در جهان دیر و زود آید چسان
در جهان دیر و زود آید چسان
وقت او فردا و دی زاید چسان
ترجمہ
اس جہان میں جلدی اور دیر کیسے پیدا ہوتی ہے، اور اس کا وقت کل اور گزرا ہوا دن کیسے جنم دیتا ہے؟
تشریح
اس شعر میں اقبال وقت کی ماہیت کو حیات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ دنیا میں دیر و زود کیسے آتے ہیں، اور زندگی کا وقت فردا اور دی کو کیسے پیدا کرتا ہے۔ یہاں شاعر ایک نہایت نازک حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: وقت کوئی جامد صندوق نہیں جس میں ماضی، حال اور مستقبل پہلے سے بند پڑے ہوں، بلکہ حیات کی حرکت ہی وقت کے احساس کو پیدا کرتی ہے۔ “فردا” اور “دی” زندگی کے سفر سے نکلتے ہیں۔ اگر حرکت نہ ہو، اگر تغیر نہ ہو، اگر آگے بڑھنا اور پیچھے چھوڑنا نہ ہو، تو دیر و زود کے معنی بھی مدہم ہو جاتے ہیں۔ اقبال گویا یہ بتاتے ہیں کہ وقت خود زندگی کے شعور کا ایک پھل ہے۔
اس شعر کا گہرا مفہوم یہ بھی ہے کہ زندہ وجود اپنے وقت کو بناتا ہے۔ وہ محض وقت کے دھارے میں بہتا نہیں بلکہ اس کے ذریعے نئی نسبتیں پیدا کرتا ہے۔ جب زندگی میں حرکت آتی ہے تو “دی” یعنی گزرے ہوئے مرحلے اور “فردا” یعنی آنے والے امکان وجود میں آتے ہیں۔ اس لیے ایک مردہ، ساکت یا جمود زدہ وجود وقت کو محض برداشت کرتا ہے، جبکہ زندہ وجود وقت کے اندر تخلیق کرتا ہے۔ اقبال کے ملی تصور میں بھی یہی بات ہے: زندہ قوم اپنی تاریخ کو محض ڈھوتی نہیں، اس سے مستقبل پیدا کرتی ہے۔ اس کا آج، اس کے کل کو جنم دیتا ہے۔
دیر و زود کا راز:
دیر اور زود صرف گھڑی کے پیمانے نہیں، بلکہ زندگی کے ادراک کے پیمانے ہیں۔ کسی بے جان شے کے لیے دیر و زود کے معنی وہ نہیں جو ایک زندہ دل کے لیے ہوتے ہیں۔ انسان جس قدر زیادہ بیدار ہوتا ہے، وہ اپنے وقت کو اتنا ہی معنی خیز محسوس کرتا ہے۔ اس کے لیے ایک لمحہ بھی قیمتی ہو سکتا ہے اور ایک زمانہ بھی چھوٹا معلوم ہو سکتا ہے۔ اقبال اس فرق کو سمجھتے ہیں، اس لیے وہ وقت کو محض فلکی گردش نہیں مانتے بلکہ حیات کے ساتھ وابستہ ادراک سمجھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک مختصر لمحہ پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے، اور کبھی برسوں کی گردش بھی اندر کچھ نہیں بدلتی۔ جس زندگی میں شعور، مقصد اور حرکت ہو، وہ وقت کے اندر نئی جہات کھولتی ہے۔ جس میں جمود ہو، اس کے لیے وقت صرف گزارا جاتا ہے۔
دی اور فردا کی پیدائش:
دوسرے مصرعے میں اقبال ایک حیرت انگیز نکتہ سامنے لاتے ہیں کہ وقت خود ماضی اور مستقبل کو جنم دیتا ہے۔ یعنی دی اور فردا حیات کی روانی کے بغیر قائم نہیں رہتے۔ ماضی وہ ہے جو پیچھے رہ گیا مگر اثر چھوڑ گیا، اور مستقبل وہ ہے جو ابھی پیدا ہونا ہے مگر امکان بن کر سامنے ہے۔ ان دونوں کے درمیان موجود “امروز” ہی اصل کارگاہ ہے۔ اقبال کے ہاں آج کوئی معمولی وقفہ نہیں بلکہ ماضی اور مستقبل کے درمیان تخلیق کا مقام ہے۔
یہ بات امت کی زندگی پر بھی پوری طرح صادق آتی ہے۔ اگر قوم اپنے آج کو ضائع کر دے تو اس کا فردا کمزور ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اپنے دی کو صرف یاد کا بوجھ بنائے رکھے اور اس سے سبق یا قوت نہ لے تو ماضی اس پر بوجھ بن جاتا ہے۔ زندہ ملت وہ ہے جو آج کے اندر سے فردا پیدا کرے اور دی کو معنوی سرمایہ بنائے۔
حیات وقت کو کیسے معنی دیتی ہے:
اقبال کے نزدیک وقت اور زندگی میں گہرا ربط ہے۔ جو جتنا باحیات ہے وہ اپنے وقت کے ساتھ اتنا ہی بامعنی تعلق رکھتا ہے۔ اس کا کل صرف حسرت نہیں بنتا، اس کا فردا صرف خواب نہیں رہتا، اور اس کا آج محض روزمرہ نہیں رہتا۔ وہ ان تینوں کو ایک مسلسل حیات کے دھارے میں جوڑ دیتا ہے۔ یہی ربط شخصیت میں تسلسل پیدا کرتا ہے اور ملت میں تاریخ کا شعور پیدا کرتا ہے۔
اس شعر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وقت کے اندر بکھراؤ کو سمیٹنے کے لیے کوئی مرکزی رشتہ ضروری ہے۔ اگر انسان یا قوم کے پاس ایسا مرکز نہ ہو جو اس کے دی، امروز اور فردا کو ایک لڑی میں پرو دے، تو اس کا زمانہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اقبال کی بعد کی بحث اسی طرف جائے گی کہ ملت اسلامیہ کے لیے وہ مرکز بیت الحرام ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ یا تو ماضی میں قید ہیں یا مستقبل کے خوف میں۔ کچھ لوگ ہر وقت “پرانا سنہرا زمانہ” ڈھونڈتے ہیں، اور کچھ مسلسل آنے والے کل کی فکر میں اپنی موجودہ زندگی کھو دیتے ہیں۔ اقبال اس شعر میں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دی اور فردا دونوں حیات کے زندہ شعور سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آج بیدار ہو جائے تو ماضی بھی سرمایہ بن سکتا ہے اور مستقبل بھی امید۔
یہ شعر ہمیں وقت کے اخلاقی استعمال کا سبق بھی دیتا ہے۔ زندہ انسان اور زندہ ملت اپنے وقت کو صرف گزارتی نہیں، اس سے مستقبل جنم دیتی ہے۔ اگر ہم اپنے آج کو مقصد، حرکت اور صحیح نسبت کے ساتھ جئیں تو ہمارا فردا بھی روشن ہو سکتا ہے۔ یہی وقت کی اصل حکمت ہے جسے اقبال کھول رہے ہیں۔
مثال
جیسے ایک کسان کے لیے موسم کا گزرنا صرف دنوں کا بدلنا نہیں بلکہ بیج، فصل اور آئندہ پیداوار کا رشتہ ہوتا ہے، ویسے ہی زندہ انسان کے لیے وقت ماضی، حال اور مستقبل کو جوڑنے والی کارگاہ ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں وقت کو حیات کی حرکت سے وابستہ کرتے ہیں۔ دیر و زود، دی اور فردا زندگی کی روانی سے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے زندہ فرد اور زندہ ملت اپنے آج کے ذریعے اپنے کل کو جنم دیتی ہے۔
