، توازن اور پختگی کا ایک مرحلہ قرار دیتے ہیں۔ “حیات تیزگام” بتاتا ہے کہ زندگی کی اصل سرشت آگے بڑھنا ہے، مگر “پا بگل” یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر پیش رفت سیدھے، صاف اور بے رکاوٹ راستے پر نہیں ہوتی۔ کبھی زمین نرم نہیں بلکہ چپکنے والی ہوتی ہے، قدم رک جاتے ہیں، رفتار کم ہوتی ہے، اور انسان سمجھتا ہے کہ اب شاید حرکت ختم ہو گئی۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہی مرحلہ ذوقِ خرام کو پختہ کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اس میں ایک بڑا تربیتی انصاف ہے۔ اگر زندگی کو ہمیشہ آسانی، تیزی اور مسلسل کامیابی ہی ملتی رہے تو اس کا چلنا ناپختہ رہ سکتا ہے۔ رکاوٹیں قدم کو شعور دیتی ہیں، وزن کا احساس دیتی ہیں، زمین کا مزاج سکھاتی ہیں، اور حرکت کو سنجیدگی بخشتی ہیں۔ گویا کیچڑ محض روکنے والی چیز نہیں، تربیت دینے والی بھی ہو سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک حیات کا کمال صرف جلدی پہنچ جانا نہیں، بلکہ ایسا چلنا ہے جس میں شعور، وقار اور پختگی آ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ رکاوٹ یہاں ذوقِ خرام کے بڑھنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔

حیات تیزگام:

“تیزگام” میں زندگی کی اصل جوش، شوق اور پیش قدمی جھلکتی ہے۔ اقبال کبھی ایسی حیات نہیں چاہتے جو سستی، بے ارادہ یا خوف زدہ ہو۔ ان کے ہاں زندگی کی نشانی طلب، حرکت اور تیزی ہے۔ یہ تیزی محض ظاہری مصروفیت نہیں بلکہ باطنی عزم کا اظہار ہے۔ ایک زندہ انسان اپنے حال پر راضی بیٹھا نہیں رہتا، وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے، اور اسی میں اس کی تازگی ہے۔

مگر اقبال اس تیزی کو بھی بے مہار نہیں چھوڑتے۔ وہ جانتے ہیں کہ محض تیزی کبھی کبھی سطحیت، بے صبری اور بے وزنی میں بدل سکتی ہے۔ اس لیے اگلا مصرعہ اس تیزی کو ایک تربیتی رکاوٹ سے ملا دیتا ہے تاکہ حرکت پختہ ہو۔

پا بہ گل ہونے کا مطلب:

پا بہ گل ہونا زندگی میں پیش آنے والی ہر اس حالت کی علامت ہے جہاں انسان کو رکاوٹ، بھاری پن، تاخیر یا الجھن محسوس ہو۔ یہ بیماری، محرومی، تاخیر، شکست، غلطی، یا اجتماعی بحران سب پر صادق آ سکتا ہے۔ اقبال کے ہاں یہ کوئی غیر معمولی حادثہ نہیں بلکہ خود حیات کے تربیتی سفر کا حصہ ہے۔ تیزگام زندگی بھی اس سے گزرتی ہے۔

یہ بہت امید افزا بات ہے، کیونکہ اس سے پتا چلتا ہے کہ رکاوٹ کا آنا ہمیشہ ناکامی کی دلیل نہیں۔ بعض اوقات یہی مرحلہ پاؤں کو زمین کے ساتھ نیا تعلق سکھاتا ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ میں رک گیا، مگر حقیقت میں وہ گہرا ہو رہا ہوتا ہے۔ جب وہ دوبارہ چلتا ہے تو پہلے سے زیادہ شعور کے ساتھ چلتا ہے۔

ذوقِ خرام کا دو بالا ہونا:

خرام میں صرف چلنا نہیں بلکہ باوقار، موزوں اور خوش آہنگ چلنا بھی شامل ہے۔ اقبال یہاں محض بقا نہیں بلکہ کیفیتِ سیر کا حسن بیان کرتے ہیں۔ اگر پا بہ گل ہونے سے ذوقِ خرام بڑھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رکاوٹ نے زندگی کو صرف سبق نہیں دیا، حسن بھی دیا۔ اس نے رفتار کو شعور، حرکت کو وقار، اور طلب کو سنجیدگی عطا کی۔

یہ نکتہ بہت بلند ہے۔ زندگی کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ کوئی کبھی رکاوٹ میں نہ پھنسے، بلکہ یہ کہ وہ رکاوٹ کے بعد پہلے سے زیادہ خوب صورت، زیادہ باوقار اور زیادہ پختہ انداز میں چل سکے۔ یہی “دو بالا” ہونے کا مفہوم ہے۔ گویا مشکل نے نقصان نہیں، اضافہ کیا۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم رکاوٹ کو فوراً ناکامی سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی منصوبہ دیر سے چلے، کوئی تعلق آزمائش میں پڑے، کوئی علمی سفر الجھ جائے، تو ہم سمجھتے ہیں کہ سب رک گیا۔ اقبال اس شعر میں نظر بدلتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حیات واقعی زندہ ہے تو پا بہ گل ہونے کا مرحلہ بھی اس کے ذوقِ خرام کو بڑھا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسان اپنی رکاوٹ کو صرف شکایت میں ضائع نہ کرے بلکہ اسے پختگی میں بدل دے۔

یہ شعر فرد اور ملت دونوں کے لیے حوصلہ ہے۔ اجتماعی سطح پر بھی قومیں کبھی کیچڑ میں پھنس جاتی ہیں: بحران، تاخیر، شکست اور بھاری حالات۔ مگر اگر ان کے اندر حیات باقی ہو تو یہی مرحلہ ان کے خرام کو دو بالا کر سکتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم مشکل میں اپنے قدم روکنے کے بجائے اپنی چال سنوارنا سیکھیں۔

مثال

جیسے پہاڑی راستے میں پھسلن اور پتھر مسافر کی چال کو احتیاط، توازن اور پختگی سکھا دیتے ہیں، ویسے ہی رکاوٹیں زندہ حیات کے ذوقِ خرام کو زیادہ بلند کر دیتی ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ تیز گام زندگی کبھی رکاوٹ میں بھی پھنستی ہے، مگر یہی مرحلہ اس کی چال کو زیادہ پختہ، باوقار اور خوب صورت بنا سکتا ہے۔ پا بہ گل ہونا لازماً زوال نہیں، تربیت بھی ہو سکتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button