رموز بے خودی

گر نظرداری یکی بر خود نگر

گر نظرداری یکی بر خود نگر

جز رم پیهم نه ئی ای بیخبر

ترجمہ

اگر تجھ میں نظر ہے تو ایک بار اپنے آپ کو دیکھ، اے بے خبر، تو لگاتار حرکت اور دوڑ کے سوا کچھ نہیں۔

تشریح

اس شعر میں اقبال حیات کے راز کو بہت قریب لا کر سمجھاتے ہیں۔ پہلے وہ زندگی کے بارے میں عمومی اصول بیان کر رہے تھے، اب وہ کہتے ہیں کہ اگر تجھ میں نظر ہے تو اپنے ہی اوپر نگاہ ڈال۔ تو خود مسلسل رم، جست اور حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک زبردست فکری پلٹا ہے۔ حقیقت کو باہر کہیں دور نہیں ڈھونڈنا، اپنے وجود کے اندر دیکھنا ہے۔ انسان اپنے نفس، اپنے احساسات، اپنی فکر، اپنے خواب، اپنی امیدوں، اپنے خوف، اپنی خواہشات اور اپنی مسلسل تبدیلی میں خود اس حیات کا نمونہ ہے جس کی گرہ اقبال کھول رہے ہیں۔

“ای بیخبر” میں ملامت بھی ہے اور شفقت بھی۔ انسان اکثر اپنے آپ کو جامد شے سمجھتا ہے: گویا میں یہی ہوں، بس اتنا ہی ہوں، اور اسی حال پر قائم ہوں۔ اقبال اس غفلت کو توڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم اپنے اندر دیکھو، تمہاری اصل حقیقت مسلسل حرکت ہے۔ تمہارا شعور بدلتا رہتا ہے، تمہاری ترجیحات بدلتی ہیں، تمہاری یادیں تمہیں نئے انداز سے بناتی ہیں، اور تمہارا باطن ہر لمحہ کسی نئی صورت کی طرف جا رہا ہے۔ اس لیے خودی کو مردہ شے سمجھنا غلط ہے۔ خودی ایک جاری عمل ہے، اور حیات اس کے اندر مسلسل دوڑ رہی ہے۔

نظر کی شرط:

شعر کا آغاز “گر نظرداری” سے ہوتا ہے۔ یعنی اصل بات صرف آنکھ ہونے کی نہیں، نظر ہونے کی ہے۔ بہت سے لوگ خود کو دیکھتے تو ہیں مگر پہچانتے نہیں۔ وہ آئینہ دیکھ لیتے ہیں مگر باطن نہیں دیکھتے۔ نظر سے مراد وہ بصیرت ہے جو ظاہر کے اندر حرکت، ربط اور معنی کو پکڑ سکے۔ اقبال اسی بصیرت کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ اگر نظر پیدا ہو جائے تو انسان اپنے ہی اندر حیات کے قوانین کو پڑھ سکتا ہے۔

یہ تربیتی اصول نہایت اہم ہے۔ جو حقیقت انسان اپنے نفس میں نہ دیکھ سکے، وہ باہر کی دنیا میں بھی اکثر سطحی طور پر دیکھتا ہے۔ اس لیے خود شناسی اقبال کے یہاں محض ذاتی سکون کا ذریعہ نہیں، کائنات اور ملت کی گہری سمجھ کا دروازہ ہے۔

مسلسل رم کا مطلب:

“رم پیہم” میں تسلسل نہایت اہم ہے۔ یہ کوئی ایک بار کی جنبش نہیں بلکہ مسلسل دوڑ ہے۔ زندگی رکی ہوئی نہیں، ہر دم آگے سرک رہی ہے۔ انسان کا جسم، اس کا نفس، اس کی فکر، اس کا اخلاقی سفر، سب ایک جاری عمل ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی غلطیاں اور اس کی اصلاحیں بھی اسی حرکت کے اندر واقع ہوتی ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اس حقیقت کو سمجھ کر جمود، مایوسی اور خود فراموشی سے نکلے۔

اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسان کے لیے ترقی ممکن ہے۔ اگر وہ محض ایک جمی ہوئی شے ہوتا تو اس کے لیے بدلنا دشوار تھا۔ مگر چونکہ اس کی حقیقت ہی حرکت ہے، اس لیے وہ اوپر بھی جا سکتا ہے اور نیچے بھی۔ اسی لیے اقبال کی شاعری میں بیداری کی آواز اتنی اہم ہے۔ جو باطن اصل میں متحرک ہے، اسے صحیح سمت دلائی جا سکتی ہے۔

فردی اور ملی شعور:

یہ شعر صرف فرد کے باطن کے لیے نہیں، ملت کے شعور کے لیے بھی اشارہ رکھتا ہے۔ ایک قوم بھی بظاہر اپنے آپ کو ایک تیار شدہ اور مکمل حقیقت سمجھ سکتی ہے، مگر حقیقت میں وہ بھی مسلسل رم کے اندر ہوتی ہے۔ اس کے خیالات، ادارے، تعلقات، دشمنیاں، دوستیاں، اور تاریخی شعور سب بدلتے رہتے ہیں۔ اگر وہ اپنی اس حرکت کو نہ سمجھے تو یا تو خوف زدہ ہو جاتی ہے یا بے قابو۔ اقبال پہلے اس حرکت کو دکھاتے ہیں، پھر بعد میں اس کے لیے مرکز اور نظم کی ضرورت واضح کرتے ہیں۔

گویا خود شناسی ملت شناسی کی سیڑھی بنتی ہے۔ جو شخص اپنے اندر حیات کی روانی پہچان لے، وہ بہتر سمجھ سکتا ہے کہ قومیں کیوں بڑھتی ہیں، کیوں بکھرتی ہیں، اور کیوں انہیں ایسی نسبت درکار ہوتی ہے جو ان کی مسلسل حرکت کو وحدت میں ڈھال سکے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ اپنی موجودہ حالت کو اپنی آخری حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے میں ایسا ہی ہوں، میرا مزاج ایسا ہی ہے، میری قوم ایسی ہی ہے، ہمارے حالات ایسے ہی رہیں گے۔ اقبال اس شعر میں ان سب جملوں کی بنیاد ہلا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر نظر ہو تو اپنے آپ کو دیکھو، تم لگاتار حرکت ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تبدیلی ممکن ہے، تجدید ممکن ہے، اور اصلاح محض خواب نہیں۔

یہ شعر ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ چونکہ ہم حرکت ہیں، اس لیے سوال یہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ محض متحرک ہونا کافی نہیں، درست سمت بھی چاہیے۔ اسی وجہ سے اقبال بعد میں مرکز کی بحث کرتے ہیں۔ مگر اس مقام پر پہلا سبق یہی ہے کہ خود کو ساکن شے نہ سمجھو۔ اپنی حیات کو پہچانو، اپنے امکان کو پہچانو، اور اپنی غفلت سے باہر آؤ۔

مثال

جیسے دریا کو اوپر سے دیکھنے والا اسے ایک ہی منظر سمجھ سکتا ہے مگر حقیقت میں اس کا پانی ہر لمحہ بدل رہا ہوتا ہے، ویسے ہی انسان بظاہر ایک سا دکھتا ہے مگر باطن میں مسلسل حرکت کے اندر ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں خود شناسی کے ذریعے حیات کی متحرک حقیقت کھولتے ہیں۔ انسان جامد شے نہیں بلکہ مسلسل رم اور حرکت ہے، اس لیے اس کے لیے بیداری، تبدیلی اور صحیح سمت سب ممکن ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button